07:29 am
پی ٹی ایم‘ طلباء حقوق اور ایشیاء سبز ہے

پی ٹی ایم‘ طلباء حقوق اور ایشیاء سبز ہے

07:29 am

(گزشتہ سےپیوستہ)

یہ کیا دوغلی پالیسی اور  متضاد روئیے ہیں کہ دینی مدارس کہ جہاں نہ لال‘ لال کی بات ہوتی ہے اور نہ فوج دشمنی کی وہاں تو پابندیوں کی باتیں کی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ مدارس کو ’’قومی دھارے‘‘ میں شامل کیا جائے گا‘ لیکن جہاں لال‘ ملال  لہرانے کی باتیں‘ سرخ‘ سرخ کرنے کے نعرے‘ مرد کی‘ مرد سے اور عورت کی عورت سے شادی اور میرا جسم‘ میری مرضی جیسی واہیات آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ امریکن‘ ڈنمارک اور ناروے کی این جی اوز سے ڈالر کھا کر کچھ ضمیر فروش جن یونیورسٹیز اور کالجز میں قوم کے بچوں کو گمراہ کرتے ہیں انہیں قومی اور اسلامی دھارے میں لانے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ کیا یہ دکھ کی بات نہیں کہ جس نقیب اللہ شہید کی لاش پہ پی ٹی ایم کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس مظلوم شہید کے والد گرامی محمد خان مرحوم کا 3دسمبر کے دن جب جنازہ پڑھا جارہا تھا تو منظور پشتین اور محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم کا کوئی لیڈر بھی اس جنازے میں شریک نہ ہوا‘ کیوں؟ رائو انوار کی وحشت و سربریت کا نشانہ  بننے والے نقیب اللہ شہید کے والد محمد خان محسود اپنے بیٹے پہ ظلم ڈھانے والے ‘ درندے کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے آخر دم تک انتھک کوششوں میں مصروف رہے‘ مگر افسوس کہ بوڑھا محمد خان عدالتوں سے انصاف ڈھونڈتے ڈھونٹے قبر کی پاتال میں اتر گیا۔
اللہ کرے کہ آرمی چیف جنرل قمر  باجوہ نے محمد خان مرحوم کے انتقال پر تعزیتی بیان میں جو یہ کہا ہے کہ ’’مرحوم محمد خان محسود سے کیا گیا وعدہ پورا کریں گے‘‘ جلد سے جلد اس پر عمل ہو...اگر زندی میں نہیں تو کم از کم مرنے کے بعد ہی محمد خان کو انصاف مل جائے‘ مرحوم محمد خان محسود آخری سانوں تک ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے‘ مجھے امید ہے کہ انہیں جلد یا بدتر انصاف بھی ضرور مل جائے گا‘ لیکن یہاں سوال تو منظور پشتین اینڈ کمپنی سے بنتا ہے کہ تم نے پی ٹی ایم کی بنیاد  جس نقیب شہید پر رکھی تھی‘ اس کے والد مرحوم تمہارے نظریات کے ساتھ متفق کیوں نہ ہوئے؟ انہوں نے  پی ٹی ایم کی فوج مخالف سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کیوں نہ کی؟ پی ٹی ایم کے بعض ’’کن ٹٹے ‘‘ میرے کالموں پہ سیخ پا ہو کر مجھے گالیاں بک کر اپنا  رانجھا تو راضی کر سکتے ہیں مگر مجھے یہ سوال اٹھانے سے نہیں روک سکتے کہ 29نومبر کو لاہور میں حقوق طلباء کے نام پر لال لال لہرائے گا کہ نعرے بلند کرنے والوں نے جو کتبے اٹھا رکھے تھے۔ ان میں سے ایک کتبے پر قانون توہین رسالت دفعہ 295-Cکے خلاف نعرہ کیوں درج تھا؟ کیا پی ٹی ایم کے منظور پشتین اور  محسن داوڑ بھی یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان سے قانون ناموس رسالتؐ کو ختم کر دیا جائے؟ موم بتی مارکہ کے خرکار تو ہم جنس پرستی کو رواج دینا چاہتے ہیں کیا منظور پشتین اور محسن داوڑ کا نظریہ و خیال بھی یہی ہے؟ 
امریکن‘ ڈنمارک‘ کینیڈین اور ناروے کی پشت پناہی والی این جی اوز تو کالجز‘ یونیورسٹیز کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر میں فحاشی و عریانی کو عام کرنا چاہتی ہیں کیا پی ٹی ایم کی قیادت بھی یہی چاہتی ہے؟
موم بتی مافیا اور یہ لال‘ لال لہرانے اور سرخ سرخ کے نعرے لگانے والے ڈالر خور تو  ’’میرا جسم‘ میری مرضی‘‘ حیاء‘ غیرت‘ شرم کی جگہ بے حیائی‘ بے غیرتی اور بے شرمی کو پرموٹ کرنے کی آزادی چاہتے ہیں‘ کیا منظور پشتین اور محسن داوڑ بھی یہی چاہتے ہیں؟ اس خاکسار کو میسجز بھجوائے جارہے ہیں کہ منظور پشتین کا سارا خاندان جمعیت علماء اسلام میں شامل ہے۔ میں نے اس کی تحقیق تو نہیں کی‘ لیکن اس کے باوجود منظور پشتین کا سارا خاندان میری سرآنکھوں پر‘ میں منظور پشتین کے خاندان کو تو کبھی زیر بحث لایا ہی نہیں۔ میرے سوالات تو براہ راست منظور اور پی ٹی ایم کے دیگر قائدین سے ہوتے ہیں۔خدا کی شان دیکھئے کہ ایک طرف مردان یونیورسٹی میں اپنے ہی ساتھی طالب علموں کے ہاتھوں توہین مذہب کے الزام میں مارا جانے والا مشعال اور اس کا والد ہے اور دوسری طرف نقیب اللہ محسود اور اس کے مرحوم والد محمد خان محسود تھے۔
مشعال کو توہین مذہب کے الزام میں اپنے  ہی ساتھیوں کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھونا پڑے‘ اس پر تشدد کرنے والے گرفتار ہوئے‘ ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلے اور پھر مشال کے قاتلوں کو عدالت نے سخت سزائیں بھی سنائیں‘ مگر اس کے باوجود مشال کا والد موم بتی مافیا کے ساتھ مل کر لال‘ لال لہرانے اور سرخ‘ سرخ کے نعرے لگانے کے لئے موم بتی مافیا کی ریلی میں پایا گیا‘ لاہور میں پاک فوج کے خلاف تقریر کے دوران موصوف وہاں بھی موجود تھے اور ان پر ایف آئی آر بھی کٹی‘ جبکہ نقیب اللہ محسود کو کراچی کے بدنام زمانہ قاتل پولیس آفیسر رائو انوار نے گرفتاری کے نام پر اغواء کیا اور پھر معصوم نقیب اللہ کو اس کے ساتھیوں سمیت اس درندے نے گولیاں مار کر شہید کر ڈالا‘ نقیب اللہ کی مظلومیت نے میرے سمیت ہر پاکستانی کو تڑپا کر رکھ دیا‘ اس کے مرحوم والد محمد خان محسود کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنے بیٹے کو انصاف دلانے کے لئے عدالتوں کے دھکے کھاتے رہے‘ مگر اپنے شہید بیٹے کی لاش  کو نہ پی ٹی ایم اور نہ ہی موم بتی مافیا کو بیچنا گوارا کیا۔ وہ ریاست پاکستان اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے رہے۔ اب ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نقیب اللہ محسود کے  قاتلوں کو نمونہ عبرت بنا کر ثابت کرے کہ ’’ریاست‘‘ واقعی ماں جیسی ہوا کرتی ہے‘ جو سیاسی جماعتیں لال لال لہرانے اور ایشیاء سرخ ہے کہ نعرے لگا کر پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کے ساتھ جا کھڑی ہوئی ہیں عوام انہیں بھی بغور دیکھ رہے ہیں اور باخبر ذرائع اس بات کا دعویٰ بھی  کر رہے ہیں کہ عمران خان حکومت اسٹوڈنٹس یونیز پر پابندی ہٹانے پر غور کر رہی ہے لیکن عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ اگر لال‘ لال لہرانے اور مادر پدر آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کے دبائو پر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا تو پھر تعلیمی نظام ہی نہیں بلکہ تہذیب و تمدن اور قومی سلامتی کے لئے بھی انتہائی نقصان دہ ہوگا۔
موم بتی مافیاء کا  طلباء یونیز کی بحالی سے کیا تعلق اور واسطہ؟ اگر حکومت واقعی طلباء یونیز سے پابندی ہٹانا چاہتی ہے تو پھر اس  سے قبل پاکستان کے تعلیمی نظام‘ یونیورسٹیوں اور کالجز کو اسلامی دھارے میں لانا انتہائی ضروری ہے تاکہ تہذیب و تمدن اور غیرت و وفا کی خوشبو ہر طالب علم کے قلب و ذہن کو معطر رکھے‘ جنہوں نے طلباء حقوق کی آڑ لے کر طلباء میں نفرتیں پیدا کرنے کی کوششیں کی انہیں گرفتار کرکے جیلوں میں بند کرنا چاہیے‘ کیونکہ عوام کے نزدیک اسلامی تہذیب و روایات کو نشانہ بنانا طلباء کا حق نہیں ہے‘ انسانوں کو کتا بنا کر پیش کرنا طلباء کا حق نہیں بلکہ انسانیت کی توہین ہے‘ انسانیت کی توہین کرنے والے عناصر کی گوشمالی سے یہ بات مزید واضح ہو جائے گی کہ ایشیاء لال یا سرخ نہیں بلکہ سبز ہے‘ سبز ہے۔