07:27 am
طلبا  یونین کی بحالی کامسئلہ؟

طلبا  یونین کی بحالی کامسئلہ؟

07:27 am

پاکستان میں ایک مرتبہ پھر طلبا یونین کی بحالی کامطالبہ زور پکڑ تاجارہاہے۔ یہ مطالبہ نیانہیں ہے‘ وقفے وقفے سے طلبا یونین کی بحالی کی آواز اٹھتی رہتی ہے‘ طلبا یونین کی بحالی کوئی برا مطالبہ نہیں ہے۔ 35سال قبل جنرل ضیا مرحوم کے دور میں طلبا یونین پر پابندی عائد کی گئی تھی ‘ کیونکہ اس دور میں یونیورسٹی اور کالجوں میں یونین کے عہدیدار ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔ خصوصیت کے ساتھ دائیں بازو اور بائیں بازوکی یونین کے نمائندوں کے مابین خاصی چپقلش پائی جاتی تھی‘ بلکہ بسااوقات خونی تصادم بھی ہوجایاکرتاتھا۔ جس کی وجہ سے یونیورسٹیوں اور کالجوں کے درس وتدریس پرانتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے تھے۔دائیں اور بائیں بازو کے درمیان سردجنگ اس وقت بھی موجود ہے۔ تاہم ایسا محسوس ہورہاہے کہ دائیں اور بائیں بازو کے طلبا دونوں کی خواہش ہے کہ طلبا یونین بحال ہونی چاہئیں تاکہ انہی اداروں سے نئی قیادت اور نئی سوچ پیدا ہوسکے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی طلبا یونین کی بحالی کی حمایت کی ہے۔ لیکن بعض شرائط کے ساتھ۔ اس ہی طرح وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی  فواد چوہدری نے بھی طلبا یونین کی بحالی کی حمایت کی ہے۔ شیریں مزاری نے بھی طلبا یونین کی بحالی کی حمایت کردی ہے۔ تاہم ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر طلبا یونین کی بحالی کے سلسلے میں بڑے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل کوڈ آف کنڈٹ کا ضبط تحریر میں لانا اشد ضروری ہے کیونکہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں ان طلبا یونین کو اپنے ذاتی اغراض ومقاصد کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ جیسا کہ ماضی میںہواتھا۔ ایک مثال مزدور یونین سے متعلق دی جاتی ہے۔ جن کو سیاسی جماعتوں کی سرپرستی حاصل تھی جس کی وجہ سے مزدوروں کے درمیان اختلافات بڑھ گئے ہیں بلکہ ان کے حقوق کے سلسلے میں کی جانے والی کوششیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی بے جا مداخلت کی وجہ سے پاکستان میں ٹریڈ یونین ازم تقریباً ختم ہوچکی ہے ۔
 ماضی میں جب طلبایونین بحال تھیں توسیاسی جماعتیں انہیں باقاعدہ اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی تھیں۔  یہاں تک ماضی میں ٹی وی پہ ایک طالب علم نے کراچی یونیورسٹی کے ایک قابل احترام وائس چانسلر کے بارے میں جو غلط الفاظ استعمال کئے تھے۔ اس کو سن کر اہل دانش کی گردن شرم سے جھک گئی تھیں۔چنانچہ طلبا یونین کے نمائندوں کی جانب سے غیرمہذب گفتگو کی وجہ سے طلبا یونین پر قدغن عائد کی گئیں تھیں تاکہ طلبا اپناوقت درس وتدریس کی طرف مرکوز کرسکیں۔ 
 چنانچہ اب ایک مرتبہ پھر طلبا یونین کی بحالی کا مطالبہ کیاجارہاہے‘ لیکن جیسا کہ میں نے لکھاہے کہ طلبا یونین کوضرور بحال ہونی چاہیے مگر کچھ واضح شرائط کے ساتھ۔ اس ضمن میں سب سے پہلی شرط مملکت خداداد کے خلاف کوئی بات چیت یا نعرے بازی نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ دنیا کے تمام مہذب درس گاہوں  والے میں طلبا یونین ریاست کے خلاف باتیں نہیں کرتے ہیں بلکہ اسی طرح ریاست کے آئین کے تحت سیکورٹی اداروں کے خلاف منفی گفتگو بھی مملکت کونقصان پہنچانے کے مترادف ہوتی ہے۔ عدلیہ جس کاکام قانون کی تشریح کرتے ہوئے اس کی بالادستی کے لئے ماحول کوسازگار بنانا ہوتاہے‘ اس کے خلاف بھی کسی بھی قسم کے نازیبا الفاظ عدالتوں کے احترام کو مجروح کرسکتے ہیں۔ اسی  طرح پارلیمنٹ سے متعلق طلبا یونین کی سطح پر بات چیت ان کی ذمے داری نہیں بنتی ہے۔ طلبا یونین کی سب سے بڑی اہم ذمے داری یہ ہے کہ وہ درس گاہوں کاتعلیمی ماحول صحت مند رکھیں۔ نیز انہیں طلبا کے مسائل پہ غور فکر کرتے ہوئے اساتذہ سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ان کے حل کیلئے کام کرناچاہیے۔ 
دوسری سب سے زیادہ اہم ذمہ داری طلبا ء یونین کی یہ ہونی چاہیے کہ وہ درس گاہوں میں لسانی اور صوبایت کو فروغ نہ دیں بلکہ لسانی وصوبائی عصبیتوں کوختم کرتے ہوئے انہیں صرف پاکستان کی بات کرنی چاہیے۔ ماضی میں لسانی وصوبائی سوچ کی وجہ سے مملکت پاکستان کو سب زیادہ نقصان پہنچاہے۔ مشرقی پاکستان کے سانحہ میں دیگر عوامل کے علاوہ سب سے زیادہ زہریلا پروپیگنڈا لسانی وصوبائی بنیاد پر کیا گیاتھاجس کو ہوا دینے میں پاکستان کے دشمن ممالک نے سب زیادہ کام کیا تھا اور نوجوانوں کو ریاست کے خلاف گمراہ کیاتھا۔ اس وقت جیساکہ میں نے اپنے گزشتہ کالموں میں لکھاہے کہ پاکستان ایک نازک دور سے گزررہاہے ۔ بعض سیاست دانوں نے کرپشن کرکے اس ملک کو اقتصادی طورپر خاصا کمزور اور ناتواں بنادیاہے۔ 
اس وقت موجودہ حکومت کرپشن کوختم کرتے ہوئے پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی شب وروز محنت کررہی ہے۔تاکہ ملک میں سیاسی استحکام اور یکسوئی پیداہوسکے۔ چنانچہ طلبا یونین کی بحال سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ ان جذباتی نوجوانوں کو سیاسی جماعتیں یا سیاسی گروہ تو استعمال کرنے کی کوششیں نہیں کررہے ہیں ؟ یہ بڑا اہم سوال ہے۔ پاکستان دشمن طاقتوں کی یہی خواہش ہے کہ یہاں سیاسی ومعاشی استحکام پیدا نہ ہوسکے تاکہ معاشرہ مسلسل اندر سے ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریباں ہوتارہے اور مختلف سیاسی اکائیوں کے درمیان اتحاد ویگانت پیدانہ ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض دانشوروں نے اپنی اس رائے کا اظہار کیاہے کہ طلبا یونین کی بحالی معروضی حالات کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔ محض حکومت پر دبائو یا نعرے بازی کے ذریعہ طلبایونین کی بحالی ایک بار پھر درس گاہوں میں افراتفری اور تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان کے علاوہ دنیا کے بیشتر ممالک میں طلبا یونین میں دائیں اور بائیں بازو کارحجان موجود رہاہے۔ لیکن وہاں ان کے مابین تصادم نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ علمی مکالموں کے ذریعہ درس گاہوں کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تعلیمی معیار کو اعلیٰ سے اعلیٰ بنانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ اس طرح ان درس گاہوں سے اچھی قیادت نکلتی ہے جو بعد میں اپنے مثبت رویوں اور افکار سے ملک کی سیاست میں حصہ لے کر مملکت کو ہرلحاظ سے ترقی یافتہ بنانے کی کوششیں کرتی ہیں۔ 
مزید براں یہ ضروری نہیں کہ طلبا یونین کے نمائندے ملک کی سیاست میں شامل ہوکر اپناکردار ادا کرناچاہتے ہیں ‘بلکہ عملی زندگی میں آکر ڈاکٹر‘ انجینئر اور بیوروکریٹ بن کر ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ طلبا یونین کردار سازی کا بھی فریضہ بھی انجام دیتی ہیں اور درسگاہوں میں طالب علموں کے درمیان محبت واخوت کے فروغ کابھی باعث بنتی ہیں۔ طلبا یونین ضرور بحال ہونی چاہیے مگرایک واضح میثاق کے تحت جن میں اولین شرط درس گاہوں میں لسانی وصوبائی عصبیتوں کو نہیں پھیلانا چاہییے بلکہ صرف پاکستانی بن کر پاکستان کیلئے کام کرنا مقصود ہوناچاہیے۔ کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔

تازہ ترین خبریں