07:41 am
پرویزمشرف غداری کیس، فیصلہ17 دسمبر!

پرویزمشرف غداری کیس، فیصلہ17 دسمبر!

07:41 am

٭جنرل پرویز مشرف غداری کیس، فیصلہ ہر حالت میں17 دسمبر کو سنایا جائے گا، خصوصی عدالتO نوازشریف کا امریکہ میں ہی علاج ممکن ہے، خاندانO آصف زرداری کی دل کی تکلیف بڑھ گئی، آپریشن خطرناک ہو گا، ڈاکٹروںکا فیصلہO پارلیمنٹ لاجز میں پھر چوہے بھاگنے لگے ارکان کی شکائتO کابل: امریکی سفارت خانہ، ٹرمپ سے ملنے کے لئے افغان صدر اشرف غنی کی تلاشی، جوتے اتروا لئےO شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر ہم پرسنگ باری نہ کریں، ہر حالت میں احتساب ہو گا:چیئرمین نیبO الیکشن کمیشن! کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
٭جنرل (ر) پرویز مشرف کے غداری کیس کی سماعت کرنے والی عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ 17 دسمبر کو ہر حالت میں اس کیس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ اسے ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ ملتوی کرنے کے بارے میں حکومت اور پرویز مشرف کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میںدرخواستیں زیر سماعت ہیں اس بارے میں حکم امتناعی بھی آیا تھا مگر خصوصی عدالت نے واضح کیا کہ یہ عدالت صرف سپریم کورٹ کو جواب دہ ہے! پرویز مشرف نے گزشتہ روز ہسپتال میں بستر علالت سے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے کوئی آئین شکنی نہیں کی وہ بے قصور ہے۔
٭بلاول زرداری نے پی ٹی ایم کے منظم کردہ ’طلبا حقوق‘ کی طرف سے طلبا یونین کے قیام کی حمائت کر دی۔ وجہ یہ کہ 1984ء میں ضیاء الحق نے یونینوں پر پابندی لگا دی، بلاول کی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم بننے پر اس پابندی کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد مختلف یونیورسٹیوں میں انتخابات کے موقع پر اور بعد میں مختلف یونینوں کے درمیان جو خونریز تصادم ہوئے، ان میں متعد طلبا ہلاک، زخمی ہوئے۔ گزشتہ روز گوجرانوالہ میں دو طالب علم تنظیموں میں جو فائرنگ ہوئی اور کچھ افراد زخمی ہوئے وہ یونینوں کے آنے والے ہولناک پیش منظر کی واضح نشان دہی کر رہے ہیں۔ ماضی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے عہدیدار اپنی کامیاب یونینوں کی سرپرستی اور انہیں سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے ان کی یونیورسٹیوں کے ہوسٹلوں میں مقیم ہو گئے۔ یہ یونینیں اس قدر طاقت ور تھیں کہ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ ان لوگوں پر ہاتھ ڈالنے سے گھبراتی تھیں۔ ایک وقت میں پانچ چھ مختلف سیاسی جماعتوں کی یونینیں سامنے آ گئیں۔ ان میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ 90 کے عشرہ میں اور بعد میںجنرل پرویز مشرف کی ایم کیو ایم کی سرپرستی کے دور میں ایم کیو ایم کی طلبا یونین نے کراچی، جام شورو، حیدرآباد اور دوسرے مقامات پریونیورسٹیوں پر قبضہ کر کے وہاںجس وحشیانہ اور خونریز انداز میں پنجابی، پشتون اور بلوچ طلبا کو نکالا اسے ایک محترم بزرگ کالم نگار نے صحیح طور پر خوفناک اور لرزہ خیز واقعہ قرار دیا ہے۔ یہ یونینیں اس قدر طاقت ور تھیں کہ پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس کے ساتھ واقع وسیع و عریض زرعی اراضی کی فصلوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے طلبا یونینوں کی ہڑتالوں، ہوٹلوں اوار کلبوں پر مسلح جارحانہ حملے، خونریزی اور دوسرے روح فرسا مناظر دیکھے ہیں۔ وزیراعظم نے شائد پی ٹی ایم کی سرپرستی میں بننے والی ’طلبا حقوق‘ تنظیم کے حالیہ جارحانہ جلوسوں اور دھمکیوں سے گھبرا کر یونینوں کی مشروط بحالی کا اعلان کیا ہے۔ محترم وزیراعظم صاحب! ایسی شرائط پہلے بھی عائد ہوتی رہی ہیں، ان کا کیا حشر ہوتا رہا؟شائد ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے آپ کو اسی لئے مشورہ دیا ہے کہ وزیراعظم صاحب گھبرایا نہ کریں!
٭دنیا بھر کے بیشترملکوں میں حکومتو ںکے خلاف پرتشدد مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مصر، ایران، لیبیا، شام، عراق، فلپائن،ہانگ کانگ یونان، فرانس، پاکستان، چین، بھارت، افغانستان، ناروے اور دوسرے ممالک میں مظاہروں اور خونریز تصادموں کی لہر دوڑ رہی ہے۔ پرتشدد مظاہروں کے بعد فرانس میں تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال شروع ہو گئی ہے۔ لندن اور امریکہ میں کھلے عام فائرنگ اور مسلح حملے عام ہو گئے ہیں۔ سرمایہ داری کے اس نظام نے دنیا کو کیا دیا! ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی دولت کے ذخائر کا نصف سے زیادہ حصہ صرف چند بڑے دولت مند افراد کے پاس ہے جب کہ ہر جگہ غربت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اب تو پاکستان میںبھی یہ صورت حال ہے کہ حکومت کو 38 ارب روپے جرمانہ دینے والا ایک سرمایہ دار پشاور میں بھی نیا منصوبہ لا رہا ہے۔ 
٭لندن: ایک پریس کانفرنس میں ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے اس بات پر بھرپور مسرت کا اظہار کیا ہے کہ نیب نے سپریم کورٹ میں ان کی ضمانت کی منسوخی کیلئے دائر درخواستیں واپس لے لیں اور ان کی ضمانت پر رہائی برقرار رہ گئی! ظاہر ہے ضمانت منسوخ ہو جاتی تو شہباز شریف کو پاکستان واپس آنا پڑتا اور پھر گرفتاری اور جیل! فی الحال یہ معاملہ عارضی طور پر رک گیا ہے مگر کب تک! نیب نے ان کے خلاف خصوصی عدالت میں دائر کرنے کے لئے ریفرنس تیار کر لیا ہے پھر عدالت میں ہر پیشی پر حاضر ہونا پڑے گا۔ (نواز شریف نے 100سے زیادہ پیشیاں بھگتی تھیں) یہی نہیں، نیب نے تو شہباز شریف کے خلاف بہت سے نئے الزامات بھی عائد کر دیئے ہیں، ان میں 32 ’کاغذی کمپنیوں‘ کے ذریعے 43کروڑ 20 لاکھ روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔ نیب نے شہباز شریف کو 18 نئے سوالات بھی بھیج دیئے ہیں اور صورت حال یہ ہے کہ شہباز شریف نے نوازشریف کی ہدایت پر پاکستان میں ن لیگ کے سرکردہ ارکان کو لندن بلا لیا ہے (نوازشریف کا پرانا طریقہ) اس طلبی پر خواجہ آصف، رانا تنویر، پرویز رشید، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، ایاز صادق ایک ہی روز میں لندن پہنچ گئے۔ (ایسے لوگوں کو فوری ویزا کس طرح مل جاتا ہے؟) شہباز شریف خود ایک آدھ روز کے لئے پاکستان آ سکتے تھے مگر! باقی باتوں کا تجزیہ خود قارئین کر لیں!
٭ایک خبر: اسلام آباد میں نبی کریم حضورؐ کے روضہ اقدس کے کلید بردار اور متولی نوری محمد احمدعلی حبشی نے ملاقات کی اور ان کے خاندان کے لئے دُعائے خیر کی۔ مجھے معلوم نہیں کہ برخوردار بلاول نے کبھی حج یا عمرہ کیا ہے یا نہیں؟ خدا تعالیٰ اسے توفیق دے! والد آصف زرداری نے ایک سے زیادہ عمرے کئے (سرکاری خرچ پر!) شائد، روضہ رسول کے محترم کلید بردار نے برخوردار بلاول کو یہ بھی بتا دیا ہو کہ دبئی سے مدینہ منورہ کا فیصلہ صرف تین سو میل ہے!
٭قارئین اندازہ لگائیں کہ شکیب جلالی (جواں سال مرحوم) کا یہ شعر کہاں مناسب دکھائی دیتا ہے کہ ’’... رہتے ہیں کچھ ملول سے چہرے پڑوس میں…اتنا نہ تیز کیجئے ڈھولک کی تھاپ کو!‘‘
٭شہباز شریف نے دلچسپ بات کہی کہ میری ضمانت ضبط کرانے کے لئے سپریم کورٹ میں آنے والے حکومتی نمائندے دُم دبا کر بھاگ گئے۔ ایک ظریفانہ شعر کا مصرع ہے کہ ’’دُم بڑی چیز ہے جہان تگ و دو میں‘‘۔ دم کے بارے میں بہت سے دلچسپ محاورے اور کہانیاں موجود ہیں، مثلا اُلّو کی دم یا اُلّو کی دم فاختہ! میں سوچتا تھا کہ گائے بھینس کی طرح ہاتھی کو لمبی دم کیوں نہیں دی گئی۔ اچانک کہیں پڑھا ہے کہ ہاتھی بھاگتے وقت دُم کو اکڑا کر اونچی کر لیتا ہے۔ ظاہر ہے لمبی دم تو اونچی نہیں ہو سکتی، جگہ جگہ پھنس جائے گی۔ ایک لومڑی کی دُم کٹ گئی۔ اس نے دیوار کے ساتھ پُشت لگا کر دوسری لومڑیوں کو جمع کیا اور دم کے مختلف نقصانات بیان کر کے اسے کٹوانے کا مشورہ دیا۔ ایک بوڑھی لومڑی معاملہ سمجھ گئی۔ اس لومڑی کو کان سے پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹا اور کہنے لگی کہ میں اونچا سنتی ہوں، میرے پاس آ کر بات کر! مجھے اس بچی کی بات یاد آ گئی ہے جس نے مرزا غالب کی شاعری میں قافیہ بندی پر اعتراض کیا تھا کہ ’’ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دُم نکلے‘‘ کا قافیہ دوسرے مصرع کے قافیہ سے نہیں ملتا کہ ’’بہت نکلے، میرے ارماں، لیکن پھر بھی کَم نکلے!‘‘ اب یہ کہ شہباز شریف نے نیب کے نمائندوں پر دم دبا کر بھاگنے کا ذکر کیا مگر ان کی دُموں کی کوئی تفصیل نہیں بتائی! چھوٹی ہیں یا لمبی؟

تازہ ترین خبریں