07:43 am
نئے فساد کی بنیاد

نئے فساد کی بنیاد

07:43 am

 سوشل میڈیا پر نیا  شور و غوغا بپا ہے ! طلبہ یونین بحال کروانے کے لیے ملک بھر میں یکا یک مظاہرے شروع ہوئے ہیں ۔ طلباء کے حقوق کی بات کی جا رہی ہے۔ حقوق کی بات کرنا بری بات نہیں ۔ اگر حقوق غصب کئے جا رہے ہوں تو جائز اور مہذب انداز میں جد و جہد کرنا بھی درست ہے۔ لیکن مختصر مدت میں   یکا یک طلباء کا  ملک گیر تحرک ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہاں ڈاکٹر جیسا معزز پیشہ یونین بازی کے شوق میں رکشہ ڈرائیور اور مل مزدور کی طرح احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اپنے بنیادی فریضے یعنی انسانی جان کی حفاظت کو نظرانداز کردیتا ہے۔ مسائل کی کمی نہیں
، منصوبہ بندی کی  عادت  نہیں  اور وسائل کا  سرکاری  محکموں  کے ہاتھوں  بے دریغ  زیاں اس قدر عام ہے کہ ہر شہری چلتا پھرتا شکایت نامہ ہے۔ طلباء بھی اس محرومیوں کے مارے سماج کا وہ حصہ ہے  جس کی آنکھوں میں مستقبل کے سپنے ہیں ۔ فی الحال کاندھوں پر کوئی خاص زمہ داری نہیں لیکن تعلیم کی تکمیل کے بعد  اپنے خاندان کا سہارا بننے کے لیے بہتر روزگار کی خواہش  تقریباً  ہر طالبعلم کے ذہن پر سوار ہے ۔ طلباء کا بنیادی حق علم کا حصول ہے۔ یہ حق اُن طلباء کے لیے فریضہ بن جاتا ہے جن کے والدین اپنا پیٹ کاٹ کر اور اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر تعلیمی اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ بھاری تعلیمی اخراجات کے خلاف طلباء کا احتجاج درست ہے۔ اس احتجاج میں تو اُن  والدین کو بھی شریک ہونا چاہیے جو معاش کی چکی پیس کر  یہ بھاری اخراجات برداشت کر رہے ہیں ۔ کئی جامعات میں طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں ۔ تازہ واقعہ بلوچستان یونیورسٹی میں رونما ہوا ۔  کیا  احتجاج سے پہلے طلباء  ہراسگی کی وجوہات اور پس منظر  پر غور کرنے کو تیار ہیں ؟ میڈیا خصوصاً ٹی وی ڈراموں اور مارننگ شوز کے ذریعے معاشرے میں  تیزی سے پروان چڑھنے والی بے راہ روی کو روکے بنا کوئی طلباء یونین کس طرح ہراسگی کا مسئلہ حل کر سکتی ہے؟ طالبعلم کا بنیادی فریضہ علم کا حصول ہے نہ کہ سیاسی  تربیت کا حصول! تعلیمی ادارے درس و تدریس کے لیے بنے ہیں ! یہ شعور کی بیداری  اور صحتمند مباحث  کے مراکز ہیں ! انہیں کسی مخصوص سیاسی جماعت کی نرسری یا اکھاڑہ نہیں بننے دینا چاہیے؟ تعلیم ، تربیت ، مباحث اور شعور کو پروان چڑھانے والی صحتمند سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے یونینوں کی نہیں بلکہ غیر سیاسی ادارہ جاتی سوسائیٹیز اور کمیٹیز  کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ طلباء یونینز کے نام پر تعلیمی اداروں کی تباہی ہماری تاریخ کا بدنما باب ہے۔ سیاسی جماعتوں کے طلباء ونگز کے سیاہ کارناموں کی بدولت کئی نوجوانوں کے مستقبل برباد ہوئے۔ جامعات  کے ہاسٹلز اور کلاس رومز سیاسی غنڈوں کے اڈے بن گئے۔ ستر اور اسی کی دہائی میں مہران یونیورسٹی میں لسانی تنظیموں ، سندھی قوم پرستوں اور بھانت بھانت کے کامریڈوں  کی غنڈہ گردی اور  اجارہ داری کی بدولت حیدرآباد شہر سے تعلق رکھنے والے غیرسندھی طلباء جامعہ میں قدم نہیں رکھ سکتے تھے۔ شہر میں قائم کالجز میں الطاف بھائی کی ایم کیو ایم کے بطن سے جنم لینی والی اے پی ایم ایس او کا راج تھا ۔ لطیف آباد میں واقع کالج اور پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ پر پنجابی پختون لسانی تنظیموں کے غنڈے اور اُچکے قابض تھے۔ یونینوں اور طلباء تنظیموں کی غنڈہ گردی کی بدولت تعلیمی کلچر برباد ہوا ، نوجوانوں کے تعلیمی سال برباد ہوئے ، غنڈہ گردی اور تشدد کا بھیانک رجحان پروان چڑھا اور کئی گھرانے برباد ہوئے۔ بعض حکومتی وزراء طلباء یونینوں کو مستقبل کی سیاسی قیادت کی نرسری قرار دے رہے ہیں ۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان نرسریوں سے لنگڑے ، کانڑے، ٹنڈے اور کُن ٹٹے جیسی مجنونانہ عرفیت رکھنے والے ٹارگٹ کلر ، بھتہ خور اور دہشت گرد وں نے بھی جنم لیا ۔ انہی نرسریوں میں قوم پرستی کے نام پر بھارت کے وظیفہ خوروں نے دو قومی نظرئیے کے خلاف زہر اُگل کر  نوجوانوں کے اذہان میں زہر بھرا۔ کیا وجہ ہے کہ بلوچ ، سندھی ، پنجابی ، پشتون اور مہاجر شناخت پر ناز کرنے والے ہر قوم پرست اور نام نہاد کامریڈ کا کوئی نہ کوئی سرا نئی دلی میں ہندوتوا نظرئیے کے پجاریوں سے جاملتا ہے؟ اسی کے عشرے میں ایم اکیوایم اور پی پی پی کی طلباء تنظیموں کے غنڈوں نے جب اپنے مخالفین کو یرغمال بنایا تو قتل و غارت کو روکنے کے لیے فوج کی نگرانی میں یرغمالیوں کا تبادلہ کیا گیا تھا ۔ لسانی زہر اور دہشت گردی کے ہتھیار کے بعد اب طلباء یونین کی آڑ میں فحاشی ، عریانی ، لادینیت ، ہم جنس پرستی اور اسلام دشمن مذہب بیزاری کے ایجنڈے کو فروغ دینے کی مہم شروع کی گئی ہے۔ چند روز قبل ایک صوبے کی ثقافت کی آڑ لے کر اسلام آباد کی ایک مایہ ناز سرکاری جامعہ کے طلباء نے شکر پڑیاں میں رات گئے تک  شراب نوشی  اور مادر پدر آزاد بے باکیت کا جو  طوفانِ بدتمیزی بپا کیا وہ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ آگے چل کر انہی  طلباء  کو استعمال کر کے  یونینوں کی آڑ میں کیا گل کھلائے جائیں گے؟ کیا وجہ ہے کہ ماضی میں روس کے کمیونسٹ انقلاب کے پجاری  اب مغرب کے پرستار بنے بیٹھے ہیں ؟ تمام مذہب بیزار اور نظریہ پاکستان سے بیر رکھنے والی این جی اوز اور سوشل میڈیائی مینڈک اچانک طلباء یونینوں کی حمایت میں کیوں ٹرانے لگے ہیں؟ والدین اپنے بچوں کو  جامعات میں علم حاصل کرنے بھیجتے ہیں  نہ کہ  سیاسی تربیت کے لیے۔  بھلا کوئی ماں باپ اپنی آنکھ کے تاروں کو تربیت کے لیے لندن میں روپوش بھگوڑے دہشت گرد یا منی لانڈرنگ اور کرپشن میں سزا کاٹنے والے چوروں  کے حوالے کر سکتے ہیں ۔ صاف ظاہر ہے کہ  طلباء یونینوں کی آڑ میں تعلیمی اداروں میں ایک نئے فساد کی بنیاد رکھنے کی سر توڑ کوششیں کی جارہی ہیں ۔ 

تازہ ترین خبریں