07:28 am
بلاؤں کاخوف

بلاؤں کاخوف

07:28 am

بلائیں اورآفتیں جب نازل ہوتی ہیں تووقت سے پہلے لوگوں کے دل دھڑکنے لگتے ہیں۔دروازوں کے کواڑذراسے ہلیں توکسی غیر مرئی چیز کی آمدکااحساس ہوتاہے۔ذراسی تیز ہواہوتوخوفناک آندھی کاگمان ہونے لگتاہے۔اچانک کوئی غیرمعمولی واقعہ باربار ہونے لگے توبدشگونیاں نکالی جاتی ہیں۔انسان مدتوں سے بلکہ جب سے اس نے اس کائنات میں ہوش سنبھالاہے،آفتوں اوربلائوں کے خوف سے آزادنہیں ہوسکا۔نصیب اوربدنصیبی ایک ایساگورکھ دھنداہے جسے انسان ازل سے آج تک حل کرنے کی کوشش کر رہاہے۔ ہر دفعہ بدنصیبی کی کوئی نہ کوئی تعبیرضرورہوتی ہے۔کوئی اسے کسی ظلم،بربریت اوردرندگی کاشاخسانہ سمجھتاہے تو کہیں اسے ظلم پرطویل خاموشی اورچپ کی وجہ سے ایک سزاتصورکیاجاتا ہے ۔مدتوں لال آندھی کامطلب یہ سمجھاجاتاتھاکہ کہیں قتل ناحق ہوگیاہے۔
پھرگلیوں،بازاروں اورچوراہوں پراتنے ناحق  لوگ قتل کئے جانے لگے ہیں کہ لال آندھی نے بھی شرمسار ہوکر نکلناچھوڑدیا۔ مدتوں بڑے بوڑھے کسی شخص یاخاندان کے اجڑنے کی کہانی سناتے توبتاتے کہ اس خاندان کے فلاں شخص نے کسی پرظلم کیا۔ کسی کاحق مارا،کسی یتیم کامال کھایایاکسی مظلوم اوربے آسراشخص کاخون کیا۔ایک ایسے ڈاکواورقاتل کی کہانی میرے اپنے بچپن میں میرے شہرمیں زبان زدعام ہوئی جسے پھانسی کی سزاہوئی تھی۔اس کی لاش گھرپہنچی تواس کے خاندان کے لوگوں نے حیرت میں ڈال دینے والی داستان بیان کی۔اس کے والدنے پلوسے پسینہ پونچھتے ہوئے کہاکہ جب اسے پھانسی کی سزاہوئی تومیں اس کے پاس گیا۔میں نے اسے کہاکہ تم قرآن پرقسم کھاکرکہو کہ یہ قتل تم نے کیاہے یا نہیں۔اس لئے کہ اگر تم نے قتل نہیں کیاتومیں اللہ کے کسی نیک بندے کے پاس جاکرعرض کروں کہ وہ تمہارے لئے دعاکرے تاکہ تم بے گناہی کے جرم اورسزاسے بچ سکو۔اس نے قرآن پرہاتھ رکھا اورکہاکہ میں نے بہت قتل کئے،چوریاں کیں،مال لوٹالیکن جس قتل میں مجھے سزاہورہی ہے وہ میں نے نہیں کیا۔
باپ نے کہاکہ میں وہیں سے اٹھااورایک صاحب بصیرت اللہ کے نیک بندے کے پاس چلاگیا۔ اس نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھانے چاہے تو پھر جھٹک دئیے اورکہاوہ گائے کی بچی بہت تنگ کر رہی ہے۔وہ بہت بلبلا رہی ہے۔ میں نے پوچھا حضرت یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ کہنے لگے یہ تم اسی سے پوچھ لو۔وہاں جاکرپوچھاتواسے یادآیاکہ ایک دفعہ وہ کسی گائوں سے ایک گائے چوری کرکے ساتھیوں کے ساتھ بھاگ رہاتھاکہ اس گائے کے پیچھے پیچھے ایک اس کی دودھ پیتی گائے کی بچی بھی آرہی تھی۔گائے اسے مڑمڑ کر دیکھتی اور اپنے پائوں زمین میں گاڑدیتی۔جس سے ہمیں اسے کھینچنامشکل ہورہاتھا اورپکڑے جانے کاخوف دامن گیرہوگیا۔ میں نے بندوق نکالی اوراس گائے کی بچی کوفائرکرکے ماردیا۔تھوڑی دیر تڑپ کربچی مرگئی۔گائے خاموش سی رہی لیکن ایک دفعہ کچھ دیرآسمان کی طرف دیکھا اور ہمارے ساتھ چل پڑی۔باپ نے کہابس میں اٹھ کرآ گیاکیونکہ فیصلہ اس مالک کائنات کی طرف سے ہو چکاتھاجودکھی دلوں کی فریادسنتاہے۔مجھے یقین تھاکہ اب اسے کوئی پھانسی سے نہیں بچاسکتا۔
گزشتہ چنددنوں سے خوف سراسیمگی میں اپنے اردگرددیکھ رہاہوں،لوگ ایک دوسرے سے سوال کرتے پھرتے ہیں کہ کیا ہونے والاہے۔ہرکوئی آنے والے دنوں سے پریشان ہے جس صاحب نظر سے ملووہ کہتاہے بلائیں نازل ہونے والی ہیں،آفتیں گھیر چکی ہیں۔کوئی کہتاہے صفائی کاوقت ہے توکسی کی زبان پریہ لفظ ہیں کہ بڑے سانحے ہمارے انتظار میں ہیں۔اس ساری بے یقینی اور سارے خوف کے عالم میں یوں لگتاہے کہ میری حالت بھی اس باپ کی طرح ہے جوپوچھتاپھررہاہوکہ کوئی توقسم اٹھاکر کہہ دے کہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا۔کسی ظلم پربے حسی اورخاموشی اختیارنہیں کی لیکن ہمارے صاحبان اقتداراورطاقت کے نشے میں بدمست ایسے فردکواپنامحسن قراردیکراس کی صفائی کیلئے میدان میں کود پڑے ہیں جس کے نامہ اعمال میں بے گناہ انسانوں کے خون کے ایسے دھبے ہیں کہ ڈرتا ہوں کہ آفتیں اوربلائیں دوبارہ یہاں گھرنہ کرلیں۔لوگوں کوگھروں سے اٹھانے،غائب کرنے ،غیروں کے ہاتھ بیچ دینے، لال مسجد میں معصوموں کے خون اوربموں کی بارش سب جرم موجود لیکن پتانہیں کیوں مجھے وہ دو ننھے منھے معصوم بچے یاد آرہے ہیں جواپنی ماں کی آغوش میں لپٹے سورہے تھے،دنیاومافیہا سے بے خبران کی ماں بھی اسی طرح ان پربار بارلحاف اڑھارہی ہوگی جیسے ساری دنیا کی مائیں کرتی ہیں کہ اچانک ان کے والد خالد شیخ محمدکی گرفتاری کیلئے گھرپرچھاپہ پڑا۔خالدتوگرفتارہوگیا لیکن ان معصوم ننھے ننھے بچوں کوبھی ان کی ماں کی آغوش سے کھینچ کراس کے ساتھ ایسے مقام پرپہنچادیا گیاجہاں سے ان کی آہوں،ہچکیوں اورسسکیوں کی آوازبھی ماں تک نہ پہنچ سکی۔ کیااس ماں نے اوراس جیسی ہزاروں ماں نے آسمان کی طرف منہ اٹھاکر آنسوبھری آنکھوں سے نہیں دیکھاہوگا۔وہ جن کی بیٹیوں کوکفن تک نصیب نہ ہوسکا جواپنی بیٹیوں کے چہرے تک نہ دیکھ سکے کہ انہیں جلاکربھسم کردیا گیا تھا۔وہ مائیں جوننگے پائوں برفانی پہاڑوں میں اپنے بچوں کواٹھائے خوف سے بھاگتی رہیں،کس کس نے اس آسمان کی طرف منہ اٹھاکر نہیں دیکھاہوگا۔پتہ نہیں کس کے آنسواورکس کی بے کسی اس رب کائنات کے غضب کاباعث بنی ہے لیکن اب ایک مرتبہ پھراس ناہنجارکے بیان کے بعدہرکوئی ایک دوسرے سے سوال کرتاپھررہاہے، کیاہونے والاہے،آفت کے آثارکیوں ہیں،بلاں کاخوف کیوں ہے۔محشر بدایونی کاشعر
 یادآرہاہے:
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا
ہواؤں کے فیصلے کوٹالنے کاایک ہی راستہ میرے اللہ نے بتایاہے،گڑگڑا کر،آنسو بہا کر، عجزو ا نکسا ر کے ساتھ پوری قوم معافی کی طلبگارہوتوغضب رحمت میں بدل جاتاہے لیکن قوم کویہ درس کون دے جواقتدار میں  آنے سے پہلے اس مجرم کوعدالت کے کٹہرے میں دیکھنے کاپرزورمطالبہ کرتاتھاوہ آج اس کوبچانے کیلئے سرتوڑکوششوں میں مصروف ہے۔