07:30 am
الیکشن کمیشن مفلوج،38 ارب روپے آ گئے

الیکشن کمیشن مفلوج،38 ارب روپے آ گئے

07:30 am

٭الیکشن کمیشن خالی، حکومتی منصوبہ کامیابOملک  ریاض کے ادا کردہ 38 ارب روپے سرکاری خزانے میں جمع ہو گئےO شوگرملوں نے کام بند کر دیاO آصف زرداری کے لئے میڈیکل بورڈ، ذاتی ڈاکٹر بھی شاملO لندن: شہباز شریف پریس کانفرنس،  عمران خان پر سخت تنقیدO نئے چیف جسٹس گلزاراحمد 21 دسمبر کو حلف، دو سال دو ماہ 12 دن کے لئے O پاکستان کی مسیحی بچی ’جوہاں‘ نے 1500 میٹر دوڑ کا گولڈ میڈل جیت لیاO وکیل ڈاکٹر تنازع ختم، ڈاکٹروں نے معافی مانگ لیO پرویز مشرف کو غدار یا کرپٹ نہیں مانتا، شیخ رشیدOعمران خان ڈکٹیٹر ہے، مجھے پارٹی سے نہیں نکال سکتا:حامد خان۔
٭حکومت بالآخر الیکشن کمیشن کو مفلوج کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر ریٹائر ہو گئے، نیا چیف کوئی نہیں، پانچ رکنی الیکشن کمیشن کی سندھ بلوچستان والی دو نشستیں کئی ماہ سے خالی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کی نشست آج خالی ہو گئی، اگلے ماہ باقی رہنے والی پنجاب اور پختونخواہ کے دو ارکان بھی ریٹائر ہو جائیں گے۔ یوں پورا الیکشن کمیشن مکمل طور پر خالی ہو جائے گا۔ قانون کے مطابق کسی بھی فیصلے کے لئے کم از کم تین ارکان ضروری ہوتے ہیں۔ حکومت ایسا اس لئے کر رہی ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس حکومتی پارٹی تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی امداد حاصل کرنے کا کیس زیر سماعت ہے۔ مخالف فیصلہ آنے پر حکومت بلکہ پوری پارٹی ختم ہو سکتی ہے، اس لئے ایک عرصہ سے کیس لٹکایا جا رہا ہے۔ اسی حکومت نے آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کے بارے میں چار ماہ پہلے (19 اگست) کو نوٹیفکیشن جاری کیا۔ نئے چیف جسٹس کا نوٹیفکیشن بھی 16 دن پہلے جاری کر دیا مگر چیف الیکشن کمیشن اور دو ارکان کی خالی نشستیں پُر کرنے کے بارے میں کوئی اقدام نہیں کیا۔ اب کہا جا رہا ہے کہ ایک ہفتہ کے بعد سوچیں گے! 1956ء کے بعد، 64 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ الیکشن کمیشن بے اثر اور بے عمل ہو گیا ہے، یا یہ کہ اسے سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت مفلوج کیا گیا ہے۔ بہانہ بنایا جا رہا ہے کہ قانون کے مطابق اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے نہیں ہو رہا! مگر کب تک! قانون کہتا ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق نہ ہو سکے تو پھر سپریم کورٹ نیا چیف الیکشن کمشنر مقرر کر سکتی ہے۔ یوں بالآخر الیکشن کمیشن تو بحال ہو ہی جائے گا مگر! 64 برسوں میں حکومت کی ’’نیک نامی!‘‘ یہ بھی ہونا تھا!
٭اچھی خبر کہ ملک ریاض کی ادا کردہ 38 ارب روپے کی رقم فوری طور پر پاکستان کے خزانے میں جمع ہو گئی ہے۔ بیرون ملک سے واپس آنے والی یہ پہلی رقم ہے۔ یہ کام پاکستان کی نہیں، برطانیہ کی منی لانڈرنگ وغیرہ کے انسداد کی ایک ایجنسی نے کیا ہے۔ اس کی اندرونی کہانی اہم ہے۔ مختصر یہ کہ پاکستان کے مطالبہ پر برطانوی مالیاتی اداروں نے برطانیہ میں شریف خاندان کے اثاثوں کی چھان بین کی تو نواز شریف کے دونوں بیٹوں کے کاروبار میں کوئی قابل مواخذہ بات سامنے نہ آئی۔ اس دوران اتنا پتہ چلا کہ حسن نواز وسیع پیمانہ پر بہت سے افراد اور اداروں کے ساتھ پراپرٹی کا کاروبار کرتا ہے۔ اس نے اسی سلسلے میں ملک ریاض کو آٹھ ارب روپے کا ایک بڑا مکان بھی فروخت کیا۔ یہاں تک سارا معاملہ ٹھیک تھا مگر تفتیش کے دوران ایک اہم بات سامنے آئی کہ حسن نواز نے جن لوگوں کو پراپرٹی فروخت کی انہوں نے اس کا مطلوبہ ٹیکس ادا کیا مگر ملک ریاض نے نہ صرف اس مکان بلکہ برطانیہ میں خریدی گئی دوسری جائیدادوں کا ٹیکس بھی ادا نہیں کیا۔ برطانیہ میں ٹیکس کی عدم ادائیگی ناقابل معافی جرم ہے۔ مختصر یہ کہ ملک ریاض کو برطانیہ کے ایک مجسٹریٹ نے 19 کروڑ روپے جرمانہ کر دیا اور حکم دیا کہ یہ رقم (38 ارب روپے) فوری طور پر پاکستان کو ادا کی جائے جہاں سے سرمایہ آیا ہے۔ خوش گوار حیرت کہ فیصلہ آتے ہی ملک ریاض نے فوری طور پر پاکستان کے قومی خزانے میں یہ رقم جمع کرا دی ہے۔ یہاں کچھ باتیںغیر واضح ہیں کہ ملک ریاض کے اس وقت برطانیہ میں کُل کتنے اثاثے ہیں؟ کیا یہ بھاری اثاثے خریدنے کے لئے قانونی طور پر پاکستان سے رقم بھیجی گئی تھی؟ یہ غیر قانونی عمل تھا تو اس پر کوئی تعزیری کارروائی ہوئی یا ہو رہی ہے؟۔ بہر حال اک دم ملک کے خالی خزانے میں 38؍ارب روپے کی آمد بہت خوش آئند معاملہ ہے۔
٭لاہور میں کئی روز سے ایک دوسرے کے خلاف وحشیانہ طور پر محاذ آرا دو بڑے مافیا گروپوں میں صلح ہو گئی اور شہر بھر کو عذاب میں ڈالنے والی صورت حال ختم ہو گئی مگر یہ مافیا اسی طرح موجود ہیں۔ دونوں گروہ جب بھی تفریح کے موڈ میں آ جاتے ہیں، عدالتوں اور ہسپتالوں میں ہڑتال کر کے بڑی سڑکوں کو بند کر کے لاکھوں افراد کی آمد و رفت بند کر دیتے ہیں اور سڑکوں پر قالین بچھا کر پِک نِک منانے لگتے ہیں۔ کمزور ترین حکومت چند روز تک ان لوگوں کو دھمکیاں دیتی ہے، پھر پانچ سات دنوں کے بعد جا کر ان ’وحشت گردوں‘ (دہشت گرد!) کے پائوں پکڑ لیتی ہے۔ ان کے تمام جائز، ناجائز مطالبات تسلیم کر لئے  جاتے ہیں۔ پنجاب کی موجودہ وزیر صحت بھی اقتدار میں آنے سے پہلی ڈاکٹروں کی ہڑتالوں وغیرہ کی سرپرستی کیا کرتی تھیں، انہی کے تربیت یافتہ نوجوان ڈاکٹر سڑکوںپر ہلڑ بازی کرتے ہیں تو وہ ان کے خلاف کچھ نہیں کر پاتیں۔ وکلا اور ڈاکٹروں کے مافیا بے قابو ہو چکے ہیں ان کی امن شکن کارروائیوں سے متاثر ہو کر نرسیں، ہیلتھ وزیٹرز، کسان، اساتذہ اور دوسرے سرکاری ملازم ہَلّا گلہ کا چسکا پورا کرنے کے لئے مرکزی سڑکوں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ وکیلوں اور ڈاکٹروں کے مافیائوں کا طریق کار اور انداز بالکل اس کہاوت پر پورا اترتا ہے کہ ’’نتھا سنگھ اینڈ پریم سنگھ، وَن اینڈ دی سیم تھنگ!‘‘ (نتھا سنگھ اورپریم سنگھ ایک ہی چیز ہیں!)
٭پرویز مشرف غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا، 17 دسمبر کو سنایا جائے گا۔ پرویز مشرف کی یہ درخواست منظور نہیں ہوئی کہ اس کا بیان لینے کے لئے ایک کمیشن دبئی بھیجا جائے۔ قانون کے مطابق مفرور اور اشتہاری مجرم کسی قسم کے آئینی حقوق سے محروم ہو جاتے ہیں انہیں صفائی کے لئے وکیل پیش کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔ دریں اثنا جنرل پرویز مشرف کے وزیراطلاعات شیح رشید نے کہا ہے کہ میں پرویز مشرف کو غدار اور کرپٹ تسلیم نہیں کرتا۔ ظاہر ہے ایک فرمانبردار ملازم اپنے سرپرست آقا کے خلاف کوئی بات کیسے سن اور مان سکتا ہے! انہی صاحب نے ان دنوں کہا تھا کہ 9/11 کے بعد امریکی صدر کے فون پر ہم امریکہ کے قدموں پر نہ جھک جاتے تو اس نے ہمارا آملیٹ بنا دینا تھا۔ پرویز مشرف نے جمہوریت اور ملک کی تباہی اور آئین شکنی کے لئے جو کچھ بھی کیا، وزیراطلاعات کی حیثیت سے شیخ رشید نے نہ صرف حمائت بلکہ میڈیا میں بار بار وکالت بھی کی۔ اب وہ عمران خان کے والی وارث بنے ہوئے ہیں! شاعر انور مسعود کی مشہور نظم یاد آ رہی ہے جس میں ایک نوکر کو مالک بینگن پکانے کی تجویز دیتا ہے۔ نوکر بینگن کی شان میں لمبا چوڑا قصیدہ سنا دیتا ہے۔ مگر مالک کا ذرا سا موڈ بدلتا ہے تو نوکر بینگن کی بھرپورمذمت کرنے لگتا ہے۔ مالک کہتا ہے کہ عجیب آدمی ہو، ابھی بینگن کی اتنی تعریف اور اب اتنی مخالفت! نوکر کہتا ہے کہ حضور میں آپ کا ملازم ہوں، بینگن کا نہیں!
٭ایک مسیحی بچی ’جوہاں‘ نے کھیلوں کے مقابلے میں 1500 میٹر دوڑ میں اول رہ کر گولڈ میڈل حاصل کیا۔ شاباش چوہان، ہمیں آپ کی اس شاندار کامیابی پر فخر ہے۔ سلامت رہو شادباد رہو۔٭لاہور کے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے کہ 11 دسمبر سے شروع ہونے والے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے دو ٹیسٹ میچ راولپنڈی اور کراچی میں کھیلے جائیں گے، لاہور میں کوئی میچ نہیں ہو گا! کوئی ایسا میچ کسی بھی شہر میں ہوتا ہے تو کئی دنوں تک بڑی سڑکیں کئی روز تک بند رکھی جاتی ہیں، اور شہریوں کو ناقابل بیان عذاب میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ اس بار لاہور والے تو بچ گئے مگر راولپنڈی اور کراچی کے   ساتھ جو کچھ ہونے والا ہے، اس کا کیا کیا جائے؟٭اکثر ایسے پیغامات آتے ہیں، جن پربھیجنے والے کا نام پتہ نہیں ہوتا۔ ایسے پیغامات نہیں چھپ سکتے۔

تازہ ترین خبریں