07:44 am
پی ٹی ایم اور سرخ فتنہ

پی ٹی ایم اور سرخ فتنہ

07:44 am

فتنہ وہی پرانا، البتہ کوشش اور انداز نیا، یہ خاکسار گزشتہ ماہ انہی صفحات پر چھپے والے اپنے کالموں میں ارباب اقتدار کی خدمت میں گزارش کرچکا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کالجز اور یونیورسٹیز کے معصوم طلباء کو گمراہ کرکے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے لئے کوشاں ہے … عالمی صیہونی طاقتیں پی ٹی ایم اور موم بتی مافیا کے ذریعے پاکستان کے اسلامی تشخص اور نظریاتی اساس کو ہٹانا چاہتی ہیں … پاک فوج کے خلاف کالجز اور یونیورسٹیز ے طلباء و طالبات کی ذہن سازی  کی جارہی ہے، اس لئے ملک بھر کے کالجز، یونیورسٹیز میں موم بتی مافیا کے خرکاروں اور پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جائے، مگر افسوس کہ ہماری ان باتوں پر توجہ نہ دی گئی، اب طلباء حقوق کے نام پر ڈالر خور این جی اوز پی ٹی ایم کے ساتھ مل کر ’’ایشیاء‘‘ کو جو سرخ اور لال بنانے کے دعوے کر رہی ہیں … کوئی ان سے پوچھے کہ تمہارا نام نہاد ایشیاء کہاں سے سرخ ہے؟
جس سوویت یونین کی تم سال ہا سال تک راتب خوری کرتے رہے، افغان مجاہدین نے اس سرخ ریچھ کا نام و نشان تک  مٹا ڈالا، تم میں اگر شرم ہوتی تو پاکستان کے شہروں میں سرخ جھنڈے لہرانے کی بجائے کابل و قندھار کا رخ کرتے اور وہاں اپنے سابق ان داتا، سر خ ریچھ سوویت یونین کو بچانے کی کوشش کرتے، تمہارا لال ، لال افغانستان میں تو نہ لہرا سکا، افغان مجاہدین نے تمہاے لال ، لال  کی ایسی گیدڑ کٹ لگائی کہ پچیس، تیس سال تک تم منہ چھپائے پھرتے رہے، یہ کون  سے طلباء حقوق ہیں کہ جس میں مرد کو کتا بناکر لڑکیاں اس کے گلے میں پٹا ڈالتی ہیں؟ کیا لال، لال  لہرانے کا مطلب پشتون روایات کی غیرت کا جنازہ نکالنا ہے؟ کیا لال ، لال کا مطلب عورتوں کی بے توقیری ہے؟ کیا لال، لال لہرانے اور ایشیاء سرخ ہے کے احمقانہ نعروں کا مطلب پاک فوج کے خلاف تقریریں کرنا ہے؟ معصوم طلباء و طالبات کو فوج کے خلاف بھڑکانا ہے؟
ڈاکٹر نجیب دور میں اس خاکسار کا افغانستان جانا ہوا تو کابل کے جس ہوٹل میں ہم ٹھہرے وہاں ایسے اشتہار  دیکھے کہ جن میں ایک داڑھی والا کارٹون بناکر اس کے گلے میں رسی ڈال کر نیچے سے پینٹ، شرٹ میں ملبوس نوجوان اس رسی کو کھینچ رہا تھا اور ان تصویروں کے نیچے پشتو میں جو تحریر تھا اس کا ترجمہ یہ بنتا ہے کہ ہم نے زمینی خدائوں کو شکست دے ڈالی اب آسمانی خدا کو نعوذ باللہ زمین پر گھسیٹ کر لائیں گے۔
بعد کے  حالات نے ثابت کر دیا کہ سرخوں کا یہ خیال اور دعویٰ باطل تھا، افغان مجاہدین نے آسمانی طاقتوں کی مدد سے سرخ ریچھ کو ایسا مارا، ایسا مارا، ایسا مارا کہ بالآخر سوویت یونین کا وجود ہی دنیا کے نقشے سے مٹ گیا۔
یہ سرخ اب ایک دفعہ پھر اگر آسمان سے ناز ل شدہ دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات سے ٹکرانا چاہتے ہیں، پاکستان کی مسلمان عوتوں کی تذلیل کرنا چاہتے ہیں، اپنے ملک اور اسلام دشمنی پر مبنی  زہریلے نظریات طلباء و طالبات میں انجیکٹ کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان کی مرضی، ’’سوویت یونین‘‘ کا تحلیل شدہ وجود ثابت کررہا ہے کہ ایشیاء سرخ نہیں بلکہ ’’سبز‘‘ ہے، افغانستان میں سوویت یونین کے بعد امریکہ کی عبرتناک شکست یہ ثابت کررہی ہے کہ ایشیاء سبز ہے … پاکستان کے 22 کروڑ مسلمانوں کی گنبد خضریٰ کے مکین ﷺ سے بے پناہ اور غیر مشروط محبت یہ بتا رہی ہے کہ ایشیا سبز ہے، گستاخان رسول کے خلاف پاکستانی قوم کے دل میں پائی جانے والی نفرت یہ بتا رہی ہے کہ ایشیاء سبز ہے، ختم نبوتؐ اور ناموس رسالت سے والہانہ عشق اس بات کی دلیل ہے کہ ایشیاء سبز ہے، گنبد رسولؐ سے ایشیاء سبز ہے، چادر بتولؓ سے ایشیاء سبز ہے۔
لال، لال لہرانے والے پی ٹی ایم کے سرخ اور موم بتی مافیاء کے گماشتے لگتا ہے کہ ایک دفعہ پھر بے گناہوں کے خون سے ایشیاء کو سرخ کرنے کا منصوب بناچکے ہیں پاک فوج چونکہ سرحدات کی محافظ ہے، اس لئے پی ٹی ایم کی قیادت کو یہ فوج ایک آنکھ نہیں بھاتی، غیر ملکی آقا، اگر دھریت کے پاش پاش بتوں کو دوبارہ سے جوڑ کر پی ٹی ایم اور موم بتی مافیاء کے تعاون سے وطن عزیز  میں الحاد پرستی پھیلانا چاہتے ہیں تو وہ منہ دھو رکھیں۔پاکستانی تعلیمی اداروں کے غیور طلباء و طالبات اس ساز ش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے، دھریت کے ان سرخوں نے بھی عجب مزاج پایا ہے، دینی مدارس کے بڑے طلباء کا بھی انہیں سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہونا ایک  آنکھ نہیں بھاتا… دینی مدارس کے 35 لاکھ طلباء و طالبات کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ان کے نزدیک  جائز اور انگلش تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات کے حقوق کے نام پر جلوسوں میں بھی بے حیائی، بے غیرتی کے مظاہرے کرنا ان کے نزدیک جائز۔
دینی مدارس کے طلباء اگر جہاد کی بات کریں تو ان کی ٹانگیں کانپنا شروع ہو جائیں اور خود اگر یہ کبھی قانون توہین رسالت اور کبھی اسلامی تہذیب و تمدن کے خلاف بکواسات کریں تو جائز … دینی مدارس کے طلباء اگر  اپنے مدرسے اور مسجد کی چاردیواری کے اندر بھی دین اسلام کی سربلندی کی بات کریں تو غلط لیکن پی ٹی ایم اور موم بتی مارکہ کے یہ سرخے جو سرکاری یونیورسٹیوں میں کھڑے ہوکر فوج کے خلاف تقریریں کریں تو یہ جائز ۔
ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیئے کہ اگر سرخوں کے زہریلے نظریات اور موم بتی مافیاء کے گندے او ر ننگے کردار کے خلاف دینی مدارس کے طلباء نے یہ سب کچھ کیا ہوتا تو دجالی میڈیا کے دجالی اینکرز اور اینکرنیوں سے لے کر غیر ملکی میڈیا اور مغربی ممالک کے سفارت خانے اب تک دینی مدارس کے خلاف قیامت ڈھا چکے ہوتے … اب بھی دیکھ لیجئے طلباء حقوق کی آڑ میں عورتوں کی تذلیل کرنے اور اسلامی تہذیب و نشانہ بنانے والے اس موم بتی مافیاء کے سرخ گروہ کی حمایت میں ملکی  و غیر ملکی  میڈیا کے ساتھ ساتھ بلاول زرداری  اور مریم اورنگزیب بھی میدان میں اتر چکے ہیں اور مطالبے کئے جارہے ہیں کہ لاہور میں جن پر ایف آئی آر کاٹی گئی اسے فی الفور واپس لیا جائے، سیدھی سی بات ہے کہ اگر اسلامی تہذیب کو کھلے عام نشانہ بناکر ملک میں فتنہ و فساد پیدا رنے والوں، پاک فوج کے خلاف تقریریں اور پروپیگنڈا کرنے والوں، عورتوں کی تذکیل کرنے والوں  کے خلاف قانون نے بالادستی کا تصور اجاگر نہ کیا … اور ایسے کرائم میں ملوث مکروہ کرداروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہ کیا گیا تو یہ ملک و قوم کی بدقسمتی کے مترادف ہوگا، پی ٹی ایم کے ایم این اے محسن داوڑ اور ایم پی اے میر کلام وزیر کراچی پہنچے ہوئے ہیں جہاں وہ مختلف طلبہ  تنظیموں اور متعدد دیگر لوگوں سے ملاقاتیں کرکے پی ٹی ایم کی تنظیم سازی کررہے ہیں ، اگر وہ یہ سب کچھ آئین کے تحت کررہے ہیں  تو ٹھیک  وگرنہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔

تازہ ترین خبریں