07:26 am
مسلمانوں کے لئے راہ عمل

مسلمانوں کے لئے راہ عمل

07:26 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 اسی نے یہ تمام سلسلہ کون و مکان تخلیق کیا ہے اور اس کا نظام چلا رہا ہے۔ اسی نے مجھے زندگی عطا کی ہے۔ وہی میری ضروریات پوری کرتا ہے مجھے رزق دیتا ہے میری مشکلات کو دور کرتا ہے میری حاجات کو پورا کرتا ہے۔ اسے اللہ کے سامنے سرجھکانے میں لطف آئے۔ محبت کے جذبے سے اللہ کے ہر حکم پر عمل کرنا اس کی زندگی کا   نصب العین بن جائے۔ یہ ہے وہ بندگی جو مطلوب ہے۔
یہ مارے باندھے کی اطاعت نہیں ہے کہ کسی شخص نے کسی کو جبرا غلام بنا لیا ہو اور اب غلام مجبورا اس کی اطاعت کر رہا ہو۔  اللہ کی غلامی اور بندگی، رضا ورغبت کے ساتھ مطلوب ہے۔ دنیا میں بھی اچھا غلام وہ ہوتا ہے جو اپنے آقا کا تابع فرمان ہو، اسے جس چیز کا حکم دیا جائے، اسے مانے اور جس سے روک دیا جائے اس سے رک جائے، بلکہ اس سے بڑھ کر آئیڈیل غلام وہ ہوتا ہے جو آقا کے مزاج کو سمجھتے ہوئے چشم وابروکے اشارہ پر عمل کرے۔ اسے کچھ حکم دینے کی بھی ضرورت نہ ہو اور وہ آقا کی رضا کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے تیار رہے۔ دنیا میں غلامی اور آقائی حقیقی نہیں۔ نہ حقیقی معنوں میں آقا، آقا ہوتا ہے نہ غلام، غلام۔ آقا ایک زبردستی کا آقا ہے اور اس نے جبرا کسی کو ایک غلام بنا لیا ہے، لیکن اللہ حقیقی معنوں میں آقا ہے اور ہم حقیقی معنوں میں اس کے غلام ہیں۔ اللہ مولائے حقیقی ہے۔ وہ واقعی آقا ہے۔ وہی تو خالق ہے۔ہمارا وجود اسی کا عطا کردہ ہے۔ اسی نے ہمیں شرفِ انسانیت سے نوازا ہے جس پر ہم بڑے اکڑتے ہیں۔ اسی نے ہمیں صلاحیتیں عطا کیں۔ چنانچہ لازم ہے کہ اس کی غلامی اختیارکی جائے۔ اس نے پورا تفصیلی نظام ہمیں دے دیا ہے۔یہ بتا دیا کہ کیا کرنا ہے اورکیا نہیں کرنا، کیا صحیح ہے، کیا غلط ہے؟ کیا جائز ہے، کیا ناجائز ہے؟ہمیں چاہیے کہ اِس کی پابندی کریں۔ اِسی بات کو قرآن ایک دوسرے انداز سے واضح کرتا ہے۔ جابجا یہ حکم دیا جاتا ہے اطاعت کرو اللہ کی اور طاعت کرو رسول کی۔ جب تم نے اللہ کو اپنا رب اور اس کے رسول کو رسولِ برحق مان لیا تو اب لازم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ ان کا کہا مانو۔ رسولﷺ کی اطاعت اصل میں اللہ ہی کی اطاعت ہے۔آپؓ کے سچے وفادار تو آپؓ کی چشم وابرو کے منتظر رہتے تھے۔ انہیں تو حکم دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔ ہاں ایک طبقہ تھا جن پر حضورﷺ کی اطاعت بھاری گزر رہی تھی، یا اللہ کے احکامات بھاری گزر رہے تھے۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں روگ تھا۔ اندر منافقت کے جراثیم موجود تھے، اور یہ منافقت آگیچل کر بتدریج پختہ تر ہوتی چلی گئی۔ انہیں بطور خاص کہا جاتا تھا کہ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی۔ تم کیسے مسلمان ہو؟ کہتے ہو ہم اللہ کو رب مانتے ہیں مگر اس کی اطاعت کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ محمدﷺ کو اللہ کا رسول اور نمائندہ مانتے ہیں مگر آپؓ  کی سنت اور آپؓ کے احکامات پر چلنے کے لیے  تیار نہیں ہو۔ یہ کیسا اسلام ہے؟ کون سا ایمان ہے؟ منطقی طور پر  اس کا کوئی امکان ہی نہیں ہے کہ کوئی شخص اللہ کو رب اور محمدﷺ کو رسول مانے اور پھر بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے سرتابی کرے۔کوئی مسلمان ہو کر اطاعت نہیں کر رہا تو اپنے آپ کو فریب دے رہا ہے۔ کوئی شخص کہے کہ میں نے آپ کو اپنا آقا مان لیا، میں آپ کا غلام ہوں اور قدم قدم پر آپ کی نافرمانی کرے، آپ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائے، ان کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے تو آپ احمق ہی ہوںگے جو اس کی اس بات کو سچ تسلیم کریں گے۔ تو آقائے حقیقی کے بندے ہونے کے باوجود اگر ہم اس کی بندگی کی بجائے بے وفائی و غداری کی روش اپنائیں تو اس کی بار گاہ میں کیونکر سچے بندے تصور ہوں گے۔ بہر کیف جب ہم اللہ کی بندگی کی بات کرتے ہیں تو اس میں دو چیزیں شامل ہوتی ہیں ایک اس کی اطاعت اور دوسری محبت۔ یہ دونوں چیزیں ملتی ہیں تو عبادت بنتی ہیں۔ 
دینی ذمہ داریوں کی تیسری سطح کیا ہے؟ فرمایا:اور نیکی (اور خیر) کے کام کرو۔
خیر کے کاموں میں بہت سے امور آتے ہیں۔ یہاں اس سے مراد خدمت خلق ہے۔ یعنی دوسروں کے کام آنا، کسی کو تکلیف میں دیکھ کر اس کی تکلیف کو رفع کرنا، اس کے لئے بھاگ دوڑ کرنا۔ یہاں یہ بات بھی واضح کر دی جائے کہ خدمت خلق کے کام دینی       ذمہ داریوں کی پہلی دو سطحوں کا متبال نہیں ہو سکتے۔ یعنی ارکان اسلام کی پابندی ہرمسلمان پر لازم ہے اور یہ بھی  ضروری ہے کہ وہ پوری زندگی میں اللہ کی بندگی کرے ۔ ہاں ان کے ساتھ ساتھ خیر وبھلائی کے کام کیے جائیں۔ خدمت خلق کایہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ نہ ارکان اسلام کی پابندی کریں اور نہ حلال وحرام کی تمیز کو رو ا رکھیں۔ ہاں اللہ کو خوش کرنے کے لیے کہیں تھوڑا بہت      صدقہ وخیرات کردیں، کوئی ہسپتال بنادیں اورکبھی عمرہ کر دیںاور پھر ساری دینی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائیں کہ (نعوذ باللہ) ہمیں ان کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ طرز عمل خود فریبی ہے۔ اقبال نے اِسی بارے میں کہا تھا 
خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی؟
عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں