07:39 am
 گردن پہ دھری چھری

 گردن پہ دھری چھری

07:39 am

 دعویٰ ہے کہ معیشت استحکام کی راہ پر چل نکلی ہے۔ بہت اچھی بات ہے ! بحث کیا کرنی ؟ ایک بین الاقوامی شہرت کا حامل ادارہ ملک کی معاشی حالت کو بہتر قرار دے رہا ہے تو ہم بھی خوش ہیں۔ پنجابی کا ایک محاورہ ہے ڈھڈ نہ پیاں روٹیاں تے سری گلاں کھوٹیاں ( پیٹ میں روٹی نہ جائے تو سب باتیں جھوٹی ہیں)۔ محنت کش رمضانی ، عبدل اور خیرو کو اگر  تین سو روپے کلو سبزی اور ڈھائی سو روپے کلو دال خریدنی پڑے تو معاشی استحکام کے دعوے جھوٹ ہی قرار پائیں گے۔  کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں جب تک کم نہیں ہوں گی اُس وقت تک معاشی استحکام کا دعویٰ عام آدمی کو سمجھ نہیں آسکتا۔ ایسے حالات  میں کوئی بھی سیاسی مداری احتجاج کی ڈگڈگی بجا کر  ملک میں انتشار پھیلا سکتا ہے۔  معاشی معاملات کو سادہ سمجھ کر ہلکا مت لیں ۔ یہ محض چند افراد کی کرپشن اور سرکاری اداروں کی بد انتظامی کا شاخسانہ نہیں۔ ہماری معاشی بدحالی ایک منظم عمل کا نتیجہ ہے۔ ریاست کی سلامتی دائو پہ لگی ہے۔ خطے میں عالمی قوتوں کے درمیان چومکھی جنگ چھڑی ہے۔ یہ قوتیں اپنے مفادات کے لیے مخالفین کا خون بہانے اور نسل کشی کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔ 
امریکی ایٹمی حملے کا نشانہ بننے والے جاپان کا  کیا قصور تھا؟ برطانیہ اور امریکہ کی قیادت میں  دوسری عالمی جنگ میں اتحادی افواج نے جرمنی اور اُس کے ساتھی ممالک کی اینٹ سے اینٹ کیوں بجائی تھی ؟ یہ معاشی مفادات کے حصول کے لیے لڑی جانے والی جنگ تھی۔ نئی نسل دوسری عالمی جنگ میں ہونے والے جانی نقصان کے اعداد و شمار ضرور دیکھے۔ حقوقِ انسانی کے نام نہاد علمبردار ملکوں نے کس طرح زمین کو جہنم بنایا۔ ہٹلر اور نازی جرمنوں کو گالیاں دینے والے مغربی دانشور اور اُن کے مقامی کاسہ لیس  کبھی دوسری عالمی جنگ کی وجوہات اور پس منظر پر نگاہ نہیں ڈالتے۔ برطانیہ کے معاشی مفادات کے تحفظ کے لئے لڑی جانے والی پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر جرمنی پر ٹریٹی آف ورسیلز کی شکل میں  مسلط کی جانے والی ذلت آمیز شرائط  کے  ردعمل  میں جرمنی نے  ہٹلر جیسے نسل پرست کو پذیرائی بخشی۔ طلباء مارچ میں سرخ جھنڈے لہرانے والے اور سرخ انقلاب کے کھوکھلے نعرے لگانے والے نوجوانوں کو شائد معلوم نہ ہو کہ جب اتحادی افواج نے جرمنی کی اینٹ سے اینٹ بجائی تو سرخ انقلاب کا داعی روس بھی اس خوں ریزی میں شریک تھا ۔ جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد لینن گراڈ میں منعقد ہونے والی تقریب میں برطانیہ اور امریکہ کے نمائندوں نے روس کی  خدمات کو خراج تحسین پیش کیا تھا ۔ 
تین عشروں بعد یہی امریکہ اور برطانیہ اپنے معاشی مفادات کے تابع روسی کمیونزم کے خلاف صف آراء دکھائی دئیے۔ روس کی جارحانہ توسیع پسندی اور مغرب کی شاطرانہ حکمت عملی کی بدولت سوویت یونین بکھرا ! دیوار برلن بھی گر گئی ! افغانستان لہو لہو ہوا ! پاکستان اس عالمی کشمکش کے نتیجے میں کلاشنکوف کلچر ، ہیروئن کلچر اور دہشت گردی کا شکار ہوا ! یہ سارا خونی کھیل  عالمی طاقتوں کے معاشی مفادات کے لیے رچایا گیا ۔ یہ کھیل ختم نہیں ہوا بلکہ اور پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اگر کوئی  یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان سے بارہ یا چودہ ہزار امریکی فوجیوں کے انخلاء کا معاملہ طے پاتے ہی افغان طالبان سے معاہدہ ہو جائے گا تو یہ خوش فہمی یا لاعلمی کی انتہا ہے۔ خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے امریکہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ گو امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی کامیابی کی پیشین گوئیاں فرماتے ہوئے کابل میں رونق افروز ہوئے ہیں لیکن یہ ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ 
یہ کوئی بد گمانی نہیں بلکہ زمینی حقائق سے اخذ کیا گیا تجزیہ ہے! اگر آپ کو یقین نہ آئے تو حال ہی میں سامنے آنے والے دو بیانات پر غور فرمائیں! پہلا بیان امریکی فوج کے سربراہ چیئر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل مارک ملے کا ہے ۔ جنرل صاحب کا فرمانا ہے کہ خطے میں امریکی مفادات کو اصل خطرہ مسلم عسکریت پسندوں سے نہیں بلکہ چین و  روس کے  سفارتی ، معاشی ، سیاسی اور عسکری پھیلائو سے ہے۔ جنرل موصوف نے یہ چشم کشا بیان بھی داغا ہے کہ امریکی فوج کا افغانستان سے انخلاء طالبان سے ہونے والے کسی  بھی ممکنہ  معاہدے سے منسلک نہیں ہے۔ دوسرا بیان نیٹو کے سربراہ جینز سٹولٹن برگ نے لندن میں دیا ہے جو کہ امریکی جنرل صاحب کی بحر میں کہی گئی ایسی غزل ہے جس میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے نبٹنے کے لیے فکر مندی کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی جنرل کا بیان زیادہ معنی خیز اس لیے لگ رہا ہے کہ گذشتہ جمعے  تھینکس گیونگ فرائیڈے کا بہانہ بنا کے امریکی صدر ٹرمپ افغانستان آن دھمکے تھے ۔ امریکی فوجیوں کے ساتھ شغل میلہ کرتے ہوئے ٹرمپ بہادر نے طالبان سے جلد معاہدے ہونے کی امید ظاہر کی تھی۔ اگر آپ سمجھنا چاہیں تو صاف ظاہر ہے کہ فوجی انخلاء کے معاملے پر پینٹاگون اور واشنگٹن کی رائے میں فرق ہے۔ اگلے برس امریکی صدارتی انتخابات میں عوام کو دینے  کے لیے ٹرمپ بہادر کو معاہدے اور انخلاء کی شکل میں ایک  لولی پاپ درکار ہے۔ پنیٹاگون اس لولی پاپ کے لیے عشروں کی سرمایہ کاری برباد نہیں کر سکتا۔ 
 اسلام آباد میں بیٹھے فیصلہ سازوں کے لئے سمجھنے کی اہم بات یہ ہے کہ روس و چین اس وقت امریکی اسٹیبلشمنٹ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ اس کے بعد ایران اور کوریا  کی سرکوبی  بھی  امریکہ  بہادر کے لیے دوسری اہم ترین تذویراتی ترجیح  ہے۔ پاکستان  خطے میں چین کا سب سے قریبی اتحادی ہے۔ روس سے ہماری قربت میں گرمجوشی بھی پیدا ہوچکی ہے۔ ہم  ایران اور سعودیہ کے درمیان ثالثی پینٹاگون اور نیٹو خطے میں  چین اور روس کا اثر گھٹانے کے لیے پاکستان کو ہی ہدف بنائیں گے۔ اسی تناظر میں بھارت سے دو طرفہ تعلقات کی مختلف جہتوں کا تعین بھی کیا جانا چاہیے اور افغان مذاکراتی عمل پر بھی کڑی نگاہ رکھنی چاہیے۔ سیاسی اعتبار سے منقسم ، غیر مستحکم اور معاشی لحاظ سے کمزور پاکستان درحقیقت چین کو بھی گہرا تزویراتی دھچکا پہنچا ئے گا ۔ یہ بات سمجھ میں آجائے تو پھر یہ بھی سمجھنا آسان ہوجائے گا کہ پاکستان میں دھرنا کیوں نمودار ہوا تھا  ؟ لادینی سیاست کے حامی اورنظریہ پاکستان کے بدترین مخالف ایک مذہبی جماعت کے ہمنوا کیوں بنے ہوئے تھے  ؟یکا یک طلباء مارچ کیسے شروع ہوا اور کیوں دنیا بھر میں پناہ گزیں امریکہ پرست لبرل طلباء حقوق کی دہائی دینے لگ پڑے؟ دشمن ہماری معاشی شہ رگ پر چھری پھیرکر خطے میں تزویراتی بالا دستی قائم کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں کوئی شک نہیں ہونا چاہیئے کہ یہ امریکی چھری اِس  بھارت کے ہاتھ میں ہے۔ 

تازہ ترین خبریں