07:01 am
اقتدار کی فالج زدہ بارگاہیں اور ایوان

اقتدار کی فالج زدہ بارگاہیں اور ایوان

07:01 am

کالم کے آغاز میں حضرت الشیخ پیرومرشد کا ایک مکتوب برکت کے لئے قارئین کی نظر کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت جی اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں
کالم کے آغاز میں حضرت الشیخ پیرومرشد کا ایک مکتوب برکت کے لئے قارئین کی نظر کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت جی اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں کہ  اہم بات یہ ہے کہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی اور مدد کا ذریعہ ہیں، خواب بظاہر اچھا ہو تو اپنے اہل محبت میں سے کسی صاحب عقل کو بتا دیں، لیکن اگر بظاہر اچھا نہ ہو تو آپ نیندسے جاگنے کے بعد ہرگز کسی کو نہ بتائیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگ کر الٹی طرف تین بار تھوک دیں یا تھتکار دیں ، یہ عمل دو رکعت نماز ادا کرکے کریں تو زیادہ بہتر ہے اور کچھ صدقہ کر دیں، بس کام ختم، اگر کوئی شر آنے والا تھا تو اب نہیں آئے گا۔ اب بڑھتے ہیں کالم کی طرف… ہفتے کے دن قاری عبد الرحمن کی ہمراہی میں حیدر آباد تلک چاڑی میں سید محمد اقبال کی عیادت کے لئے ان کے گھر پہنچا تو دن کے گیارہ بج چکے تھے، انتہائی نستعلیق انداز میں اردو بولنے والے سید محمد اقبال کے 25 سالہ ہونہار جگر سید سعد علی 26 اگست2017 ء کو مقبوضہ کشمیر میں لیلیٰ شہادت سے ہم آغوش ہوئے، ایک اردو سپیکنگ خاندان کے چشم و چراغ کا مقبوضہ کشمیر میں جام شہادت  کرنا کوئی اچنبھے کی بات تو نہ تھی لیکن بزنس مین بڑے بیٹے کی شہادت پر بزنس مین باپ کے تاثرات جاننے کا شوق او پھر سب سے بڑھ کر  شہید کشمیر کے باپ کی عیادت کی نیت سے میرے لئے پہلے سے طے شدہ کئی مصروفیات کو ترک کرنا آسان بنا دیا، گو کہ یہ عمران خان کی حکومت کا بے بسی اور بے کسی سے بھرپور وہ دور ہے کہ جس بے بس دور میں بدمعاش نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں کے مسلمانوں پر عبرتناک کرفیو مسلط کر دیا،118 دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا ہوا ہے … نریندر مودی کشمیر کو بھارت کے ایک صوبے میں تبدیل کرچکا ہے اور پاکستان کی عوام کے لئے طاقتور عمران خان حکومت انڈیا کے سامنے بھیگی بلی بنے انتہائی بے بسی کی حالت میں نریندر مودی کی یہ دہشت گردی کھلی آنکھوں سے دیکھتی رہی۔
کشمیری مائیں، بہنیں مدد کے لئے پکارتی رہیں اور عمران خان کرتارپور میں گوردوارہ کی تعمیر سے لے کر افتتاح کی مصروفیات میں مشغول رہے، کشمیر کی عفت مآب بیٹیاں اپنی عصمتوں کے دفاع کے لئے امید بھری نظروں سے پاکستان کی طرف دیکھتی رہیں  او ر بادشاہ سلامت کا یہ فرمان جاری ہوا کہ پاکستان سے کشمیر میں جہاد کے لئے جانا کشمیریوں سے دشمنی ہے، جوان سالہ سید سعد علی2017 ء کے اس دور میں مقبوضہ کشمیر کی مائوں، بہنوں، بیٹیوں کی عصمتوں کا دفاع کرتے ہوئے شہادت عظمیٰ کی نعمت سے سرفراز ہوئے کہ جب کسی پاکستانی کا جہاد کشمیر میں شریک ہونا کشمیریوں کے ساتھ دشمنی ڈکلیئر نہیں ہوا تھا۔
کشمیر کے جہاد کی بات کرنا یا کشمیر کے جہاد میں شرکت کو کشمیریوں کے ساتھ دشمنی سے تعبیر کرنے کا حاکم وقت کا یہ فلسفہ جب تاریخ کے اوراق میں رقم ہوگا تو آنے والی نسلیں حاکم کے اس ’’فلسفے‘‘ کو پڑھ کر حیرت کے سمندر میں غوطہ کھانے پر مجبور ہو جائیں گی ، سید محمد اقبال پر تقریباً16 ماہ قبل فالج کا شدید حملہ ہوا مگر مجھ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے میں تو بالکل ٹھیک ہوں … اس حالت میں بھی کشمیر کی آزادی کی خاطر جان دینا سعادت سمجھتاہوں ، لیکن کشمیر کی آزادی کے حوالے سے حکمرانوں اور سیاست دانوں کا  کردار دیکھ کر ایسے لگتاہے کہ فالج کا حملہ مجھ پر نہیں بلکہ اقتدار کی بارگاہوں اور ایوانوں پر ہوا ہے۔
سید محمد اقبال1985ء سے لے کر 1990ء تک ایم کیو ایم کے انتہائی سرگرم کارکن اور مفرور لندن الطاف حسین کے باڈی گارڈ بھی رہے ، آج جب وہ  اپنے اس دور کو یاد کرتے ہیں تو انتہائی رقت بھرے اندا ز میں کہتے ہیں کہ جوانی کا وہ دور ان کی بدترین گمراہی کا دور تھا کہ جب ایک وحشی انسان نے حقوق کے نام پر ان کی آنکھوں پر لسانیت کی پٹی باندھ کر اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔
الطاف حسین کے شیطانی کردار کو بھانپتے ہوئے انہوں نے 1990 ء میں ہی ایم کیو ایم سے اپنا تعلق توڑ لیا، شاید ان کی یہی نیکی آگے چل کر ان کے کام آئی کہ 2017 ء میں اللہ پاک نے انہیں شہید کشمیر کا والد بننے کا اعزاز ان کے سر پر سجا دیا، انہوں نے بڑے دکھ سے کہا کہ72 سال پہلے ہمارے بڑے ہندوستان ے سیکولر ازم کو لات مار کر پاکستا ن کے شہر حیدرآباد پہنچے تھے تو اس کی وجہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کی امید تھی، مگر آج72 سال بعد کچھ ’’پاپی‘‘ ہمیں بتاتے ہیں کہ پاکستان تو لبرل اور سیکولر بنانے کے لئے حاصل کیا تھا…71 سال پہلے پاکستان کے قبائلی مجاہدین نے کشمیریوں کے شانہ بشانہ بھارتی فوج کے خون آلود منہ سے خطے کے ایک حصے کو آزادی دلوا کر آزاد کشمیر بنایا تھاتب اس کا رنامے کو ’’جہاد‘‘ اورکارنامہ سرانجام دینے والوں کو ’’مجاہدین‘‘ کہا جاتا   تھا۔
لیکن71 سال بعد وزیراعظم عمران خان ہمیں بتاتے ہیں کہ کشمیر کے جہاد میں شرکت کرنا کشمیریوں سے دشمنی ہے، انہوں نے فالج کا نشانہ بننے والے اپنے بازو کو پوری طاقت سے اٹھا کر اللہ اکبر کا نعر ہ لگاتے ہوئے کہا کہ ہاشمی صاحب! دنیا والوں کو بتا دینا کہ فالج کا نشانہ میرا بازو اور ٹانگ بنی ہے، مگر میرا دماغ اور دل ابھی سلامت ہے، رونا تو ان پر آتا ہے کہ جن کے دماغ او دل فالج زدہ ہوگئے، جن کے کان کشمیری بہنوں کی چیخیں سننے سے بہرے ہوگئے، جو دنیا کو تو کشمیریوں کی مدد کے لئے پکار رہے ہیں مگر تمام تر طاقت رکھنے کے باوجود خود بے بسی اور بے کسی کی تصویر بنے بھارتی ظلم و سربریت کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، کراچی اور حیدر آباد کے مہاجر جوانوں پر الطاف حسین جیسا خونی عفریت مسلط کرنے والا کون تھا؟
مہاجر جوان محب وطن ہیں ، ان کی حب الوطنی پر سوالات اٹھانے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر جھانکنے کی کوشش کریں کیونکہ مہاجر نوجوانوں کو لسانیت کے نام پر گمراہ کرنے والے بدنا م زمانہ الطاف حسین کو ہر دور کے حکمرانوںنے حکومتی چھتری فراہم کی۔
سید محمد اقبال اس72 سالہ پرانے پاکستان کو ڈھونڈ رہے ہیں کہ جس پاکستان میں کشمیر کے جہاد کی بات کرنا جرم نہ تھا ، جس پاکستان میں غریب کو آسانی کے ساتھ تین وقت کا کھانا میسر تھا، جس پاکستان میں الزام تراشیوں، بہتان بازیوں، بازاری لب و لہجے ، گالم گلوچ کو اظہار رائے کی آزادی نہیں سمجھا جاتاتھا، سچی بات ہے کہ شہید کشمیر سید سعد علی کے فالج زدہ باپ کی ان روشن  باتوں کا اس خاکسار کے پاس کوئی جواب نہ تھا، اللہ پاک انہیں صحت کاملہ عاجلہ اور کشمیریوں کو آزادی کی دولت نصیب فرمائے۔ (آمین)

 

تازہ ترین خبریں