07:30 am
    ہندوتوا  کا  اژدہا  

    ہندوتوا  کا  اژدہا  

07:30 am

  نتھو رام گوڈسے نے بھارت کے باپو گاندھی جی کو ۱کہتر برس پہلے قتل کیا تھا ! البتہ نتھو رام گوڈسے کو ہیرو ماننے والی راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور اُس کی بغل بچہ سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو گاندھی جی کے منافقانہ سیاسی نظریات کو ہندوتوا کے مہلک ہتھیار سے مارنے میں سات عشرے بیت گئے۔ دکھاوے کا سیکولرازم اور مسلم دشمنی کے زہر میں بجھا اہنسا کا نظریہ بالآخر بھارتی پارلیمان میں آخری ہچکی لے چکا ہے ۔  این آر سی اور سی اے بی جیسے قوانین کی  منظوری کی  صورت  مودی سرکار نے  گاندھی جی کے سیاسی نظریات کی آخری رسومات ادا کرنے کے لئے ارتھی تیار کر دی ۔ اب اس نظریاتی چتا کو بھارت کے کونے کونے میں  احتجاج کرنے والے  آگ لگا رہے ہیں۔  جب امیت شا جیسے سکہ بند مسلم دشمن نیتا کو  وزیر داخلہ بنایا گیا تب ہی یہ خدشات سر اٹھانے لگے تھے کہ اب بی جے پی  اپنے مسلم دشمن ایجنڈے پر زیادہ شدت اور سرعت سے عمل پیرا ہوگی۔ بابری مسجد کا انتہائی متنازعہ فیصلہ اس امر کی ناقابل تردید مثال ہے کہ متشدد  ہندوتوا نظرئیے کی دیمک  صرف نئی دلی کے ایوان اقتدارمیں ہی محدود نہیں رہی بلکہ عدلیہ کے ستونوں تک بھی پھیل چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کا خصوصی ریاستی تشخص کچلنے کے بعد کرفیو ، تشدد اور مواصلاتی رابطوں کی بندش جیسے بنیادی انسانی حقوق کی اندھا دھند پامالی کا اقدام اٹھا کر مودی سرکار  نے اپنے ووٹرز کو یہ تاثر دیا کہ بی جے پی اپنے مسلم دشمن ایجنڈے کو بھولی نہیں ہے۔ 
کشمیر کے ریاستی تشخص کی بحالی کے لیے جب بھارتی عدلیہ میں شنوائی ہوئی تو دنیا نے دیکھا کہ ججز نے آئیں بائیں شائیں کر کے مودی سرکار کے غیرقانونی اقدام کو بلواسطہ تحفظ دیا ۔  بابری مسجد کا تنازعہ عدلیہ کے سرد خانے سے نکال کر سیاست کی دھکتی بھٹی میں ڈال دیا گیا ۔ ایک بابری مسجد پر ہی موقوف نہیں بلکہ ماضی میں بھی بھارتی عدلیہ نے مسلمانوں کے مقدمات میں غیر جانبداری کے اصولوں کو پامال کرتے ہوئے ہندو عدالت ہونے کا ثبوت دیا تھا ۔ بے گناہ افضل گورو کا مقدمہ بھارتی عدلیہ کی مسلم دشمنی اور ننگی جانبدار ی کا وہ سیاہ داغ ہے جو کبھی بھی دھویا نہیں جا سکے گا۔  بھارتی پارلیمان پر حملے کے الزام میں خانہ پری کرنے کے لیے بے گناہ   افضل گورو کو گرفتار کیا گیا ۔  اُس کا سب سے بڑا جرم مسلمان ہونا تھا !  کشمیری  ہونے کی وجہ سے یہ جرم مزید سنگین ہو گیا ! ڈھٹائی کی انتہا یہ تھی کہ عدلیہ نے افضل گورو کو سزائے موت دیتے ہوئے ببانگ دہل یہ اعتراف کیا کہ ملزم کے خلاف شواہد دستیاب نہ ہونے کے باوجود پھانسی کی سزا محض اس لئیے دی جارہی ہے کہ مشتعل ہندو آبادی کے جذبات مزید نہ بھڑک اُٹھیں ۔ اگر کوئی اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ بھارت میں دھکنے والے مسلم دشمنی کے الائو سے پاکستان محفوظ رہے گا تو بہتر ہے کہ گذشتہ دس برس میں  بھارت میں عوامی مقبولیت پانے والے سیاسی رجحانات پر نگاہ ڈال لے۔
 ہندتوا کا آتش فشاں بالآخر پھٹ کر رہے گا ! اس آتش فشاں کا لاوا پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے گا۔ ابھی یہ آتش فشاں اندر ہی اندر اُبل رہا ہے ۔ اس سے بہہ کر نکلنے والا گرم لاوا اب تک صرف بھارت میں بسنے والے کمزور مسلمانوں کو جلا کر بھسم کر رہا ہے۔ کبھی گائے کی حرمت پر مسلمان کو سرعام لاٹھیوں اور پتھروں سے مارا جاتا ہے۔ کبھی سادہ لوح دیہاتیوں کو گھر واپسی کے نام پر ڈرا دھمکا کر ہندو دھرم قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بھارت میں قیام پاکستا ن سے تادم تحریر ہونے والے مسلم کُش فسادات کی تاریخ اور اعداد و شمار اُن خوش فہموں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں جو آج بھی بھارت سے ٹھنڈی ہوائوں کی امیدیں لگائے ہوئے ہیں ۔
 نقل مکانی کر کے آنے والے مہاجرین  کی شہریت کا تعین کرنے کے لیے کی جانے والی  حالیہ قانون سازی سے  پارلیمان میں ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوگیا کہ  بھارت عملی طور پر ایک ہندو راشٹر بن چکا ہے۔ نقل مکانی کرنے والے ہندو ، سکھ ، بدھ، پارسی ، عیسائی اور یہودی کو تو بھارت میں پناہ مل سکتی ہے۔ لیکن کسی مسلمان کے لیے بھارت میں کوئی جگہ نہیں ۔ بنگلہ دیش سے نقل مکانی کر کے آنے والے لگ بھگ بیس لاکھ آسامی شہریوں میں قریباً پندرہ لاکھ ہندو بتائے جاتے ہیں ۔ این آر سی کے تحت چوبیس  مارچ سن  اکہتر کے بعد آنے والے آسامی  مہاجرین کو حقِ شہریت حاصل نہیں تھا ۔ اس قانون سے پندرہ لاکھ ہندو آسامی متاثر ہو رہے تھے۔ ہندو ووٹرز کی حمایت واپس پانے کے لیے سی اے بی کی ترمیم متعارف کروا کر مسلمانوں کے علاوہ ہر مذہب کے پیروکار کو حق شہریت دے دیا گیا ہے۔ بی جے پی نے ثابت کر دیا ہے کہ دو قومی نظریہ درست تھا۔ 
بھارت میں ہندو اکثریت کی نظر میں ایک ہی قوم کھٹکتی ہے اور وہ ہے مسلمان۔ مسلم شناخت ، ثقافت ، رسومات ، اور تاریخی ورثے کو بھارت سے مٹانے کی مہم شروع ہو چکی ہے۔ مسلم شناخت کے حامل شہروں‘ قصبوں اور عمارتوں کے نام تبدیل کئے جا رہے ہیں ۔ بی جے پی تعصب پر مبنی جعلی تاریخ لکھوا کر مسلم مشاہیر کا تشخص مجروح کرنے کا عمل شروع کر چکی ہے۔ بھارت میں تیزی سے سر اُٹھاتے یہ مسلم دشمن رجحانات اصحاب فہم کے لئے قطعاً حیرت کا باعث نہیں ہیں ۔ بھارت کل بھی ایسا ہی تھا ۔ سیکولرازم اور عدم تشدد کی قبا کے نیچے مسلم دشمنی اور پاکستان دشمنی کا  جو خنجر کانگریس نے بڑی محنت سے چھپایا تھا اُسے آر ایس ایس کے جنونیوں نے عیاں کر دیا ہے۔  افسوس اُس مغرب زدہ پاکستانی لبرل اور لسانی نفرت کے مارے قوم پرست پر   ہوتا ہے جو آج بھی شیخ مجیب کی بنگالی قوم پرستی کی بد ترین شکست سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں ۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ دو قومی نظرئیے پر بننے والا پاکستان  بھی سات دہائیوں پر پھیلے  اندرونی خلفشار کے باعث بھارتی مسلمانوں کی موثر حمایت سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔ حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ پاکستان مستحکم ہو کر برصغیر میں ہندوتوا یلغار کے مقابل قائدانہ کردار ادا کرے۔ کیونکہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ہندوتوا کا اژدہا  آزاد کشمیر بھوٹان ، نیپال ، سری لنکا ، بنگلہ دیش سمیت انڈونیشیا اور بحیرہ جنوبی چین کو نگلنا چاہتا ہے۔