07:12 am
 اپنے مسائل اپنی عینک  

 اپنے مسائل اپنی عینک  

07:12 am

حکومتی قصیدہ خواں خوشی سے پھولے نہیں سما رہے کہ موڈیز  اور بلوم برگ نے اقتصادی صورتحال کی تعریف کر دی ہے۔
 حکومتی قصیدہ خواں خوشی سے پھولے نہیں سما رہے کہ موڈیز  اور بلوم برگ نے اقتصادی صورتحال کی تعریف کر دی ہے۔  یہ کہنا بجا ہوگا کہ دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے! غیرملکی اداروں کی تعریف کو آسمانی صحیفے کا سا درجہ دینے کی عادت بڑی پرانی ہے۔ اگر کسی معاملے پر تنقید سامنے آجائے تو مخالفین آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں ۔ اگر تحسین سامنے آجائے تو قصیدہ خوانی میں مبالغہ آرائی کے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ دئیے جاتے  ہیں ۔ اپنے معاملات کو اپنی عینک سے دیکھنے کا چلن عام ہونا چاہیئے ! یہ کیا بات ہوئی کہ کسی مغربی جریدے میں کچھ بھی اوٹ پٹانگ شائع ہو جائے تو ہم ملک  میں بھونچال پیدا کر دیتے ہیں ۔  ماضی میں بھی معیشت مستحکم ہونے کے دعوے تسلسل سے کئے جاتے رہے۔ نتیجہ یہ رہا کہ قوم کے گلے میں اربوں ڈالر کے قرضوں اور سود کا طوق بندھا ہے۔ معاشی استحکام کا سادہ اصول یہ ہے کہ غیرملکی قرضوں سے انحصار ختم کرتے ہوئے  بتدریج اپنے وسائل کو متحرک کیا جائے۔ موڈیز کی ریٹنگ اور بلومبرگ کی تعریف سے بازاروں میں گرانی کم  نہیں ہوئی۔ غریب کی جیب بجلی ، گیس اور پانی کے بل ادا کرنے سے قاصر ہے۔ گھر کا چولہا جلانے کی استطاعت جہاں ختم ہوجائے وہاں تعلیم ، لباس اور صحت پر خرچ کرنے کی ہوش کسے رہے گی؟ گرانی نے غریب کے چہرے سے مسکراہٹ چھین لی ہے۔ خلق خدا دو وقت کی روٹی کے لیے ماری ماری پھرتی ہے۔ یہ اُس دیس کا حال ہے جہاں کھیت سونا اُگلتے ہیں ! سمندر ، دریا ، صحرا، کوہستان اور میدان قدرت کی عطا کردہ نعمتوں سے مالا مال ہیں ۔ من حیث القوم ہم نے رب کی نعمتوں کو جھٹلایا ہے۔ اسی کفرانِ نعمت کا نتیجہ ہے کہ نکمے اور نکھٹو نمائندے ہاتھوں میں کشکولِ گدائی تھامے ملکوں ملکوں مارے مارے پھرتے ہیں۔ ملک میں ایک دن میں اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے! لیکن آنکھوں سے اندھی اور کانوں سے بہری ایف بی آر کو دکھائی نہیں دیتا ! دھن دولت کے انبار لگے ہیں لیکن سرکاری محکمہ ٹیکس لینے سے قاصر ہے۔ کیا یہ نالائقی ہے؟ جی نہیں یہ بد دیانتی ہے! یہ کرپشن ہے! قومی خزانے کے لیے ٹیکس وصول کرنے کے بجائے سیٹھ جی سے اپنی ذات کے لیے چائے پانی کے نام پر نذرانہ وصول کر لیا جاتا ہے! ایک سرکاری محکمہ ہی نہیں سب محکموں میں یہی چلن عام ہے۔  تاجر برادری دھڑلے سے بجلی چوری کر رہی ہے ۔ کنڈے ڈالے ہوئے ہیں ! بجلی کے میٹروں کی رفتار اور ریڈنگ میں تبدیلی کر دی جاتی ہے! بجلی کی سرعام چوری چکاری واپڈا کے ’’محنتی‘‘ اہلکاروں کے تعاون سے جاری و ساری ہے۔ سنگین جرائم کی پشت پناہی تھانوں سے کی جاتی ہے۔ منشیات کی کھلم کھلا فروخت، جسم فروشی ، گاڑیوں کی چوریاں اور ڈکیتیاں کیوں نہیں رُک پاتیں؟ ہر چھوٹے بڑے شہر کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ منشیات کی فروخت کہاں ہوتی ہے؟ اس میں کون کون ملوث ہے ؟ اور اس کی ترسیل کا طریقہ کیا ہے؟ اگر کوئی  لاعلم ہے تو وہ ہماری ’’سادہ لوح‘‘  پولیس ہے جسے کچھ پتا نہیں چلتا ! نذرانے کی پٹی آنکھوں پر بندھی رہے تو ناک کے نیچے ہونے والے جرائم بھی دکھائی نہیں دیتے۔ سرکاری محکموں میں پوچھ گچھ کی جگہ لین دین کا نظام رائج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنیادی  فرائض کی انجام دہی کے بجائے سرکاری اہلکار عوام الناس کے جائز کاموں میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ معاشرے کی جڑوں میں لگی بدعنوانی کی دیمک بڑی تیزی سے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتی جارہی ہے۔ بیرون ملک سے جتنا بھی دھن دولت خزانے میں جمع کر لیا جائے معاشی حالات اُس وقت تک نہیں سدھریں گے جب تک اندرونی بدانتظامی اور بدعنوانی پر قابو نہیں پایا جاتا۔  قومی خزانے کی حالت ایک ٹوٹے ہوئے پیندے والے مٹکے جیسی ہے ۔ جتنا بھی پانی ڈالیں یہ مٹکا نہیں بھر پائے گا! سارا پانی کرپشن کے سوراخوں اور دراڑوں سے بہتا رہے گا ۔ غیر ملکی اداروں اور شخصیات کی جانب سے آنے والی تعریف یا تنقید کے پیچھے اکثر مخصوص مفادات کار فرما ہوتے ہیں ۔ ترقی یافتہ قومیں اپنے آزادنہ  تخمینوں اور تجزیوں کی بنیاد پر فیصلے کر کے اپنا مقدر سنوارا کرتی ہیں ۔ چند روزگزرے امریکی سفارت کار ایلس ویلز نے سی پیک منصوبے میں کیڑے نکالتے ہوئے پاکستان کی معاشی بربادی کی پیشین گوئی کی تھی ! اس رائے کے مقابل ایسے جنگجو دانش ور  بھی میدان میں کود پڑے ہیں جن کے مطابق پاکستان کے ظاہری اور پوشیدہ معاشی امراض  کا واحد علاج سی پیک ہی ہے۔ ہم جیسے کم عقلوں کی ناقص رائے یہ ہے کہ سی پیک سمیت کوئی بھی معاشی منصوبہ اُس وقت تک مفید ثابت نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہمارے فیصلہ ساز پوری دیانت داری سے ملکی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے دیگر اقوام سے معاملات طے نہ کریں ۔ پاکستان کے مسائل ہم پاکستانیوں نے ہی حل کرنے ہیں ۔ ہمارے ذخموں پر مرہم رکھنے نہ تو چینی آئیں گے اور نہ ہی امریکی ! جو قوم  بھی ہمارے آگے پیچھے پھر رہی ہے  وہ اپنے مفادات اور مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے۔ ہمیں بھی اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے آنکھیں کھول کر معاملات طے کرنے ہوں گے ۔ سی پیک سمیت تمام معاشی معاملات کا از سرِنو جائزہ لینے میں کوئی حرج نہیں ! یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قومی معاملات میں کسی بھی قوم پر اندھا انحصار مستقبل میں کہیں ہمیں اندھی کھائی میں نہ دھکیل دے۔