07:39 am
مسلمانوں کے لئے راہ عمل

مسلمانوں کے لئے راہ عمل

07:39 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
اسلام یہ کہتا ہے کہ نیکی کے کاموں میں آگے بڑھو۔ جب تمہاری اصل منزل آخرت ہے تو پھر دنیا میں  تمہارے اوقات اور تمہاری صلاحیتوں کا اعلیٰ ترین مصرف یہ ہونا چاہیے کہ اپنی آخرت سنوارنے کے لیے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائو۔ اگر تو آخرت پر ایمان ہے جس کی خبر محمد رسول اللہ ﷺ نے دی ہے، جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے تو اپنی
 

صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ  خیر کے کاموں میں لگائو۔ اللہ کی طرف سے جو       ذمہ داریاں عائد ہیں، ان کے علاوہ خدمت خلق کے کاموں میں بھی ایک دوسرے سے آگے نکلو۔ ہمارے دین میں خدمت خلق کا بہت اونچا درجہ ہے۔ ہم یہ کام  براہ راست اللہ کے لیے نہیں کر رہے ہوتے بلکہ  اللہ کی مخلوق کے لیے کر رہے ہوتے ہیں، لیکن اللہ کو یہ کام بہت پسند ہیں۔ بہت سی احادیث میں اس کے لیے بڑی ترغیب وتشویق آئی ہے۔ حدیث میں ہے کہ  بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو نفع دیتا ہے۔ آپؐ نے یہاں تک فرمایا کہ جب کوئی بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا ہوتا ہے تو اللہ تعالی اس کی مدد کر رہا ہوتا ہے۔ سیرت النبیؐ   کا مطالعہ کریں ہمیں اجرائے وحی سے پہلے آپؐ کی چالیس سالہ زندگی کا جامع عنوان ہی خدمت خلق دکھائی دے گا۔آپؐ کسی غریب کو دیکھتے، کسی کو کسمپرسی میں پاتے، کوئی درماندہ حال دیکھتے تو بے چین ہو جاتے تھے۔ کوئی قافلہ باہر سے آتا اور اس میں لوگ مفلوک الحال ہوتے تو آپؐ بے قرار ہو جاتے۔
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بھر لانے والا
یتیموں کا ملجا، فقیروں کا ماوا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
 یہاں یہ بات بھی واضح کر دی جائے کہ اگرچہ خدمت خلق میں بہت سے امور آتے ہیںجیسے  دوسروں کے کام آنا  کسی کو تکلیف میں دیکھ کر اس کی تکلیف کو رفع کرنا اس کے لیے بھاگ دوڑ کرنا دوسروں سے ہمدردی کرنا،اِسی طرح بھوکے کو کھانا کھلادیناکوئی قرض کے بندھن میں جکڑا ہوا ہو تو اس کی اتنی مدد کرنا کہ قرض سے نجات پا جائے یہ سب   خدمت خلق کے کام ہیں۔ غلاموں کو آزاد کرنا بھی مخلوق کی بہت بڑی خدمت ہے۔ مگر اِن سب سے اوپر خدمت خلق کا ایک اور درجہ ہے اور وہ ہے لوگوں کی عاقبت سنوارنے کی فکر کرنا ان تک اللہ کا پیغام پہنچادینا تاکہ وہ بھی اللہ کی بندگی کرنے لگیں اور اپنی آخرت کو سنوار سکیں۔ یہ خدمت خلق کی بلند ترین سطح ہے۔ 
اس سے پہلے خدمت خلق کی یہ ذمہ داری نبی اور رسول ادا کرتے تھے جو ہر دور میں آتے رہے۔      بنی اسرائیل کی تاریخ کے چودہ سو سال ایسے گزرے کہ ان میں کوئی لمحہ بھی ایسا نہ ہوا کہ جس میں کوئی نبی یا رسول ان کے درمیان موجود نہ رہا ہو بلکہ بعض اوقات تو ایک سے زیادہ پیغمبر بھی ہوئے ہیں۔ یہ انبیا ورسل لوگوں کو عذاب جہنم سے بچنے کی تلقین کر تے انہیں بندگی کی دعوت دیتے تھے۔ ختم نبوت کے بعد یہ کام اس امت کے ذمے ہے۔ بہر کیف اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ نیکی کے کاموں میں آگے بڑھو۔ صحابہ کرامؓ کا یہی مزاج تھا۔ مقابلہ ان میں بھی ہوتا تھا کہ یہ انسان کی فطرت کا حصہ ہے، لیکن یہ مقابلہ نیکیوں میں اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کے کاموں میں ہوتا تھا۔
حضرت  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے پاس کچھ فقیر آئے اور انہوں نے کہا کہ مالدار لوگ بڑے بڑے درجے اور دائمی عیش حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ وہ نماز بھی پڑھتے ہیں، جیسی کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور روزہ بھی رکھتے ہیں، جس طرح ہم روزہ رکھتے ہیں(غرض جو عبادت ہم کرتے ہیں وہ اس میں شریک ہیں) اور ان کے پاس مالوں کی زیادتی ہے جس سے وہ حج کرتے ہیں، عمرہ کرتے ہیں اور جہاد کرتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتلائوں کہ اگر اس پر عمل کرو تو جو لوگ تم سے آگے نکل گئے ہوں، تم ان تک پہنچ جائو گے اور تمہیں تمہارے بعد کوئی نہ پہنچ سکے گا، اور تم تمام لوگوں میں بہتر ہو جائوگے اس کے سوا جو اسی کے مثل عمل کر لے، تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ تسبیح اور تحمید اور تکبیر پڑھ لیا کرو (صحیح بخاری)
آیت زیر بحث کے آخری حصے میں فرمایا:تاکہ تم فلاح پائو۔ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ اس میں ایک لفظ اور ایک حرف بھی زائد نہیں ہے۔ یہ فیصلہ کن کلام ہے۔ لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ یہ کرو یہ کرویہ کرو تاکہ تم فلاح پائو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں یہ کام بہرحال کرنے ہیں۔ اگر تم ابدی زندگی میں کامیابی چاہتے ہو اور جنت تمہارا ہدف ہے تو پھر تمہیں اس راستے پر چلنا ہو گا۔ ان دینی تقاضوں کو پورا کرو گے تو پھر ہی وہ عظیم نعمت تمہیں حاصل ہو گی جس کا عنوان جنت ہے۔ اگر اس راستے پر چلے بغیر یہ خیال کرتے ہیں کہ آخرت کی کامیابی حاصل ہو جائے گی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم خود فریبی میں مبتلا ہو۔ 
دینی ذمہ داریوں میں سے ایک اور غلبہ دین کے لئے جہاد ہے۔ مسلمانوں کو ایک بہت بڑا مشن دیا گیا ہے، وہ یہ کہ دین حق کی گواہی دیں، اس کے غلبہ کے لئے جدوجہد کریں۔ اس راہ میں اپنے اوقات اپنی صلاحیتیں اور اپنے مال لگائیں، اسی کی آخری منزل قتال فی سبیل اللہ ہے۔ یعنی اللہ کی رضا اور اس کے دین کے غلبہ کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ کر باطل قوتوں سے ٹکرا جائیں۔ اللہ تعالی ہمیں اپنی دینی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین)

تازہ ترین خبریں