07:04 am
خدا کے بندے!

خدا کے بندے!

07:04 am

اگلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا۔ اس کے یہاں ایک جادوگررہاکر تاتھاجب جادوگربوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں
اگلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا۔ اس کے یہاں ایک جادوگررہاکر تاتھاجب جادوگربوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری موت کا وقت آیاہے مجھے کسی بچے کو سونپ دو تاکہ میں اسے جادوسکھادوں چنانچہ بادشاہ نے ایک ذہین اورسمجھدار بچے کو تلاش کرکے اس کے پاس بھیج دیا۔وہ اس بچے کو جادو پڑھانے لگا۔ بچہ پڑھنے کے لئے اس کے پاس آنے جانے لگا ۔اس کے آنے جانے کے راستے میں ایک درویش کا گھر تھا۔فقیر بڑا نیک تھا اور رات دن نماز اور عبادت میں اور وعظ ونصیحت اور کلام الٰہی اور دینی تعلیم میں مشغول رہتا تھا۔بچے اور بڑے اس کے پاس آکر دینی کتابیں پڑھتے۔ جب یہ بچہ اس درویش کے گھر پہنچتا اور لوگوں کوپڑھتا دیکھتا تووہاں کھڑا ہو جاتا اور اس کی عبادت اور پوجا پاٹ کو دیکھتا اس کے وعظ ونصیحت کو سنتا۔ یہاں سے جاکر جادوگر کے پاس جادو پڑھتا۔ اسی طرح سے بہت دنوں تک کرتارہا۔ درویش کے پاس اس کی تعلیم کوسنتاتو جادوگر کے یہاں پہنچنے میں دیر ہو جاتی تب جادوگراسے مارتا اور واپسی کے وقت جب درویش کے پاس کھڑا ہوتا اور گھر پہنچنے میں دیر ہو جاتی او رماں باپ مارتے ۔اسی طرح یہ بچہ دونوں جگہ مارا جا تا۔ ایک مرتبہ اس نے درویش کے سامنے اس کی یہ شکایت بیان کی تو درویش نے کہا جب جا دوگر تم سے پوچھے کہ کیوں دیر لگ گئی تو کہہ دینا گھر والوں نے روک لیا تھا۔ اور جب گھر والے ناراض ہوں تو کہہ دینا جادوگر نے روک لیا تھا۔اسی طرح کرتے کرتے ایک زمانہ گزر گیا کہ ایک طرف تو جادو سیکھتا تھا اور دوسری طرف کلام الٰہی اور اللہ تعالیٰ کا دین سیکھتا تھا ایک دن یہ دیکھتا ہے کہ راستے میںا یک خطرناک جانور بیٹھا ہوا ہے جس نے لوگوں کی آمدو رفت بند کر رکھی ہے۔
اِدھر والے اُدھر اوراُدھر والے اِدھر نہیں آسکتے اور سب لوگ حیران و پریشان کھڑے ہیں۔ اس بچے نے اپنے دل میں سوچا کہ آج موقع ہے میں امتحان کرلوں اورآزمالوں کہ درویش کا دین سچا ہے یاجادوگر کا۔ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور یہ کہہ کر اس پر پھینکا کہ خدایا! اگر تیرے نزدیک درویش کا دین اور اس کی تعلیم جادوگر کی تعلیم سے بہتر اور حق ہے تو تو اس جانور کو پتھر سے ہلاک کر دے۔ تاکہ لوگوں کو اس بلا سے نجات ملے۔ پتھر لگتے ہی وہ جانور مر گیا اور لوگوں کا آنا جانا شروع ہوگیا۔ پھر درویش کو اس نے خبر دی اس نے کہا، پیارے بچے اب تو مجھ سے افضل ہے اور مجھ سے تو بڑھ گیا ہے اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہوگی اگر ایسا ہوا تو کسی کو میری خبر نہ کرنا۔ اب اس بچے کے پاس حاجت مند اور ضرورت مند آنے لگے اور اس سے دعا کی درخواست کرنے لگے۔یہ بچہ دعا کر دیا کرتا۔ اس کی دعا کی برکت سے مادر زاد اندھے…اور کوڑھی اور ہرقسم کے بیماراچھے ہونے لگے۔ بادشاہ کے ایک نابینا وزیر کے کان میں یہ آواز پڑی وہ بڑے تحفے تحائف لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگاکہ اگر تو مجھے اچھا کر دے تو یہ سب کچھ تجھے دے دوں گا۔ اس بچے نے کہا کہ نہ میں اچھا کر سکتا ہوں اور نہ میرے ہاتھ میں شفا ہے شفا دینے والا اور اچھا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ تو اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور پکا سچا مسلمان ہوجائے تو میں اللہ سے دعا کروں گا وہ تجھے اچھا کر دے۔ اور تیری آنکھوں کو روشن کر دے گا۔ اس نے اقرارکر لیا اور خدائے واحد پر ایمان لے آیا۔ بچے نے اس کے لئے دعا کی اللہ تعالی نے اسے شفا دے دی۔ وہ بادشاہ کے دربار میں آیا جس طرح اندھا ہونے سے پہلے کام کرتا تھا ویسے ہی کام کرنے لگا۔ اس کی آنکھیں بالکل روشن ہوگئیں۔ بادشاہ نے متعجب ہو کر پوچھا کہ تجھے کس نے آنکھیں دیں اس نے کہا میرے رب نے۔ بادشاہ نے کہا میں نے دی ہیں۔ یہ بادشاہ اپنے آپ کو رب کہتا تھا اور لوگوں سے کہلواتا تھا۔ وزیر نے کہا نہیں نہیں۔ میرا اور تیرا رب ایک اللہ ہے۔ اس نے میری آنکھیں روشن کی ہیں۔ بادشاہ نے کہا میرے علاوہ بھی کوئی معبوداور رب ہے؟ وزیر نے کہا ہاں… میرا اور تیرا رب اللہ وحدہ لا شریک ہے۔ اب بادشاہ نے اس وزیر کی مار پیٹ شروع کر دی اور طرح طرح کی تکالیف اور ایذا پہنچانے لگا اور کہنے لگا کہ تجھے کس نے یہ تعلیم دی ہے؟ آخر اس نے بتایا کہ اس بچے کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے۔ اور اس نے یہ تعلیم دی ہے اس نے اسے بلوایا اور کہا اب تو تم جادو میں کامل اور ماہر ہو گئے ہو کہ اندھوں کو بینا اور بیماروں کو تندرست کرنے لگے۔ اس نے کہا غلط ہے نہ میں کسی کو شفا دے سکتا ہوں نہ جادو۔ شفا اللہ عزوجل کے ہاتھ میں ہے کہنے لگا یعنی میرے ہاتھ میں ہے کیونکہ اللہ تو میں ہی ہوں اس نے کہا ہرگز نہیں۔ کہا پھر کیا تو میرے سوا کسی ا ور کو رب مانتا ہے تو وہ کہنے لگا ہاں! میرا اور تیرا رب اللہ تعالی ہے اس نے اسے بھی طرح طرح کی سزائیں دینی شروع کیں۔ یہاں تک کہ درویش کا پتہ لگا لیااور درویش کو بلا کر اس سے کہا کہ تو اسلام کو چھوڑ دے اور اس دین سے پلٹ جا۔ اس نے کہا نہیں چھوڑوں گا۔ تو اس بادشاہ نے آرے سے اسے چیر دیا اور ٹھیک دو ٹکڑے کر کے پھینک دئیے۔ پھر اس نوجوان سے کہا کہ تو بھی دین سے پھر جا۔ اس نے بھی انکار کیا تو اس پر بادشاہ نے حکم دیا کہ ہمارے سپاہی اسے فلاں پہاڑ پر لے جائیں اور اس کی بلند چوٹی پر پہنچ کر پھر اسے اس کے دین چھوڑنے کو کہیں اگر مان لے تو اچھا ہے ورنہ وہیں سے اسے نیچے گرا دیں۔ چنانچہ یہ لوگ اسے لے گئے۔ جب وہاں سے دھکا دینا چاہا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ خدایا !جس طرح تو چاہے مجھے ان سے نجات دے اس دعا کے ساتھ ہی پہاڑ ہلا اور وہ سب سپاہی لڑھک گئے۔ صرف وہ بچہ ہی بچا رہا۔ وہاں سے اترا اور پھر اس ظالم بادشاہ کے پاس آگیا۔
بادشاہ نے کہا یہ کیا ہوا میرے سپاہی کہاں ہیں؟ فرمایا میرے خدا نے مجھے ان سے بچا لیا۔ اس نے کچھ اور سپاہی بلوائے اور ان سے کہا اسے کشتی میں بٹھا کر لے جائوا ور بیچوں بیچ سمندر میں ڈبو کر چلے آئو۔ اُس نیکوکار بچے نے پھر خدائے بزرگ و برتر کے حضور دُعا کی کہ اے خدا تو ہی مجھے بچانے والا ہے۔ موج اٹھی اور وہ سپاہی سارے کے سارے سمندر میں ڈوب گئے۔ صرف وہ بچہ ہی باقی رہ گیا۔ پھر یہ بادشاہ کے پاس آیا اور کہا، میرے رب نے مجھے ان سے بچا لیا۔ اے بادشاہ تو چاہے تمام تر تدبیریں کر ڈال لیکن مجھے ہلاک نہیں کر سکتا اس بچے کا نام عبد اللہ بن تامر تھا۔ حدیث کی کتابوں ، مسلم ، ترمذی ، احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ صحابہ کرامؓ کو سنایا۔ اب ہم کو اس واقعہ سے سبق حاصل کرنا ہے کہ جب تم کو کمال حاصل ہو جائے تو اس سے مخلوق کو فائدہ پہنچائو جیسا کہ اس بچے نے دعا کر کے خطرناک جانور کو ہلاک کر دیا اور لوگوں کے لئے راستے کو صاف کر دیا۔ تکلیف دہ چیز کو راستہ سے دور کر دینا ایمان کی ایک شاخ ہے اور نیک دعائوں کی برکت سے اس بچے نے اندھوں اور کوڑھیوں کو فائدہ پہنچایا۔امرِواقعہ یہ ہے کہ جب دین حق کی کوئی بات پوچھی جائے تو سچ سچ بیان کردو۔ حق کے بیان کرنے میں نہ کسی بادشاہ سے ڈرو اور نہ کسی ظالم کے ظلم سے خوف کھائو۔ نہایت دلیری اور بہادری سے حق بات پر جمے رہو۔ خدا تمہاری امدا دکرے گا۔جب تم اچھا کام کرو گے تو تمہارا نام بھی باقی رہے گا اور نیکی کے ساتھ تم کو بھی یاد کریں گے۔

 

تازہ ترین خبریں