07:52 am
عالمی حالات میں تغیرات اور پاکستان کے لیے امکانات 

عالمی حالات میں تغیرات اور پاکستان کے لیے امکانات 

07:52 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 آئی بی اے میں ایک امریکی یونیورسٹی سے آنے والے سینیئر پروفیسر ، ماہر معیشت اور ایک بڑے اخبار کے کالم نگار  نے سی پیک کو ’’خیالی پلاؤ‘‘ قرار دیا تھا۔ آج سی پیک ایک حقیقت ہے اور ہمارے ملک کی اقتصادی  ترقی کے امکانات اس سے منسلک ہیں۔ انفرااسٹرکچر اور صنعتوں کی ترقی، زراعت کی بہتری اور دنیا کے لیے پاکستان میں نئے مواقع اس منصوبے کے ثمرات ہیں۔ ہمارا ملک ایک دل چسپ دور سے گزر رہا  ہے۔ عمران خان سے غلطیاں تو ہورہی ہیں لیکن کم از کم وہ ایک دیانت دار  لیڈر ہیں اور معیشت کو راہ پر لانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کررہے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام اور اسٹاک مارکیٹ میں 12ہزار پوائنٹ کا اضافہ امید افزا  علامتیں ہیں۔ جنرل مشرف کے دور میں ہم نے ایک سنہری موقعہ ضائع کیا۔ نو گیارہ  کے بعد  افغانستان میں شروع ہونے والی جنگ اور 2005کے زلزلے کے بعد ملک میں اربوں ڈالر آرہے تھے۔ اس وقت صنعتی شعبے میں سرمایہ  کاری نہیں کی گئی اس کے برعکس صدر مشرف کے وزیر خزانہ  شوکت عزیز نے اس بیش قیمت زرمبادلہ کو فریج، کاروں، موبائل وغیرہ میں جھونک دیا اور دعویٰ یہ کیا کہ اس سے کاروبار کو فروغ ملے گا۔ یہ سرمایہ توانائی، سڑکوں ، ریلوں ، پلوں وغیرہ کے منصوبوں میں لگنا چاہیے تھا۔ فریج اور کار وغیرہ خریدنے کے لیے دیے گئے آسان قرضوں اور موبائل فون پیکجز نے، جو اکثر بے مصرف ہی استعمال ہوتے ہیں،  مشرف کی مقبولیت میں تو اضافہ  کیا  لیکن معاشی حقائق نظر انداز کردیے گئے۔ ہمارے ملک میں کام کرنے والی چار فون کمپنیوں میں سے دو کو دنیا میں دوسرے اور تیسرے نمبر کی کرپٹ ترین ملٹی نیشنل کمپنیاں  قرار دیا جاتا ہے۔ 
 
ان میں  سے ایک نے  رشوت ، کرپشن اور منی لانڈرنگ  وغیرہ کے لیے امریکا میں 95کروڑ ڈالر اور دوسری نے 60کروڑ ڈالر ادا کیے۔ آپ نے یہ خبر کہیں دیکھی یا پڑھی نہیں ہوگی کیوں  کہ یہ کمپنیاں اشتہارات پر بھاری سرمایہ کاری کرتی ہیں اور یہ  خبر دینے والوں کے  اشتہارات روک سکتی ہیں، اسی لیے ہمارا ’’آزاد میڈیا‘‘ پوری فرماں  برداری سے کام  کرتا ہے۔ اس میں مقامی کمپنیوں  کا قصور بھی نہیں اصل مسئلہ ان کے وہ ایگزیکٹیو ہیں جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے قاعدے کے مطابق چلتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہ بھی برطانیہ میں بسیرا کریں گے۔ 
 عالمگیریت نے آبادی کی منتقلی کی راہ بھی ہموار کی ہے، جس کی وجہ سے انفرااسٹرکچر کی ترقی کو  فروغ ملا ہے۔ اگر ہم مشرق  وسطیٰ کے دیگر مسلم ممالک سے موازنہ کریں تو پاکستان خوش قسمت رہا  ہے۔ لیبیا، عراق، افغانستان، یمن سبھی مصائب کا شکار رہے ہیں اور اب تک ہیں۔ ہمارے اپنے مسائل  ہیں، عسکریت اور دہشت گردی نے ہمیں نقصان تو پہنچایا لیکن ہم نے اپنا قبلہ درست کرلیا۔
یہاں ایل او سی کی دونوں جانب کشمیریوں کی رائے جاننے کے لیے بھی کچھ سوالوں پر غور کرنا چاہیے کہ آیا وہ بھارت یا پاکستان دونوں میں کسی کے ساتھ  رہنے کے بجائے آزاد ہونے کو  ترجیح دیں گے۔ یہ ایک مفروضاتی سوال ہے۔ اس بات کاامکان بہت کم ہے کہ بھارت اپنے ہاتھ سے زمین کا کوئی ٹکڑا نکلنے دے اور پاکستان بھی اپنے مفاد ہی کو ترجیح دے گا۔ پھر ہمیں اپنی بیس  کروڑ سے زائد آبادی کے لیے پانی کے ذخائر کی حفاظت کو بھی یقینی بنانا ہے۔ 
 سیاسی و معاشی  تعلقات میں ہمیں اپنے افلاس زدہ عوام کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، جنھیں نہ ہی سماجی و معاشی انفرااسٹرکچر حاصل ہے اور نہ ہی اچھا طرز حکومت۔ ہمیں حالیہ سیاسی و معاشی تغیرات کا فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری اصلاحات  کرلینی چاہییں۔ حالات  تبدیل  ہورہے ہیں اور کم از کم آج ہم ماضی کی طرح جرنیلوں(یا ان کے بھائیوں) کو کرپٹ نہیں کہہ سکتے۔ ایک کیڈٹ کے طور پر ہم نے ایسی ہی فوج  کا خواب  دیکھا تھا۔ یہ وردی جن کے تن پر رہی اور جو آج اسے پہنتے ہیں ، ہمیں  اپنے بھائیوں، بھانجوں، بھتیجوں اور رشتے داروں کی ہوس زر کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دے  سکتی۔ ایسے لوگوں کے وہ ساتھی جو ان کی غیر نصابی سرگرمیوں سے آگاہ رہے وہ بھی ان کے برابر کے شریک ہیں اور اس وردی کو داغ دار کرنے کے مرتکب ہیں جسے ہم نے ہمیشہ بڑے فخر سے تن پر سجایا ہے۔ خاکی کالر والے ایسے شریک جرم بھی برابر کے مجرم ہیں۔ جب تک ہم ان کا  احتساب نہیں کرتے اور انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا نہیں  کرتے، عوام سے نظریں نہیں ملا سکیں گے۔ ملک کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں پہلے  خود کو ٹھیک کرنا ہوگا!
( یہ کالم 12نومبر 2019کو کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ میں سیکیورٹی پروفیشنلز ایسوسی ایشن(ایس پی اے) کے ساتھ کی گئی گفتگو کے اقتباسات پر مشتمل ہے) 

 

تازہ ترین خبریں