07:02 am
بالادستی کی چھڑی

بالادستی کی چھڑی

07:02 am

بلے باز، بالرز، آل رائونڈرز سب موجود مگر ٹیم ناکامیوں سے دوچار، بیٹنگ آرڈر بھی تبدیل کر کے دیکھ لیا، بالرز کو بھی ادھر ادھر کر ڈالا
بلے باز، بالرز، آل رائونڈرز سب موجود مگر ٹیم ناکامیوں سے دوچار، بیٹنگ آرڈر بھی تبدیل کر کے دیکھ لیا، بالرز کو بھی ادھر ادھر کر ڈالا جانے کیوں پھر بھی معاملہ نہیں بن رہا۔ بلے باز باہر جاتی بالوں پر وکٹیں گنوانے پر تلے بیٹھے ہیں، بالرز بیچارے کیا کریں ہر بال پر چوکا، چھکا، رنز کا پہاڑ، شکست پر شکست، تگڑی اسٹیبلشمنٹ تجربوں پر تجربہ کرتی جا رہی ہے مگر سب فیل، ٹی ٹیونٹی، ون ڈے یا پھر ٹیسٹ ہر امتحان میں جگ ہنسائی، کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ کھلاڑی حیران، قوم پریشان مگر اسٹیبلشمنٹ کی بیمثال خود اعتمادی اس سے زیادہ حیران کن ہے۔ اب کیا کیا جائے اگر پرانے کپتان کو بلایا جاتا ہے تو انا آڑے آتی ہے، ٹیم بیشک ناکام ہو مگر اسٹیبلشمنٹ اپنے اوپر ناکامی کا داغ کیسے لگوائے۔
حضور ذکر تو کرکٹ کا ہے اگر آپ ملکی سیاست کی بات سمجھے تو بھی اتنا غلط نہیں، سچ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت جس عزم و اعتماد کیساتھ اپنا مذاق اڑواتی ہے اسکا کوئی ثانی نہیں ہے۔ سپہ سالار کی تعیناتی میں حکومتی کارکردگی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی مگر مجال ہے کہ کسی ایک بھی وزیر یا مشیر نے شرمندگی کا اظہار کیا ہو بلکہ دھڑلے سے دنیا کو بیوقوف بنانے پر تلے ہیں۔ جانے کس نے مشورہ دیا تھا کہ وزیر اعظم تین ماہ پہلے  ایوان وزیر اعظم سے تعیناتی کا خط جاری کریں، پھر صدر مملکت پہلے فرماتے ہیں کہ کوئی سمری نہیں آئی، تین ماہ بعد یاد آیا کہ سمری تو آ گئی تھی اور دستخط بھی کیے جا چکے ہیں، ایوان صدر اور ایوان وزیر اعظم کے درمیان توسیع کی سمری شٹل کاک بنی رہی۔ عدالت عظمی میں کارروائی کے دوران علم ہوا کہ سمری تو تعیناتی اور دوبارہ تعیناتی کی تھی، کابینہ نے بھی اسی کی منظوری دی اگرچہ معاملہ توسیع کا تھا۔ اب وزرا اور مشیران کی فوج قوم کو یہ ثابت کرنے پر تلی بیٹھی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے، سب ایک پیج پر ہیں، سول و عسکری تعلقات تاریخی ہیں، عدلیہ کا احترام قومی فریضہ ہے، دشمن سازشوں میں ناکام ہو گیا، چلیں مان لیا مگر کپتان کو یہ تو سمجھنا چاہیئے کہ موجودہ ٹیم کے ہوتے ہوئے الحمداللہ آپ کو کسی دشمن کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
سرکار، یہ ان دنوں کی بات ہے جب آتش جوان بلکہ نوجوان تھا، اخبار میں انٹرن کی حیثیت سے گیا تو ایک خبر بطور امتحان بنانے کو دی گئی۔ خبر بنا کر ایک نیم بزرگ سب ایڈیٹر کی خدمت میں پیش کی۔ گورا رنگت، کھچڑی بال والے بڑے صاحب، ناک کی نوک پر چشمہ رکھتے ہوئے انہوں نے ہاتھ میں خبر لی، ایک نظر دیکھا پھر اوپر سے نیچے تک مجھ پر بھرپور نظر ڈالی، دوبارہ خبر کی جانب متوجہ ہوئے اور بولے بھئی واہ، بہت اعلی، شاباش، کھڑے کیوں ہیں بیٹھیے بیٹھیے، اپنی بنائی خبر کی تعریف سنکر خوش ہوتے سامنے کرسی پر بیٹھ گئے، انہوں نے خبر کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے پھر دو بار واہ، واہ کیا بات ہے، پھر یکایک فرمانے لگے میاں ایک بات تو بتائیں، ایک سطر میں اتنی غلطیاں کرنے کی صلاحیت پہلے سے موجود تھی یا کسی سے سیکھی ہے؟ پہلے پہل تو سمجھ نہیں آیا کہ کیا گزر گئی مگر نیوز روم میں قہقہوں کی گونج سے سب اچھی طرح سمجھ آ گیا۔ یقین جانیں پسینے چھوٹ گئے، کنپٹیوں تک خون کی گردش تیز ہو گئی جواب دینے کی جو کوشش میں منمناہٹ نما آواز نکلی خود کو بھی سمجھ نہ آئی، آج بھی وہ لمحہ یاد آتا ہے تو عجب سی خجالت کا احساس ہوتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ انہی صاحب نے صحافت کے رموز انگلی پکڑ کر طے کروائے۔ شاید کچھ اسی طرح کا احساس عمران خان کو بھی ہوا ہو، کابینہ اور وزارتیں ایک سمری بھی بنانے سے قاصر ہیں تو کیا گزرتی ہو گی۔
جناب من اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ تعیناتی ہوئی ہے یا دوبارہ تعیناتی یا توسیع، بہرحال جو کچھ ہوا اسے قانون میں توسیع ضرور کہا جا سکتا ہے چونکہ چھ ماہ میں پارلیمان قانون سازی کریگی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپوزیشن سے ایسے تعلقات کے باوجود یہ قانون پارلیمنٹ میں کیسے منظور ہو گا تو شیخ رشید اسکا جواب یوں دیتے ہیں کہ ہمیں فکر نہیں جنکا مسئلہ ہے وہ خود حل کر لینگے، ن لیگ بھی ووٹ دیگی اور پیپلز پارٹی بھی، شیخ صاحب ماشاللہ اب بزرگ سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں پتہ نہیں ایسے بیانات کے ذریعے فوج کی خدمت کرتے ہیں یا دشمنی، مگر یہ ضرور ہے کہ گزشتہ بیس، پچیس سالوں سے ان کے نزدیک ہر آرمی چیف قوم کی آخری امید اور پروفیشنل سولجر ہوتا ہے۔ شیخ صاحب کا معاملہ تو اپنی جگہ مگر شاید معاملے کو سب سے زیادہ خراب وزیر اعظم نے کیا جب انہوں نے باقاعدہ سپریم کورٹ اور معزز جج صاحبان کو بھرے جلسے میں نصیحت کی جسکا کافی و شافی جواب معزز چیف جسٹس صاحب نے دیا، عدالت میں حکومت کی ناسمجھی اور نااہلی کو پول ایسا کھلا کہ عوام آج تک حیران ہیں مگر وزیر اعظم کی خود اعتمادی اپنی جگہ قائم ہے، بہرحال معاملہ نمٹتے ہی وزیر اعظم نے خاموشی توڑی اور ایک بار پھر جلسوں میں بلند و بانگ دعوے اور اپوزیشن پر برسنا شروع کر دیا۔ حکومتی نااہلی کے باعث پاکستان دنیا بھر میں مذاق بن کر رہ گیا اور وزیر اعظم اور ان کے دائیں بائیں اسے بیرونی دشمن اور اندرونی مافیا کی کارستانی قرار دے رہے ہیں، حضور جان کی امان پائوں تو یہ پوچھنا ضرور چاہتا ہوں کہ اس دوران اگر ایک بھی بیان اپوزیشن کی جانب سے آیا ہو تو بتائیں، ہاں یہ حقیقت ہے کہ اس حساس معاملے پر وزرا کے متضاد بیانات خبروں کی زینت رہے، میڈیا محتاط رہا مگر حکومت کے بے احتیاطی غالب رہی، عوام وزرا کی پراعتماد قانونی غلطیوں پر گنگ رہے، تو پھر قصور کس کا ہے؟
اعتراف کرتا ہوں کہ پہلے میں ملازمت میں توسیع کے معاملے کی اہمیت سے واقف نہ تھا، جناب وزیر اعظم اس معاملے پر آپ کے ٹھوس اصولی دلائل سنکر اہمیت کا اندازہ ہوا، پتہ چلا کہ کیسے میرٹ قتل ہوتا ہے، کتنے سنگین اثرات پڑتے ہیں اداروں اور معاشرے پر، مغرب کی مثالوں سمیت آپ کے پرانے انٹرویو دیکھتا ہوں تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں، میں قائل ہو گیا کہ اس سے زیادہ مضر کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ لگ بھگ تین سال پہلے جب جنرل راحیل شریف کی نے توسیع نہ لینے کا عہد کیا تو معاملے کا صوفیانہ اور روحانی پہلو سامنے آیا، پتہ چلا ملازمت میں توسیع گویا شرعی طور پر حرام کے مترادف ہے، میرا عقیدہ اور راسخ ہو گیا۔ مگر لگتا ایسا ہے کہ میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا، حضور بتائیں اب میں کیا کروں، کچھ سمجھ نہیں آتا، کچھ  بھی تو نہیں، کیا کروں!
ویسے آپس کی بات ہے جو کچھ ہمارے یہاں ہوتا ہے اسکی نظیر دنیا بھر میں نہ ملے گی چونکہ دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ بڑے بڑے سیاستداں حتی کہ وزرا اعظم فخریہ کہیں کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں، سول و عسکری تعلقات بہترین سطح پر ہیں، دنیا میں کہیں بھی فوج حکومت کو مشورہ دینے کی جسارت بھی نہیں کر سکتی۔ چلیں چھوڑیں بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ایک بار پھر عدالت عظمی نے پارلیمان کے ہاتھ میں بالادستی کی چھڑی پکڑائی ہے، دیکھیں حکومت اس چھڑی کو سنبھالتی ہے یا ففتھ جنریشن وار کی بھیڑ میں کہیں کھو دیتی ہے۔

 

تازہ ترین خبریں