07:40 am
دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جیل؟

دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جیل؟

07:40 am

مجھے پاکستان کی مذہبی شناخت پر فخر ہے۔ ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ مجھے اپنے ملک کے اس نام پر فخر ہے، پاکستان کا آئین مسئلہ ختم نبوتؐ اور ناموس رسالت کو تحفظ فراہم کرتا ہے، آئین پاکستان کے مطابق رسول معظم ﷺ کی ختم نبوتؐ کا منکر قادیانی، مرزائی گروہ کافر ہے، میرے سمیت صرف پاکستانی مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ دنیا میں بسنے والے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کو اس بات پر فخر ہے۔ کیمونزم، سوشلزم، کیپٹل ازم، لبرل ازم اور سیکولر ازم یہ سب زمینی فتنے ہیں۔ یہ فتنے انسانیت کے لئے زہر قاتل ہیں ۔ دین اسلام انسانیت کی پہچان ہی نہیں بلکہ انسانیت کی معراج ہے، میرے ذہن میں اس حوالے سے لکھنے کے لئے بہت کچھ ہے، میں سارے ’’ازموں‘‘ کو ایک طرف رکھتے ہوئے سیکولر ازم نام کے فتنے کی طرف آنا چاہتا ہوں ۔ امریکہ، ناروے، کینیڈا سمیت اکثر مغربی ممالک کی پشت پناہی پر ڈالر خور این جی اوز پاکستان کو سیکولر بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں، آصف زرداری سے لے کر نواز شریف تک اور پرویز مشرف سے لے کر میڈیا کے پردھانوں تک، سب نے پاکستان اور پاکستانی قوم کو لبرل اور سیکولر بنانے کے لئے اپنا اپنا حصہ ڈالنے کی بھرپور کوششیں کیں لیکن یہ تو پاکستانی قوم کا چونکہ دین اسلام سے رشتہ اور تعلق اس قدر مضبوط اور اٹوٹ ہے کہ یہ سارے اپنی ان مکروہ کوششوں میں تادم تحریر مکمل کامیاب نہ ہوسکے ۔ آجکل عمران خان کا دور حکومت چل رہا ہے، عمران خان کی زبان پر ریاست مدینہ اور عملی اقدامات ’’سیکولر‘‘ پیراہن پہنے ہوئے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے سابق حکمران عالمی طاقتوں سے ڈالر لے کر پاکستان کو جس سیکولرازم کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں کیا ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں وہی سیکولر ازم گزشتہ72 سالوں سے رائج نہیں ہے؟ اگر ہے اور یقیناً ہے تو پھر اس سیکولر نظام میں نریندر مودی جیسا وحشی، گنوار، ہندو شدت پسندی کی بدبو سے بھرا ہوا موذی قاتل سیکولر بھارت کا وزیراعظم کیسے بن گیا؟
سیکولر بھارت میں عیسائیوں کے گرجا گھروں کو جلایا جارہا ہے ، مسلمانوں کی بابری مسجد سمیت درجنوں مساجد کو فوجی اور عدالتی طاقت کے زور پر شہید کر دیا گیا، نچلی ذات کے ہندو ہوں، عیسائی ہوں یا سکھ کسی کو بھی ہندو شدت پسند معاف کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ۔ انڈیا میں مسلمانوں کی حالت زار تو یہ ہے کہ وہاں نوکریوں کے دروازے مسلمانوں  کیلئے بند ہیں، گائے ذبح کرنے کے الزام میں مسلمانوں کو قتل کر دیا جاتا ہے، بھارت کا آئین بھی سیکولر، بھارت کا صدر بھی سیکولر، بھارتی وزیراعظم، بھارتی آرمی چیف، بھارتی سپریم کورٹ کا چیف جسٹس، بھارت کے تمام اخبارات اور تمام چینلز، بھارت کے دانشور، کالم نگار، اینکرز اور اینکرنیاں سب کے سب ’’سیکولر‘‘ لیکن اس کے باوجود چار ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگے ہوئے اور ایک امریکی میگزین کے مطابق ’’بھارتی فوج نے 124 دنوں سے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ کشمیر ی نہ صرف مسلسل بھارتی فوج کے محاصرے میں ہیں بلکہ وادی میں ذرائع ابلاغ بشمول سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی سہولیات بھی معطل ہیں، غذاء اور ادویات کی قلت کے باعث کشمیر میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے ۔بھارتی فوج بیمار کشمیریوں کو ہسپتالوں تک رسائی نہیں دے رہی، لاک ڈائون کا عالم یہ ہے کہ مودی حکومت نے بھارتی شہریوں کے کشمیر میں د اخلے پر پابندی عائد کررکھی ہے ۔ امریکی جریدے نیو یارک کی رپورٹ کے مطابق سرینگر میں بے گناہ نہتے نوجوانوں پر گولیاں برسائی جاتی ہیں اور خواتین کو زور زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، بھارتی فوج رات کو اچانک گھروں میں گھس کر اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے، فوجیوں کے ظلم و ستم  سے خواتین، بچے اور بوڑھے بھی محفوظ نہیں۔
عمران خان کی ایک تقریر کے بہت چرچے تھے کیا کوئی حکومتی ترجمان اس قوم کو بتائے گا کہ اس تقریر کا کشمیریوں کو کیا فائدہ ہوا؟ عمرن خان حکومت یہ کریڈٹ سمیٹنے کی کوشش بھی کرتی ہے کہ ’’وزیراعظم نے بھارتی ظلم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا، عمران خان اور ان کی حکومت نے کروڑوں روپے لگاکر جو بھارتی مظالم دنیا کے سامنے بے نقاب کیے ہوں گئے اس سے بڑھ کر بھارتی فو ج کے ظلم و تشدد اور نریندر مودی کی کشمیری قوم کے ساتھ کی جانے والے دھوکا بازیوں اور بدمعاشیوں کو پاکستان نے قومی خزانے سے ایک پائی وصول کیے بغیر دنیا کے سامنے بے نقاب کر ڈالا، سوال یہ بھی ہے کہ  امریکی جریدے میں چھپنے والی اس رپورٹ کے بعد بھی اگر امریکہ اور یورپ کے حکمران کشمیریوں کی عملی جدوجہد پر آمادہ نہیں ہوتے تو پھر قومی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کرکے انہیں بھارتی مظالم سے ہی آگاہی کرتے رہنا بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہے۔
یہ خاکسار صرف ان چار مہینوں سے ہی نہیں  بلکہ گزشتہ 25 سالوں سے بار بار انپے کالموں میں یہ لکھتا چلا آرہا ہے کہ بھارت لاتوں کا بھوت ہے جو احتجاجی مظاہروں اور دنیا کو کشمیریوں پر مظالم کی داستانیں سنانے سے کبھی باز نہیں آئے گا۔عمران خان کشمیر کی آزادی کے لئے جہاد نہیں کرنا چاہتے، بلکہ کسی بھی پاکستانی کا کشمیر میں جاکر بھارت کے خون آشام درندوں سے جہاد کرنے کو جرم گردانتے ہیں تو پھر ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قوم کو اس با ت کا بھی جواب دیں کہ آخر کشمیری قوم کو سیکولر بھارت کے پنجہ استبداد سے نجات کیسے ملے گی؟ کیا عمران خان بھی اپنی حکومت کے سارے ماہ و سال دنیا کو بھارتی مظالم سے آگاہ کرنے میں گزار دیں گے، امریکی جریدہ کا رپورٹر بھیس بدل کر مقبوضہ کشمیر پہنچا اور اس نے آنکھوں دیکھے حالات دیکھ کر بڑے واضح اندازمیں کہا ہے کہ کشمیر میں انسانی المیہ جنم لے چکا، سوا کروڑ کے لگ بھگ کشمیری خواتین، بچے، بوڑھے اور جوان انسانی المیے سے دوچار کر دیئے گئے اور سید علی گیلانی کے مطالبے کے باوجود پاکستان بھارت سے ’’معاہدے‘‘ بھی منسوخ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ آج بھی ہماری طرف رہنے والے بعض سیاست دانوں، میڈیا کے پردھانوں اور الیکٹرانک چینلز کے نگرانوں کے دلوں میں بھارت کے لئے نرم گوشہ موجود ہے، کشمیری پل پل موت کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ہمارے حکمران اور سیکولر شدت پسند ’’جہاد‘‘ کو سرکاری اور پرائیویٹ کے خانوں میں بانٹ کر جان بوجھ کر نئی نئی بحثیں چھیڑ رہے ہیں، کشمیر میں اک قیامت صغریٰ کا منظر ہے اور حکومتی ایوانوں میں راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ 

تازہ ترین خبریں