07:43 am
لیکن کب تک؟

لیکن کب تک؟

07:43 am

سوبدائی بہادرمنگولوں کے عظیم بادشاہ چنگیز خان کاایک نامورسالارگزراہے۔خانہ بدوش منگول لٹیرے تموجین سے خان اعظم چنگیزخان بننے تک کے سفر میں سوبدائی کاسب سے اہم حصہ رہاہے۔عسکری ماہرین کہتے ہیں کہ اگرسوبدائی چنگیزخان کا کمانڈرنہ ہوتاتوشایدمنگول اس قدرحیران کن فتوحات نہ حاصل کرپاتے۔سوبدائی نے بیس کے قریب جنگیں اور بے شمارلڑائیاں لڑیں ،مگر کسی میں شکست نہیں ہوئی۔کہا جاتاہے کہ بطورکمانڈراس نے جس قدرعلاقہ فتح کیا،انسانی تاریخ میں اس کی کوئی اورمثال نہیں ملتی۔سوبدائی انتہائی زیرک اورشاطرجنگجوتھا۔اس نے عسکری تاریخ میں کئی نئی اوراچھوتی چالیں متعارف کرائیں۔منگول لشکرکاسب سے اہم عسکری حربہ’ ’تولوغمہ‘‘تھا۔کہاجاتاہے کہ اس کابانی بھی سوبدائی بہادرہی تھا۔اہم معرکوں میں منگول لشکر جنگ شروع ہونے کے کچھ دیربعدپسپاہوناشروع کردیتا۔مخالف سمجھتے کہ منگول شکست کھاکربھاگ رہے ہیں۔یوں وہ زیادہ جوش وخروش سے آگے بڑھ آتے۔ ادھرمنگول لشکرکادرمیانی حصہ(قلب)پیچھے ہٹ جاتا، مگر دونوں بازواپنی جگہ پرقائم رہتے۔جب مخالف فوجی خاصا آگے آجاتے توپیچھے ہٹنے والے منگول سپاہی پلٹ کر حملہ کردیتے،اس کے ساتھ ہی دونوں بازو بھی دشمن لشکرکوگھیرے میں لے لیتے۔اس حربے سے منگولوں نے کئی بڑی فوجیں تباہ کیں۔یہ اوربات ہے کہ خود منگولوں کے زوال کاباعث بھی یہی حربہ بن گیا۔ اسلامی تاریخ کے ایک بے مثل جنگجو بیبرس نے اسی حربے کوخودمنگولوں پراستعمال کرکے عین جالوت کے مقام پرہلاکوخان کے سالارقط بوغا کوشکست دی۔ منگولوں کو38برسوں میں ملنے والی یہ پہلی شکست تھی۔

سوبدائی نے چین اورمشرقی یورپ میں شاندار فتوحات حاصل کیں۔اس نے پولینڈ اورہنگری کی فوجوں کوصرف دودنوں میں تباہ بربادکردیا۔سوبدائی بیک وقت دوتین معرکوں کی ہدایات دینے کی شہرت رکھتا تھا۔ منگول کہتے تھے کہ سوبدائی پرچالیں دیوتاں کی جانب سے اترتی ہیں۔چنگیزخان کے بعداس کا بیٹا اوغدائی خان اعظم بنا۔روس،بلغاریہ اور دوسرے علاقوں پرحملہ کیلئے اس نے منگول شہزادے باتوخان کی رہنمائی کیلئے سوبدائی کو بھیجا۔سوبدائی اس وقت بوڑھاہونے کے ساتھ اس قدرموٹاہوچکاتھاکہ گھوڑے کیلئے اس کا وزن اٹھاناممکن نہیں رہا۔اس کے باوجودباتوخان سوبدائی کوایک رتھ میں بٹھا کر ساتھ لے گیاتاکہ جنگ کے دوران سوبدائی کی شاطرانہ چالوں سے فائدہ اٹھاسکے۔اوغدائی کے بعد اس کابیٹاقویوق خان اعظم بنا۔اس نے سوبدائی کو بلا بھیجا۔ سوبدائی نے پیرانہ سالی کے باعث مستعفی ہونے کی درخواست کی تونوجوان قویوق نے تجربہ کارسالار سے پوچھا ’’سوبدائی بہادر!میں فیصلہ سازی میں کمزور ہوں۔ مجھے بتاکہ میراعظیم داداکیاکرتاتھا؟‘‘
مجھے تمہاری بات سن کر خوشی نہیں ہوئی۔ یادرکھو! بادشاہ کبھی اپنے فیصلوں میں گومگو کا شکارنہیں ہوتے۔ مستقبل کے اندیشوں اورممکنہ خطرات سے گھبرانا سپاہیوں کونہیں تاجروں کوزیب دیتاہے۔ 
امیرتیمورایک شاندارجنگجواورداناشخص تھا۔ امیرتیمور کامشہورقول ہے کہ کمزوری یاطاقت کوئی الگ شے نہیں۔مخالف کی کمزوریاں کسی شخص کو طاقتور بنا دیتی ہیں۔ اسی طرح اس کی اپنی کمزوری دشمن کو طاقتور بناتی ہے۔
تیمورنے اپنی سوانح میں ایک دلچسپ قصہ لکھا۔ تاتاریوں کایہ بے مثل سورماکہتاہے کہ ایک بارمیں نیایک نہایت خوبصورت لڑکی کواپنی دلہن بنایا۔ شادی کے بعدمیں کوئی سال بھر گھرمیں رہا۔میری زندگی کایہ واحد حصہ ہے،جس میں نے کوئی معرکہ نہیں لڑا۔ ایک دن ناشتہ کرنے کے بعداپنے کمرے میں کھالوں کے نرم بسترپرلیٹاہواتھا،میری نظردیوارسے لٹکی تلوار پر پڑی۔ یہ تلوارمیں نے خاص طورپرکئی دھاتوں کے امتزاج سے بنوائی تھی جوہلکی ہونے کے ساتھ نہایت تیزدھار تھی۔ مجھے خیال آیاکہ کہیں اسے زنگ نہ لگ گیاہو۔ جب اسے اتارکرمیان سے نکالاتومجھے وہ خاصی بھاری لگی۔میں حیران ہواکہ تلواررکھے رکھے بھاری کیسے ہوگئی؟ پھر اچانک ہی مجھے احساس ہواکہ میں اتناعرصہ ورزش اورعسکری مشق نہ کرنے سے کمزور ہوگیاہوں۔میں نے اسی دن اپنے اہلخانہ کوسمرقندبھیج دیااورلشکرکولے کراگلے معرکے کیلئے روانہ ہوگیا۔ امیرتیمورمنگولوں سے نفرت کرتاتھا۔وہ خودکو چنگیز خان سے بڑاسالار گردانتاتھا مگروہ منگول قائدکے ایک قول کوہمیشہ دہراتاتھا کہ ’’سپاہی کے سامنے صرف ایک ہی راستہ ہے ۔بہادری، جرات اوردلیری کاراستہ،جسے مضبوط عزم ہی سے عبور کیاجاسکتاہے۔‘‘
فرانس کے لیجنڈری لیڈرچارلس ڈیگال نے جب الجزائرکامسئلہ حل کرناچاہاتوملک بھرمیں طوفان کھڑاہو گیا۔ڈیگال کے دوستوں نے مشورہ دیاکہ الجزائر کے ایشوپرآپ کی حکومت ختم ہوجائے گی۔پارٹی کے اندربھی سازشیں ہورہی ہیں۔سسٹم بچانازیادہ ضروری ہے ،آپ مفاہمت سے کام لیتے ہوئے کوئی درمیانہ راستہ نکالیں۔فرانسیسی مردآہن کاچہرہ یہ سن کرسرخ ہوگیا۔اس نے بے ساختہ جواب دیا’’لیڈرمسائل لٹکایانہیں،حل کیاکرتے ہیں۔ ممکن ہے سٹیٹس کوکی پالیسی جاری رکھنے سے میں چندبرس زیادہ حکومت کر جاں مگرمیرے ملک کی بنیادیں ضرورکھوکھلی ہوجائیں گی۔‘‘
نہرسویزکوقومیانے کے معاملے پرجمال عبدالناصر کواسی طرح کی تنقیدکاسامناکرناپڑا۔اس موقع پر شعلہ بیان ناصرنے دوجملوں میں اپنے مخالفین کی طویل تقریروں کاجواب دیتے ہوئے کہا’’میں جو کر رہا ہوں،وہ مصری عوام کے دلوں کی آوازہے۔عوام ناصرسے ایساکرنے کی توقع کرتے ہیں تومیں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ویسے بھی میرایقین ہے کہ عوامی تائیداور قوت سے ہرسازش کامقابلہ کیا جاسکتاہے۔‘‘
کشمیرکامعاملہ بیک برنرپرچلاگیاہے۔دھرنے کاغوغاابھی چل رہاتھاکہ نوازشریف کی بیماری میں عدلیہ اورحکومت میں ٹھن گئی اورپھرسپہ سالارکی ملازمت کی توسیع نے بیچ بازار بھانڈہ پھوڑدیااور حکومت کی کارکردگی پرہرطرف سے سے انگلیاں اٹھنا  شروع ہوگئیں اور بالآخر عدلیہ نے حکومت کی ڈوبتی کشتی کو پتوار مہیاکرتے ہوئے ایک اورموقع دیکرسنبھلنے کاموقع فراہم کردیا لیکن کب تک؟سچ تویہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال بھی سیاسی قیادت سے ایسے ہی فولادی عزم اورواضح ویژن کی توقع کررہی ہے لیکن کشتی کاناخدااپنی غیرمتلون مزاجی کی بنا پرمنزل پرپہنچانے کی بجائے بیچ منجدھارمیں ہچکولے کھارہاہے۔   
بابل کے بادشاہ بالش ضرکی غلطیوں پراسے ایک غیبی ہاتھ نے واضح الفاظ میں نوشتہ دیوار دکھایا تھا ’’تمہیں آزمایاگیا،مگر تم تول میں پورے نہیں اترے اورہلکے ثابت ہوئے۔‘‘ پاکستانی سیاست میں بھی آزمائش  کاوقت آپہنچا۔اس میں صرف عوام کے دلوں کی آواز سننے والاہی سرخرو ہوسکے گا۔ تاریخ کایہ ابدی سبق ہے کہ صرف وہی لیڈر فتح یاب ہوتاہے جو فولادی عزم اورواضح ویژن کے ساتھ میدان میں قدم رکھے۔

تازہ ترین خبریں