06:59 am
تین فریق‘ چھ آپشنز

تین فریق‘ چھ آپشنز

06:59 am

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وقتی طور پر تو ملک میں پھیلا ہوا ہیجان تھم گیا ہے مگر اس خاموشی کے پیچھے کون سا طوفان چھپا ہوا ہے
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وقتی طور پر تو ملک میں پھیلا ہوا ہیجان تھم گیا ہے مگر اس خاموشی کے پیچھے کون سا طوفان چھپا ہوا ہے اس کا احساس سب کو ہے۔ اگلے چھ ماہ میں کس نے کیا کرنا ہے اس بات پر تمام حلقوں میں دبے دبے الفاظ میں بحث جاری ہے۔ مگر ہم صورتحال کا تجزیہ کریں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ایکس ٹیشن کے معاملے میں تین واضح فریق ہیں۔ پہلا فریق پی ٹی آئی ہے جس کی حکومت بڑی ہی کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے۔ دوسرا فریق اپوزیشن جماعتیں ہیں جو فی الحال پی ٹی آئی کے عتاب کا شکار ہیں اور تیسرا فریق فوج ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ان تینوں فریقوں کے اہداف کیا ہیں اور ان کے پاس ان اہداف تک پہنچنے کے لئے آپشنز کیا ہیں۔
پی ٹی آئی اور خاص کر عمران خان کا ہدف صرف اور صرف اپنی حکومت بچانا ہے جس کے لئے وہ جنرل باجوہ کی حمایت کے محتاج ہیں۔ لہٰذا ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسی آئینی ترمیم منظور کروائیں جس سے وزیراعظم کو ایکس ٹینشن دینے کا واضح اختیار مل جائے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے اسے اپوزیشن جماعتوں کی مدد درکار ہے۔ اگر نیا قانون ہمارے آئین کو متاثر نہیں کرتا یعنی ترمیم صرف رولز کی حد تک ہی ضروری ہے تب بھی پی ٹی آئی کے پاس سینٹ میں سادہ اکثریت نہیں ہے لہٰذا اسے اپوزیشن کے کافی سارے اراکین کو توڑنا پڑے گا۔ سینٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے وقت انہیں یہ سہولت حاصل تھی کہ ووٹنگ سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے تھی۔ اب ایسا نہیں ہوگا۔ لہٰذا حکومت کے سامنے دو ہی  آپشنز ہیں۔ پہلی آپشن یہ ہے کہ وہ مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مفاہمت کا راستہ اختیار کرے۔ کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر مذاکرات کرے اور مطلوبہ قانون پاس کروالے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں پر اپنے حملے جاری رکھے اور بلیک میل دھونس جبر‘ دھمکیوں کے ذریعے اپوزیشن کے ٹارگٹڈ اراکین کو اپنے حق میں ووٹ دینے پر مجبور کرلے۔ اب پی ٹی آئی کون سا راستہ اپنائے گی اگلے چند ہفتوں میں سامنے آجائے گا۔
دوسرا فریق اپوزیشن جماعتیں ہیں۔ ان کے سامنے بھی دو آپشنز ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ وہ عارضی فائدے کی خاطر سرتسلیم خم کر دیں۔ حکومت کی بات مان لیں اور اپنے اصولی موقف سے ہٹ جائیں۔ اس طرح ان کی سختیاں کچھ کم ہوسکتی ہیں مگر اس کے نتیجے میں ملک میں سیاسی استحکام نہیں آسکے گا اور ہر تین سال بعد ہیجان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپوزیشن کیلئے دوسرا آپشن یہ ہے کہ وہ ایک سخت موقف اختیار کرے۔ جم کر کھڑی ہو جائے اور اپنی طرف سے ایسا بل پیش کرے کہ آئندہ کے لئے ایکس ٹینشن کا راستہ بالکل بند ہو جائے۔ ایسا قانون پاس ہونے سے وقتی طور پر تو خاصا بڑا ہنگامہ کھڑا ہوگا مگر لانگ ٹرم میں ملک میں استحکام آئے گا۔ کوئی آرمی چیف اپنی ایکس ٹینشن کی خاطر سیاستدانوں کے کام میں مداخلت نہیں کرے گا لہٰذا اداروں کے ٹکرائو کی ایک بڑی وجہ دفن ہو جائے گی۔
اپوزیشن جماعتیں اگر آئینی امور پر اتحاد کرلیں تو ان کے لئے بہت سے راستے کھل سکتے ہیں۔ ہماری تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ ہر حکومتی جماعت اپنی اپوزیشن کا استحصال کرتی ہے۔ پی پی پی نے اپنے دور حکومت میں ن لیگ پر ظلم کیا اور ن لیگ نے اپنے وقت میں پی پی پی پر پہاڑ توڑے۔ نیب کا قانون دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا اور اب یہ دونوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ اب تک سیاسی پارٹیوں کو یہ سمجھ تو آچکی ہے کہ وہ جس تیسری پارٹی کی خاطر ایک دوسرے کو تنگ کرتی ہیں اس سے نمٹنے کیلئے انہیں آپس میں اتفاق کی ضرورت ہے۔ نفاق کی نہیں۔
اب آئیے تیسرے فریق کی طرف‘ یعنی فوج تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ فوج کے پاس بھی بظاہر دو آپشن ہیں پہلی آپشن تو یہ ہے کہ وہ اپنا سارا وزن پی ٹی آئی کے پلڑے میں ڈال دے۔ اس طرح پی ٹی آئی کا کام قدرے آسان ہو جائے گا۔ جب مطلوبہ قانون پاس ہو جائے تو پھر پی ٹی آئی کو ان کی نالایقیوں کی مناسب سزا دی جاسکتی ہے اور دوسری آپشن یہ ہے کہ عمران پر سے دست شفقت فوراً ہٹا لیا جائے۔ فارن فنڈنگ یا ایسے ہی کسی معاملے پر اسے نااہل قرار دلوا کر ایک قومی حکومت بنائی جائے جو فوج کے حسب منشا قانون پاس کراوے۔ دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ فوج چار ماہ تک پہلا آپشن رکھے گی اگر انہیں نظر آتا ہے کہ عمران خان مطلوبہ قانون پاس نہیں کروا سکیں گے تو وہ دوسری آپشن پر آجائے گی۔ پھر دمادم مست قلندر بھی ہوسکتا ہے۔
کچھ ایسی باتیں بھی سامنے آئی ہیں جن سے محسوس ہوتا ہے فوج کی ہائی کمان کلی طور ایکس ٹینشن کے حق میں نہیں ہے یعنی کچھ جنرل نہیں چاہتے کہ ایکس ٹینشن کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے اور جونیئر جرنیلوں کی حق تلفی ہوتی رہے۔ اللہ کرے یہ بات غلط ہو مگر اگر یہ غلط نہیں ہے تو خاصے پریشان کن نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ افواہ یہ بھی تھی کہ مولانا فضل الرحمان کو بھی فوج ہی کے ایک حصے کی حمایت حاصل تھی۔ اب وہی حصہ اپوزیشن پارٹیوں کا حوصلہ بھی بڑھا سکتا ہے کہ بیٹا ڈٹ جائو اور یہ ایکس ٹینشن والا قضیہ ہی نکال دو اگر ایسا ہوا تو ملک میں ایک بار پھر ہنگامہ آرائی ہوسکتی ہے مگر یہ ہنگامہ آرائی عارضی ہوگی اور درست قانون سازی کے بعد سیاسی استحکام آجائے گا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سا فریق اپنی کون سی آپشن کو اپناتا ہے۔ اگر ہر فریق نے صرف موجودہ عارضی مفاد سامنے رکھا تو ملک کو مجموعی طور پر نقصان پہنچے گا۔ توقع تو نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کسی مفاہمتی روئیے کا مظاہرہ کرے گی۔ عمران خان نے سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی اپوزیشن کے خلاف تیزو تند ٹیوٹس  برسانے شروع کر دئیے تھے۔ اگر وہ اسی طریقہ کار پر کار بند رہتی ہے اور مطلوبہ قانون‘ دھونس‘ دھمکی سے پاس کروانے کی کوشش کرتی ہے تو ملکی انتشار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف اگر اپوزیشن کمزوری کا مظاہرہ کرتی ہے اور اپنی عارضی مشکلات کو حل کرنے کے لئے چپ چاپ کسی بھی قانون کے پاس ہونے میں رکاوٹ نہیں بنتی تو پاکستان اسی طرح چلتا رہے گا۔ اگر فوج میں اس موضوع میں مکمل اتفاق نہیں ہے تو ایک اور سردجنگ کا آغاز ہوسکتا ہے جو ملکی مفاد میں نہیں ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام فریق اپنی اپنی انا تو ایک طرف رکھ کر قوم کی خاطر سوچیں اور دیرپا حل تلاش کریں۔

 

تازہ ترین خبریں