07:45 am
کرکٹ بورڈ کے ہوش ربا حقائق

کرکٹ بورڈ کے ہوش ربا حقائق

07:45 am

٭مقبوضہ کشمیر، چار ماہ کے کرفیو کے دوران دوخواتین سمیت 38 کشمیری شہید 853 زخمی، 11400 گرفتار! یہ سلسلہ جاری ہےO وکیلوں ڈاکٹروں میں محاذ آرائی مزید بڑھ گئیO سٹاک ایکس چینج میں خوش آئندہ اضافہ، انڈیکس 40 ہزار سے اوپر چلا گیاO نوازشریف و پرویز مشرف دونوں شدید علیل، نواز شریف کے دل و دماغ کا آپریشن ہو گا، پرویز مشرف کو خطرناک بیماری لاحق O آصف زرداری کی حالت مزید خراب، دل کا آپریشن ہو گا۔
٭مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کرفیو اور جبر و ستم کے چار ماہ مکمل ہو گئے۔ اس دوران وہاں کشمیری باشندوں خاص طور پر خواتین پر کیا گزری اور اب کیا گزرے رہی ہے؟ اس کا ذکر دل دہلا دیتا ہے۔ چار ماہ میں دو خواتین سمیت 38 کشمیری باشندے شہید، 853 زخمی ہوئے، گیارہ ہزار چار سو افراد جیلوں میںبند کر دیئے گئے۔ اب تک تقریباً تمام تعلیمی ادارے، مارکیٹیں، ہسپتال اور ٹرانسپورٹ بند ہیں۔ ٹیلی فون اور موبائل مواصلات بدستور منقطع ہیں۔ میں مولانا فضل الرحمن کی کشمیر کمیٹی پر سخت تنقید کرتا رہا ہوں مگر فخر امام کی زیر سرکردگی کشمیر کمیٹی نے ڈیڑھ سال میں کون سا تیر مارا ہے؟ فخرامام کی خانیوال میں ڈیری کی لمبی چوڑی فیکٹری ہے، شاہ جیونہ میںوسیع جاگیر ہے، دوسرے مقامات پر بھی وسیع املاک ہیں۔ لاہور میں ان کی اور ان کی اہلیہ بیگم عابدہ حسین کی آمنے سامنے عالی شان محل نما کوٹھیاں ہیں۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے اسلام آباد میں شاندار بنگلہ، زبردست کار اور عملہ ملا ہوا ہے۔ عیش و آرام کے اس ماحول میں کشمیر کو کیسے یاد کیا جا سکتا ہے؟ ذاتی کاروبارکی دیکھ بھال سے ہی فرصت نہیں ملتی ڈیڑھ برسوں میں مقبوضہ کشمیر کی حالت زارپر دو تین بے جان سے رسمی بیانات، ایک بار مظفر آباد میں ایک کانفرنس میں شرکت اور بس! بے بس مقبوضہ کشمیری عوام کے لئے اور کیا کیا جا سکتا ہے!!
٭آسٹریلیا میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا جو عبرت ناک حشر ہوا، جس انداز سے شرم ناک پٹائی ہوئی، مجھے اس پر حیرت نہیں ہوئی۔ اسی کالم میں ٹیم کی روانگی سے پہلے میں نے مشورہ دیا تھا کہ اس لولی لنگڑی مفلوج ٹیم کو کیوں رسوا ہونے کے لئے بھیجا جا رہا ہے۔ یہ ٹیم مسلسل مختلف ملکوں کے خلاف چھ سیریز میں عبرت ناک شکستیں کھا چکی ہے، ہاکی کی طرح اسے مزید ذلیل نہ کرایا جائے۔ مگر میرا مشورہ بے کار تھا۔ ہاکی کی طرح جگہ جگہ ذلت آمیز شکستوں کا معاملہ زیر نظر نہیں تھا اصل معاملہ ان ٹیموں کے ساتھ ٹیم کی تعداد سے کہیں زیادہ ان کے منتظمین کے بیرونی پرتعیش دوروں، اونچے ہوٹلوں میں قیام، نائٹ کلبوں میں عیش و عشرت اور واپس آ کر فی کس لاکھوں کے سفری الائونس کا ہوتا ہے۔ ہاکی اور کرکٹ کی ٹیموں کا جو کرب ناک حشر ہوا ہے، مجال ہے اس پر شرم محسوس کرتے ہوئے ان ٹیموںکے سپورٹس بورڈوں کا کوئی ایک مجاور بھی مستعفی ہوا ہو! قومی خزانے پر سانپ بنے ہوئے سب کے سب مگر مچھ اس طرح موجودہ عیش و عشرت میں مصروف ہیں۔ کرکٹ ٹیم کے رسوا کن حشر کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا صرف اتنی مثال ہی کافی ہے کہ دو ٹیسٹ میچوں کے کپتان اظہر علی کا چار اننگز میں سکور صرف 26 تھا! میں نے کھیل کے مگر مچھوں کا ذکر ایسے ہی نہیں کیا۔ ذرا کرکٹ کنٹرول بورڈ کے لرزہ خیز ہوش ربا انکشافات پڑھئے:۔
O پاکستان کرکٹ کنٹرول میں مردوں، عورتوں کی ٹیموںکے بارے میں ناقابل یقین حقائق! بورڈ کا ایک چیئرمین، ایک چیف ایگزیکٹو، ایک چیف آپریٹنگ افسر اور ایک چیف فنانشل افسر اور اب جگر تھام کر پڑھئے، 12 ڈائریکٹر، آٹھ سینئر جنرل منیجر، تین جنرل منیجر، پانچ کوچ، درجنوں دوسرے چھوٹے بڑے افسر، حتیٰ کہ صحافیوں سے ملاقات کے لئے دو ڈائریکٹر، ایک سینئر منیجر، چار منیجر! ایسے ایسے ہوش ربا عہدے! ایک خاتون صرف اس اطلاع کے لئے کہ ٹیم ہاری یا جیتی؟ استغفار! ان تمام خونخوار گِدھوں پر قومی خزانہ کس بے دردی اور وحشیانہ انداز میں لٹایا جا رہا ہے، اس کی دل دہلا دینے والی مختصر داستان! چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ (مصباح الحق) 32 لاکھ روپے ماہوار، وقار یونس اوربائولنگ، فیلڈنگ وغیرہ کے پانچ کوچ فی کوچ 20 لاکھ روپے ماہوار، 31 ڈائریکٹر و جنرل منیجر وغیرہ، فی کس کم از کم 10 سے 15 لاکھ روپے ماہوار! اب ذرا کھلاڑیوں کی عیاشیاں! 35 رجسٹرڈ کھلاڑی، ہرکھلاڑی 50 ہزار سے آٹھ لاکھ روپے، چھ کھلاڑی آٹھ لاکھ روپے ماہوار لے رہے ہیں۔ ہر کھلاڑی کو میچ کے دوران 35 ہزار روپے روزانہ اضافی الائونس! صرف ایک کھلاڑی سرفراز احمد کی ایک سال کی آمدنی چار کروڑ 68 لاکھ روپے (وہ بھی ڈالروں میں) جس ملک کی 80 فیصد آبادی شدید غربت، فاقوں اور بیماریوں کی زد میں ہے اس کے صرف ایک ادارہ میں قومی خزانے پر اتنا بڑا ڈاکہ، اتنی وحشت ناک لوٹ مار…اور اس ساری لوٹ مار کا حاصل، کرکٹ ٹیم کی مسلسل چھ سیریز میں ذلت آمیز، شرم ناک شکستیں! اِنا لِلّٰہ و اِنا الیہ راجعون! کوئی پوچھنے والا نہیں، پوچھے گا کون؟ وہ جو خود اندھا دھند لوٹ مار کر رہے ہیں؟
٭تحریک انصاف کے اہم ماہر قانون حامد خاں کو بھی فارغ کر دیا گیا۔ یہ نئی بات نہیں۔ یہ واحد پارٹی ہے جسے کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ، باشعور دانش ور ہضم نہیں ہوتا۔ اس سے بیشتر پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل جاوید اقبال اور سپریم کورٹ کے سابق سینئر جج جسٹس وجیہہ الدین کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا۔ ان لوگوں کی تعلیم و عقل و شعور کی باتیں ’اوئے توئے‘ قیادت کو قبول نہیں ہو سکتی تھیں۔ میں ذاتی طور پر حامد خاں کو جانتا ہوں۔ وہ عمران خان کے کزن ہیں۔ اعلیٰ ماہر قانون ہیں۔ ممتاز قانون دانو ںکی ایک فرم کے سربراہ ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رہ چکے ہیں۔ متعدد بیرونی کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ ان کا نام اتنا معروف ہے کہ سپریم کورٹ کے ہر سالانہ انتخابات کے موقع پر وکلا کے صرف دو گروپ آمنے سامنے ہوتے ہیں، عاصمہ جہانگیر گروپ اور حامد خاں گروپ! تحریک انصاف کے قیام میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا، بعض مقدمات میں تحریک انصاف کی پیروی بھی کی۔ ان کا واحد قصور یہ تھا کہ وہ عقل و دانش کی باتیں کرتے تھے جو کنٹینر پر ہلہ گلہ کرنے والی قیادت کو گوارا نہیں تھیں۔اب ذرا علم و حکمت کازوال دیکھیں ایڈمرل جاوید اقبال، جسٹس وجیہہ الدین اور حامد خاں کے مقابلہ میں پارٹی کے ٹیلی ویژنوں پر شعلے اگلتے ہوئے ’اوئے توئے‘ نمائندے! کیا تبصرہ کروں؟
٭ایک بالکل مختلف داستان! آج چار دسمبر ہے۔ ذہن بہت دور چلا گیا ہے۔ آپ بھی میرے ساتھ چلیں۔ 1940ء میں بنگال کے مشہور شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کو ادب کا نوبل پرائز ملا۔ اس کے بنگالی زبان کے گیتوں کی کتاب ’گیتا نجلی‘ نے عالمی شہرت حاصل کی۔ اس کے دنیا بھر کے بہت سی زبانوں میں ترجمے ہوئے۔ 1958ء میں بمبئی (اب ممبئی) کے ایک سکھ خاندان میں ایک بچی پیدا ہوئی۔ اس کا والد ٹیگور کی شاعری کا شیدائی تھا۔ اس نے بچی کا نام ’گیتا نجلی‘ رکھ دیا۔ گیتا نجلی بہت ذہین نکلی۔ 10 ویں جماعت میں انگریزی میں انسانی دکھوںکے بارے میں انگریزی میں ایک نظم کہی جو بمبئی کے مشہور اخبار ’کرانیکل‘ میں شائع ہوئی تو اک دم ملک بھر میں پھیل گئی۔ گیتا نجلی مسلسل نظمیں کہنے لگی جو بھارت کے علاوہ دوسرے ملکوں میں بھی ان کی زبانوں میں نمایاں شائع ہونے لگیں۔ گیتا نجلی کو بارہ برس کی عمر میں کینسر لاحق ہو گیا۔ جو بڑھتا چلا گیا۔ 16 سال کی عمر میں اسے بمبئی کے ایک ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ اس کا بیڈ تیسری منزل پرایک کھڑکی کے ساتھ تھا جس کے ساتھ ایک بلند درخت کی ایک شاخ لگی ہوئی تھی۔ سخت سردی میں خزاںزدہ اس شاخ کے پتے گرنے شروع ہوئے، گیتا نجلی کو نظموں کا نیا موضوع مل گیا۔ ان گرتے پتوں پر اس کی نظمیں دنیا بھر میں پھیلنے لگیں۔ اس کی طبیعت خراب ہوتی چلی گئی۔ اور پھر اس شاخ پر صرف ایک پتا باقی رہ گیا۔ چار دسمبر کو نیم بے ہوشی میں گیتا نجلی نے آخری نظم لکھی کہ ’’میں اور یہ پتا ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں میں اسے گرتے ہوئے نہیں دیکھ سکوں گی‘‘ اس کے ساتھ ہی گیتا نجلی کی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند ہو گئیں۔ اس کی آخری رسوم مکمل ہوتے ہی وہ پتا بھی گر گیا!