09:33 am
  یہ آئین  کے عاشق! 

  یہ آئین  کے عاشق! 

09:33 am

پیالی میں طوفان اٹھانے کی عادت ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی! ہر چینل کی مچان پر کئی کئی  دانشور افواہوں کی بندوق تھامے ہوائی فائرنگ میں مصروف ہیں۔ محبوب مشغلے دو ہی ہیں!  افواہوں کو بریکنگ نیوز بنا کر پیش کرنا اور پاک فوج کے متعلق ڈھکے چھپے الفاظ میں طنز کے تیر  برسانا ۔  اب کیا ہونے والا ہے؟ فوجی قیادت اب کیا سوچ رہی ہے؟ کوئی بڑا فیصلہ سامنے آنے والا ہے؟ حکومت چند ہفتوں کی مہمان ہے؟ کیا حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں؟  یہ طے ہے کہ ہمارے بڑ بولے اینکر جن صلاحیتوں کے حامل ہیں وہ بڑے بڑے عالمی شہرت یافتہ دانشوروں کے پاس بھی نہیں ۔ نوم چومسکی ، جارج فرائیڈ مین اور ہنری کسینجر ہمارے آل رائونڈر اینکرز کے سامنے پانی بھرتے نظر آتے ہیں ۔ چند گھنٹوں پہلے افواہوں کے تنور پر آرمی چیف کی توسیع کے نان سینکے جا رہے تھے اب سزائے موت کے فیصلے کو بنیاد بنا کر آئین کی حرمت کے کلچے لگائے جا رہے ہیں۔ مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ آچکا ہے۔ اپیل کا حق استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 
 
 عدالتی فیصلوں پر بیان بازی اور تنقید کا چلن ہماری سیاسی جماعتوں نے ہی عام کیا ہے۔ بھٹو مرحوم کی سزائے موت کا فیصلہ ایک سیاسی جماعت نے آج تک تسلیم نہیں کیا ۔ اس جماعت کے قائدین صدر اور وزیر اعظم جیسے مناصب پر فائز رہتے ہوئے کئی عدالتی فیصلوں پر تنقید کرتے رہے۔ حال ہی میں اسلام آباد سے لاہور تک ایک برسراقتدار جماعت کے راہنما مجھے کیوں نکالا کی قوالی کرتے ہوئے عدالتی فیصلوں پر عوامی جلسوں میں تنقید کرتے رہے۔ اسی جماعت کے ایک اہم رہنما کی ایک سابق جج کے ساتھ ہونے والی  وہ گفتگو کئی مرتبہ ٹی وی چینلز پر نشر ہوچکی ہے جس میں وہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف من چاہی عدالتی کارروائی کی یقین دہانی حاصل کرتے سنائی دیتے ہیں۔ عدلیہ کو کبھی کینگرو کورٹ کا نام دیا گیا تو کبھی ڈوگر کورٹ کہا گیا ۔ اس تناظر میں ملک کے منظم ترین ادارے نے اگر اپنی صفوں میں تیزی سے پیدا ہونے والی بے چینی اور اضطراب کا اظہار کیا ہے تو اس میں تعجب کیسا؟ بے چینی کی وجوہات پر غور کیا جانا اس لئے بھی لازم ہے کہ طویل مدت سے پاک فوج اندرونی اور بیرونی محاذوں پر بین الاقومی  دہشت گردوں کے خلاف چومکھی جنگ میں مصروف ہے۔ اس تلخ حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھا جانا چاہئے کہ جب پاک فوج کے افسر و جوان مادر وطن کے تحفظ کے لیے اپنے ہی لہو میں غسل کر کے شہادت کے جام پی رہے تھے تو ایک مخصوص  طبقے نے آئین اور آزادی اظہار رائے کی آڑ لے کر میڈیا کے محاذ پر عساکر پاکستان کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ مہم جاری رکھی۔  عقل سے پیدل  مفادات کی اسیر سیاسی قیادت نے بار بار جنگ میں مصروف فوج کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹا۔  ڈان لیکس کی گونج ابھی باقی ہے۔  
میمو گیٹ اسکینڈل آج بھی قوم کی یاد داشت میں محفوظ ہے۔ غدار اور وفادار کی بحث میں الجھے بغیر یہ بتا دیا جائے کہ کن خوبیوں کی بنیاد پر حسین حقانی جیسے مشکوک شخص کو امریکہ میں سفیر بنا کر بھیجا گیا تھا ؟ یہ شخص آج پاکستان آنے سے کیوں کترا رہا ہے؟ اسے کن سیاسی عناصر نے جہاز میں بٹھا کر فرار کروایا تھا ؟   اہم بات یہ ہے کہ عسکری ادارے کی جانب سے  مقدمے کی شنوائی میں  قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کی خواہش  کا اظہار کیا گیا ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں درج اصولوں کی روشنی میں انصاف کی استدعا کی گئی ہے۔ 
نون لیگی ارسطوئے زما ں احسن اقبال صاحب نے عدالت سے سزائے موت کا فیصلہ آنے کے بعد اسے جمہوری مستقبل کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے ۔  سوال یہ ہے کہ اُس  عدالتی فیصلے کا احترام کب کیا جائے گا جس کے  تحت اُن کی جماعت کے سابق وزیر اعظم سزا یافتہ مجرموں کی فہرست میں شمار کئے جا رہے ہیں ؟ اگر صدر مشرف کے خلاف غیر حاضری میں مقدمے کی سماعت ہو سکتی ہے تو کیا نون لیگ آج اسحاق ڈار اینڈ کمپنی کے خلاف بھی غیر حاضری میں سماعت کی حمایت کرے گی؟ کیا حسین حقانی کے خلاف بھی غیر حاضری میں مقدمہ چلایا جائے گا؟ بلاشبہ آئین کا احترام کیا جانا چاہیے ! افراد نہیں آئین اہم ہے۔ آئین دراصل قانون پر مقدم ہے۔  ادارہ جاتی انا کی بنا پر  ملک کے استحکام کو ہرگز دائو پر نہیں لگنا چاہیے۔ قانون کا یکساں اطلاق ہی ہمارے مسائل کا حل ہے۔ ننانوے کی وسیع تر آئین شکنی کو پارلیمان میں تحفظ فراہم کرنے والی پی پی پی کس منہ سے ایمرجنسی کے نفاذ کو آئین شکنی سے تعبیر کر رہی ہے؟ سوشل میڈیا پر مرحوم بینظیر صاحبہ کا وہ بیان پی پی پی کا سر جھکانے کے لیے کافی ہے جس میں وہ جنرل مشرف کو ٹی وی پر آکر نواز حکومت کے غیر آئینی اقدامات اور فوج کو تقسیم کرنے کی  سازش  کو  جمہوری حکومت کی  فوج  کے ہاتھوں جبری رخصتی کا جواز بنانے کا مشورہ دے رہی ہیں۔ 
جنرل ضیاء کا  مارشل لاء  بھی  آئین شکنی تھا۔آئین شکن شخص کے تحت حلف اٹھانے والے سیاست دان بھی آئین کی نظر میں مجرم ہیں۔ آج پی پی پی ، نون لیگ اور پی ٹی آئی کی صفوں میں سابق  آئین شکن  آمروں کے وفاداروں کی بھیڑ لگی ہے۔  مارشل لاء کا سب سے بڑا نقصان ہی یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں  نکمے اور نااہل شریف ، گیلانی ، قریشی ، چٹھے اور چوہدری ملک پر مسلط ہو جاتے ہیں ۔ کاش اصغر خان کیس کا فیصلہ ہو  اور قوم یہ جانے کہ آئی جے آئی کے جھنڈے تلے میاں صاحب نے کس کس ادارے سے مال بٹور کر جمہوری کلچر کو داغدار کیا تھا؟  کس طرح محمد خان جونیجو  کے  خلاف سازشیں رچا  کر مسلم لیگ کی قیادت پر راتوں رات قبضہ جمایا گیا تھا؟   جنرل حمید گل نے کئی مرتبہ عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ آئی جے آئی کی تشکیل کے حوالے سے ان کا موقف سنا جائے۔ ایسا نہ ہو سکا اور بہت سے راز سینے میں لیے جنرل صاحب دنیا سے رخصت ہوگئے۔ کیس کے مدعی ائیر مارشل اصغر خان بھی اب دنیا میں نہیں لیکن تاریخ دان یہ کہتے ہر گز نہیں ہچکچائے گا کہ ضیاء مارشل لاء اور آئی جے آئی کی مشکوک تشکیل کے وقت اصغر خان اور علامہ شاہ احمد نورانیؒ ہی وہ دو اصول پسند رہنما تھے جو کسی آمر یا ادارے کی غیر جمہوری سازش کا حصہ نہیں بنے۔