09:07 am
  خراب  حالات  میں  ایک  اچھا  فیصلہ !  

  خراب  حالات  میں  ایک  اچھا  فیصلہ !  

09:07 am

 مانا کہ حکومت کی کارکردگی متاثرکُن نہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ کوئی اچھا کام ہو ہی نہیں رہا ! ڈیجیٹل پاکستان منصوبہ ایک نہایت ہی اچھا فیصلہ ہے۔ اچھے اقدام کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہے۔ بالکل اسی طرح حکومت کی بعض کو تاہیوں کو بنیاد بنا کر ماضی کے حکمرانوں کو معصوم یا لائق فائق سمجھ لینا بھی کوئی عقل مندی نہیں! پارلیمان میں سیالکوٹ کی نمائندگی کرنے والے نون لیگ کے ایک سابق وزیر صاحب نے جس شعلہ بیانی کا مظاہرہ کیا ہے وہ اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ ملکی مسائل کے حل کے بجائے جماعتی قیادت کے دکھ درد کم کرنا ہی اصل نصب العین ہے! یہی حال سندھ پر حکمرانی کرنے والی جماعت کا ہے! بیمار کا علاج ہونا چاہیے خواہ وہ ملزم ہو یا مجرم یا عام شہری۔ مہذب معاشرے میں یہ مسائل پارلیمانی مباحث کا موضوع نہیں بنتے! شنید ہے کہ لگ بھگ چار سو لاکھ روپے ایک پارلیمانی اجلاس کے انعقاد پر خرچ ہوتے ہیں۔ یومیہ بھتہ اور سفری اخراجات اس کے علاوہ ہیں ۔ کمی بیشی بر گردن راوی ! کیا یہ مہنگے اجلاس اس لیے منعقد ہوتے ہیں کہ نون لیگ اور پی پی پی کے شعلہ بیاں اراکین اپنے بیمار قائدین کے علاج معالجے کے تذکرے چھیڑیں! اور پی ٹی آئی کے وزراء حزب اختلاف کے قائدین کو چور ڈاکو قرار دے کر اُن کی پگڑیاں اچھالیں! چند روز قبل دہشت گردوں نے وزیرستان میں حملہ کر کے قوم کے محافظ شہید کر دئیے۔ بھارت ایل او سی پر جارحیت کرتے ہوئے آزاد کشمیر پر حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ ہمارے معزز اراکین پارلیمان میں ضمانت پر بیرونِ ملک زیر علاج اپنے قائد محترم کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرے کو حملہ قرار دے کر جوابی حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
 نارووال سے تعلق رکھنے والے نون لیگی ارسطوئے زماں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم کو چلتا کریں اور دو ماہ کے لیے نیا وزیر اعظم منتخب کر کے اصلاحات کروائی جائیں۔ کیا یہ مطالبہ آئین کی روح کے مطابق ہے؟ آئین کے تحت تو پارلیمان ہر مہینے ایک نیا وزیر اعظم منتخب کر سکتی ہے لیکن ایسے اقدام کو آئین کی روح سے متصادم ہی قرار دیا جائے گا۔ اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے کی صورت یلغار کرنے والی قیادت نے اپنا آئینی حق تو استعمال کیا لیکن کوئی حل دیئے بغیر ذومعنی بیانات کے ذریعے یہ تاثر پیدا کر رہی ہے کہ یہ اقدام کچھ نادیدہ قوتوں کے اشارے پر اٹھایا گیا! اس واضح تضاد پر کوئی سوال ابھی تک نہیں اٹھایا گیا کہ ایک سانس میں وزیر اعظم کو نادیدہ قوتوں سے ساز باز کر کے اقتدار میں آنے کے جرم کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے جبکہ دوسری سانس میں خود اصحاب جبہ و دستار اپنی ساز باز کا تاثر بھی دیتے ہیں۔ بلاشبہ ملکی سیاست پر غیر سنجیدہ فکر کی حامل قیادت کا اثر و رسوخ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی صفیں ابن الوقت سیاستدانوں سے بھری ہوئی ہیں۔اصولی موقف اپنانے والوں اور ملکی مفاد کے لیے سوچنے والوں کے لیے قومی سیاست میں کوئی جگہ نہیں بچی! اس انحطاط کی بدولت سفارتی اور اقتصادی محاذ پر ملک نے کافی بڑے نقصان اٹھائے ہیں۔ 
قصیدہ گو خوش آمدیوں ، مفاد پرستوں اور راتوں رات وفاداریاں بدلنے والے ابن لوقت مشیروں کی بدولت نہ صرف ملک کا بیڑہ غرق ہوا ہے بلکہ ان پر اعتماد کرنے والے حکمران بھی نشان عبرت بنتے رہے ہیں! یقین نہ آئے تو اپنی سیاسی تاریخ کے دو کرداروں کو ماضی اور حال کی کسوٹی پر پرکھ لیں! ایک کردار نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف ہیں جو کہ تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور آج بھی اُن کی جماعت ایک وسیع ووٹ بنک کی حامل ہے۔ دوسرا کردار سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف ہیں جو کم و بیش دس سال اس ملک پر با اختیار حکمرانی کر چکے ہیں ۔ آج یہ دونوں شخصیات عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں۔ دونوں شدید علیل ہیں ! دونوں ہی بیرونِ ملک علاج کروانے پر مجبور ہیں ! کچھ پہلو بے حد قابلِ غور ہیں ۔ کیا یہ مقدمے سیاسی انتقام کا نتیجہ ہیں؟ کیا ملک میں حکمرانوں نے کبھی کوئی کرپشن نہیں کی؟ کیا ہمارا تفتیشی نظام اطمینان بخش ہے؟ کیا واقعی پاکستان میں اعلیٰ معیار کی طبی سہولیات دستیاب نہیں ؟ کیا میاں صاحب اور جنرل مشرف کے اقتدار کے دنوں کے مشیر اور ساتھی واقعی اُن سے مخلص تھے؟ ان سوالوں پر غور کر کے مستقبل کی حکمت عملی کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ 
میاں صاحب اور جنرل مشرف صاحب سے زیادہ ان سوالوں پر موجودہ وزیر اعظم کو غور کرنا چاہیے! بات ڈیجیٹل پاکستان نام کے حکومت کے ایک اچھے فیصلے سے نکل کر کچھ دور نکل گئی ! ایک قابل پاکستانی خاتون تانیا ادریس نے گوگل جیسی مایہ ناز کمپنی کی ملازمت ترک کر کے پاکستان کو جدت کی راہ پر ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام پر تانیا ادریس قوم کی مبارکباد کی مستحق ہیں۔ خوش آمدی مشیروں کے بجائے محنتی ، قوم سے مخلص اور قابل مشیروں کا انتخاب ہی وزیر اعظم عمران خان کو میاں صاحب اور جنرل مشرف جیسے انجام سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کو ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہے۔ تانیا ادریس کی راہ میں کئی روڑے اٹکائے جائیں گے۔ سست ، کرپٹ اور نکمی نوکر شاہی کسی بھی مفید منصوبے کو ناکام بنا نے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔ خوش آمدی مشیروں کے ٹولے کے لیے تانیا ادریس جیسی شخصیت کی قومی منظرنامے پر آمد ایک خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ تانیا ادریس یہ سمجھ لیں کہ اس ملک کو سدھارنے کے لیے انہیں کئی مافیائوں سے لڑنا ہو گا ۔ وزیر اعظم صاحب بذاتِ خود معاملات کی نگرانی کرتے رہے تو ڈیجیٹل پاکستا ن منصوبہ کامیاب ہوپائے گا ورنہ سرکاری مافیائوں نے ماضی میں بھی بڑے بڑے مخلص اور قابل لوگوں کا ستیاناس کیا ہے!