07:53 am
سقوط ڈھاکہ حماقتیں اور  دسمبر کی اداسیاں

سقوط ڈھاکہ حماقتیں اور  دسمبر کی اداسیاں

07:53 am

دسمبر کا مہینہ جب بھی آتا ہے اداسی، شرمندگی، احساس شکست و ندامت لیکر آتا ہے اس مہینے میں ہی زندگی کی علامتیں درختوں سے بھی ختم ہو جاتی ہیں۔ پتے زرد اور سرخ ہوکر درختوں کے تنوں سے الگ ہوکر مٹی میں مل کر مٹی کے لئے زرخیزی کے کام آتے ہیں۔ یہ نظام کائنات اور نظام فطرت ہے۔ ہم جتنے بھی متقی و پرہیز گار ہو جائیں تب بھی ہمیں نظام کائنات اور نظام فطرت کی حدد و قیود میں رہ کر زندگی گزارنا ہوتی ہے، استحکام اور ارتقاء حاصل کرناہے۔ اگر ہم اس امر ربی پر مبنی نظام کائنات اور نظام فطرت و جبلت کو خود نظر انداز کرکے اس سے انحراف کریںگے تو ہم بدترین انہدام، بدترین زوال بلکہ نیست و نابود ہو جائیں گے۔ نومبر1971 ء میں مشرقی پاکستان میں دفاع وطن اور بھارتی سازشوں کے جلو میں تخلیق ہوچکی سیاسی قوتیںباہم جنگ و جدل کے آخری منظرنامے میں تھیں۔ چلیئے مان لیتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننا نظام قدرت میں لکھا ہوا مقدر تھا۔ مگر مقدر کی تخلیق تو انسانی ہاتھ خود کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے جو کچھ تم اپنے ہاتھوں سے کرتے ہو اسی سے زمین پر فساد پیدا ہوتا رہتاہے۔ شایدیہ قرآنی اسلوب فکر سورہ الروم میں ہے۔ مکمل یاد نہیں آرہا۔ ہم نے خود مشرقی پاکستان میں الیکشن کروائے تھے۔ جب  کروائے تھے تو اس کے نتائج کو تسلیم بھی کیا ہوتا۔ 
میں اکثر اپنے کالموں میں ریاست پاکستان میں تخلیقی طور پر یعنی ’’امرربی‘‘ کے طور پر فوج کے کردار کو اساسی بنیادیں لکھتاہوں۔ لیکن اگر یہی اساسی بنیاد یں ذاتی ہوس اقتدار میں مبتلا ہو جائیں، اپنے احمقانہ عمل سے، اپنی شراب نوشی اور بداخلاق زندگی تک کے مراحل سے بھی عقل و شعور کو تجتے رہیں تو دشمن سویا ہو تو بھی جاگ اٹھتا ہے کہ اس شراب نوش بداخلاق غافل سے اس کا جغرافیہ چھین لو۔ یہ سب کچھ جو ہوا اس وقت کے ہمارے عسکری حکمران کی عیاشیوں کے سبب، نادر مواقع اندرا گاندھی کو ملے تھے ہم نے خود اپنی بداخلاق حرکتوں، سماجی و سیاسی حماقتوں سے مشرقی پاکستان کوکھو دیا تھا۔ 
تاریخی طور پر یہ تودرست ہے کہ ’’اگرتلہ‘‘  میں سازش سچ مچ ہوئی تھی۔ مجیب اور اس کے ساتھی اس سازش کے رنگ و روپ میں رنگے گئے تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر جنرل یحییٰ خان نے بیمار ہوچکے قابل احترام صدر جنرل ایوب سے بندوق کے زور پر اقتدار نہ چھینا ہوتا۔ نوابزادہ نصر اللہ اور ذوالفقار علی بھٹو وغیرہ نے سیاسی مگر بہت ہی سستے مفادات کے لئے مقید بنگالیوں باغیوں (مجیب اور ساتھیوں) کو صرف ایوب اقتدار کی دشمنی میں آزاد کروا کر ہیرو نہ بنوایا ہوتا، صدر ایوب کی بیماری سے صرف بنگالی مسلم لیگی سپیکر قومی اسمبلی  ہی کو آئین کے مطابق اقتدار عملاً منتقل ہوگیا ہوتا یا جنرل یعقوب علی خان کی بروقت قانون کو سخی سے نافذ کرنے کی اجازت کو قبول کرکے مشرقی پاکستان میں  ہندو سیاسی و سماجی و اقتصادی سازشوں کو کچل کر حقیقی محب وطنوں کو انتخابی عمل میں واضح اور دوٹوک پرامن فضا بھی فراہم کی ہوتی تو کیا16 دسمبر1971  کا سانحہ و المیہ رونما ہوا ہوتا؟ آج صبح سے مشرقی پاکستان کا سقو ط بار بار متوجہ کرتا ہے، بار بار دل و دماغ الجھ رہا ہے کہ کس طرح آرمی چیف جنرل یحییٰ نے اقتدار پر اپنے ہی مربی و سرپرست صدر ایوب کوگھر میں نظربند کرکے قبضہ کیاتھااور خود بخود ملک کا فیصلہ ساز بن بیٹھا تھا، اتنا کند ذہن اور اتنا بداخلاق کہ شاہ ایران کی دعوت میں تہران میں جس میں صدور وزراء اعظم مدعو تھے وہ غیر اخلاقی حالت  میں تھا۔ اندرا گاندھی کو تو اسی ایرانی محفل میں جنرل یحییٰ خان نامی بے وقوف کی نفسیاتی و غیر مستحکم حالت کو سمجھنے کا نادر موقعہ مل گیا تھا۔ بھلا وہ ایسے غیر سنجیدہ اور غیر مستحکم ذہن کے مالک سے اس کا وطن اور جغرافیہ چھیننے کی کوشش کس طرح نہ کرتی ؟ وہ مدبر نہرو جیسے عالم و فاضل اور تاریخ کا مطالعہ و احساس رکھنے والے کی دولت مند اکلوتی بیٹی تھی۔ ہم دوسروں میں خرابیاں تلاش کرتے رہتے ہیں مگر اپنی شہتیر بنی غلطیوں کو اپنی آنکھوں میں ہمیشہ موجود اور برقرار رکھتے ہیں تو انجام پھر تو ایسا ہی ہوتا ہے جوکچھ جنرل یحییٰ خان اور اس کے حواریوںنے کیا وہ اپنے ہاتھوں سے ریاست و جغرافیہ کی تباہی و بربادی کا مقدر تھا۔ اندرا نے جوکچھ کیا وہ عقل مند دشمن  اور دور اندیش حکمران کے طور پر کیا اور فتح پائی۔ 
کل رات سے بے چین ہوں جب ٹی وی پر میجر شبیر شریف کی عظیم قربانی کا ذکر ہورہا تھا۔ دل و دماغ ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان میں الجھا ہوا تھا۔ جنرل  یحییٰ خان کی حماقتوں اور جنرل یعقوب علی خان کی دور اندیشی اور دانش کا تقابل کرتا رہا۔ سوچتا رہا جنرل صدر ضیاء الحق بجا طور پر جنرل یعقوب علی خان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ’’مرشد‘‘ کہتے تھے۔ اسی تدبر و فراست کے پیکر کو وزارت خارجہ جیسے حساس منصب پر فائز رکھتے تھے، بھلا وزیر خارجہ جنرل یعقوب علی خان نے  کبھی بہت زیادہ یا غیر ضروری گفتگو اور باتیں کی تھیں؟ 
عیاش جنرل یحییٰ کی تباہ کردہ ریاست کو دوباہ جنرل ضیاء الحق او ر اسکے وزیر خارجہ جنرل یعقوب نے ارتقاء اور عروج دیا تھا۔ میں یہ ’’دو جنرل طبقوں‘‘… عیاش و شراب نوش اور دوسرا نمازی و پرہیز گار طبقے میں تقابل کررہا ہوں۔ میرے آج لکھے ہوئے ٹوٹے پھوٹے الفاظ باضابطہ کالم نہیں بلکہ محض فکری ٹکڑوں کو جمع شدہ مواد سمجھیں۔ میجر شبیر شریف کی حب الوطنی، شجاعت و بسالت کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ 
ایلیا ابو ماضی لبنان سے تعلق رکھتا  عظیم شاعر فطرت تھا۔ امریکہ میں مقیم لبنانی جبران خلیل جبران جیسا فطرت پسند رومانوی شاعر، وہ روس گیا تو ایک دریا اس وقت دسمبر میں برف کی زمین بنا ہوا تھا۔ اس کے ارد گرد کے درخت پتوں  اور زندگی سے محروم ہوکر جمادات بن گئے۔ ایلیا ابو ماضی نے ان کا تقابل اپنے نفس سے کیا کہ اے روسی منجمد دریا، اے پتوں اور سبز لباس سے محروم بظاہر فوت شدہ درختو، بس کچھ وقت کی بات ہے یہ اداس، سرد موسم جونہی ختم ہوگا تو پھر سے تم  زندہ ہو جائو گے۔ دریا میں لہریں طغیانی زندگی دکھا دیں گی۔ مردہ نظر آتے درخت پھر سے سبز لباس فاخرہ میں زندہ ہوکر مسکرائیں گے مگر مجھ ایلیا ابو ماضی کا دل  و دماغ تو مکمل بنجر ہوچکا، مکمل خشک ہوچکا، مجھ پر وہ مقدر نہیں ہوگا جو مقدر منجمد دریا اور مردہ درختو تمہارا ہے۔ جب بھی دسمبر آتا ہے مجھے سقوط مشرقی پاکستان یاد آتا ہے اور پھر ایلیاء ابو ماضی کی عربی نظم جسے میں نے ایم اے عربی کرتے ہوئے عرب اساتذہ کی زیر نگرانی پڑھا اور سمجھا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کی تحسین کہ انہوں نے چند ماہ پہلے آنکھوں کے آپریشن سے گزرتی وزیراعظم بنگلہ دیش محترمہ حسینہ واجد کو فون کرکے صحت یابی کی دعا کی۔
پس تحریر: اب بھی بہت سے خطرناک معاملات ہمارے سامنے ہیں1971 ء کی طرح۔


 

تازہ ترین خبریں