09:03 am
  نظریاتی بنیادوں میں پھیلتی دیمک 

  نظریاتی بنیادوں میں پھیلتی دیمک 

09:03 am

غیر ضروری مباحث میں الجھی قوم کو ادراک نہیں ہو پارہا کہ کیا خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں؟ سوشل میڈیا نے اطلاعات کے سمندر تک رسائی تو  دے دی لیکن  تیرنا نہیں سکھایا۔  تیرنے کے ہنر سے ناآشنا  کچے اذہان  اب  فکری غوطے کھا رہے ہیں ۔  مغرب کی ڈگڈگی پر اندھا دھند ناچنے والا جعلی دانشور دو قومی نظرئیے اور قیامِ پاکستان کے خلاف نوجوان طبقے کو گمراہ کرتا رہا ۔ آپ کو شک ہو تو یو ٹیوب  پر ہمارے میڈیائی افلاطونوں کے وہ درجنوں پروگرام دیکھ سکتے ہیں جن میں جناحؒ اور اقبالؒ کی بے مثال نظریاتی اساس کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔ پاکستان کی اسلام سے وابستگی کا مظہر وہ نعرہ ہے جو تحریک پاکستان کے دوران قریہ قریہ گونجا تھا !
 
پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اﷲ محمد الرسول اﷲ(ﷺ)۔   اﷲ اور رسول ﷺ سے نظریاتی  وابستگی     کی  بدولت پاکستان کئی قوتوں کی نگاہ میں کھٹکتا ہے۔ آمریتوں اور  جمہوری ادوار کے نشیب و فراز سے  گزرتے ہوئے کم از کم آئین کی حد تک پاکستان نے اﷲ بزرگ و برتر کی حاکمیت کو تسلیم کر لیا ۔ ایک آئینی ترمیم کی صورت نبی مکرمﷺ کی ختم نبوت کے منکرین کی حیثیت کا تعین بھی ایک اہم پیش رفت تھی ۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ  سود جیسی لعنت کو ریاستی نظام سے خارج کرنے کے لیے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی ۔ یہ معاملہ عدلیہ میں زیر غور آیا ۔ سود کے خاتمے کے لیے عدالت نے فیصلہ بھی جاری کیا لیکن  خود ریاست سود ی نظام کی وکیل بن کر عدلیہ میں پیش ہوئی ۔ احکامات الٰہیہ کی سر عام دھجیاں اُڑا کر ہمارے حکمرانوں  نے اس بات کا عملی ثبوت فراہم کیا کہ نظریہ پاکستان سے انہیں کوئی سرو کار نہیں ۔ رنگ ، نسل ، زبان اور علاقائی رشتوں کو رد کر کے محض کلمہ توحید و رسالت کی بنیاد پر مسلم قومیت کی بنیاد پر قائم ہونے والے ملک کو لسانی نفرتوں کے ہتھیار سے تقسیم کرنے کا عمل بھی قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا ۔ سوشل میڈیا کے  سمندر میں غوطے کھانے والی نئی نسل کو یہ جاننا چاہیے کہ پشتون اور بلوچ قو م پرستی کے نام پر  کس طرح ابتدائی تیس برسوں میں پاکستان پر وار کئے گئے؟ بھارتی سرمایہ براستہ افغانستان آتا رہا ! اس  بھارتی  سرمائے کے بل بوتے پر پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی کا بازار گرم کیا گیا ۔  قیام پاکستان  کے وقت  جس خیبر پختونخوا ہ نے پیر صاحب مانکی شریف کی قیادت میں سرحدی گاندھی کو  مسترد کر دیا تھا  اُسی خطے میں کمیونزم اور سوشلزم کا جعلی انقلابی ڈھکوسلہ رچایا گیا ۔  یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ  اسلام کے نام پر بننے   والے  جناحؒ اور اقبالؒ کے پاکستان کو توڑنے کے لیے جعلی سرخے کامریڈوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ۔ بھارت اور روس  کے سرمائے سے افغانستان میں تربیتی کیمپ قائم کروائے! غریب پشتونوں اور بلوچوں کے بچوں کو روزگار اور پیسے کا لالچ دے کر جرائم اور دہشت گردی کی بھٹی میں دھکیلنے والے جعلی کامریڈوں کی حقیقت انہی کی صفوں میں وقت گزارنے والے گھر کے بھیدی  جناب جمعہ خان صوفی  نے اپنی کتاب فریب ناتمام میں بیان کر کے تاریخ کا  قرض اتارا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے خلاف بھونکنے والا ہر سگِ مجنوں کسی نہ کسی لسانی جتھے کی پناہ تلاش کرتا ہے  یا پھر اس ملک کے دشمنوں کی گود میں بیٹھ کر پاکستان پر غراتا رہتا ہے ؟  سرحدی گاندھی ، بلوچی گاندھی ، بنگلہ بندھو ، نائن زیرو کا بھگوڑا پیر صاحب ، مری اور بگٹی قبائل کے جلا وطن بھگوڑے انقلابی ایک ہی راگ الاپتے دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان میں بہت ناانصافی ہے۔ کل کا قوم پرست تاریخ کے کوڑے دان میں اپنا مقام پا چکا ہے اور آج کا قوم پرست تیزی سے اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ لیکن پاکستان کے نام لیوائوں اور خیر خواہوں کی کوتاہیوں کی بدولت آج یہ ملک بھی زخم زخم ہے۔  نظریہ پاکستان  کے خلاف زہریلی مہم محض میڈیا تک محدود نہیں رہی۔ یہ امر غور طلب ہے کہ  اسلام سے وابستگی اور دو قومی نظرئیے کو فکری تنزلی قرار دینے والے طبقے کو میڈیا ہائوسز اور جامعات میں رسائی کس طرح حاصل ہوئی؟ اسلام آباد اسلامک یونیورسٹی میں شہید ہونے والے نوجوان طالبعلم کا لہو حکمرانوں سے سوال کر رہا ہے؟ یہ واقعہ نفرتوں کی اُس  دیگ کا ایک دانہ ہے جو ہماری صفوں میں چھپی کالی بھیڑوں نے دم پر چڑھا رکھی ہے ۔ اس دیگ کے نیچے لسانی تعصبات کی آگ دہک رہی ہے۔ جامعات میں  لسانی تنظیموں اور جتھوں کا قیام ملکی یکجہتی کے لیے زہر قاتل ثابت ہو گا ۔  افسوسناک بات یہ ہے کہ جامعات کے اہم عہدیداروں کی جانبداری پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں ۔ یہ تشویشناک امر ہے کہ یکا یک طلباء تنظیموں کی بحالی کے نام پر پورے ملک میں مظاہرے کئے گئے۔ ان مظاہروں میں نعرے تو سرخ انقلاب کے لگائے گئے لیکن دستیاب اطلاعات کے مطابق خرچا پانی امریکہ اور ناروے سے فراہم کیا گیا۔ اب ایک منظم منصوبے کے تحت جامعات میں لسانی تشدد کا سلسلہ شروع کروایا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر ملک کے اندر اور باہر بیٹھے وہ حلقے اور سوشل میڈیائی بقراط اس سارے سلسلے کی پشت پناہی کر رہے ہیں جو کہ علی الا علان نظریہ پاکستان  کے بھی منکر ہیں ، اسلامی قوانین کی بھی مخالفت کرتے ہیں ، آئینِ پاکستان کی اسلامی دفعات کو بھی مسترد کرتے ہیں اور  فحاشی  کے فروغ کے لئے سرگرداں ہیں ۔ اس طبقے کی چند واضح نشانیاں یہ بھی ہیں کہ یہ توہین رسالت کے مرتکب ہر ملزم یا مجرم کے حمایتی بن کر مغربی طاقتوں سے پیسہ وصول کرتے ہیں اور پاکستان کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے والے ہر متعصب قوم پرست کی پشت پر کھڑے ہو کر ملک کی نظریاتی و جغرافیائی وحدت پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ آج جب بھارت نے متنازعہ شہریت کے قانون کے ذریعے  یہ ثابت کر دیا کہ بھارت ایک ہندو راشٹر ہے اور مسلمان ایک جدا قوم ہے تو انسانی حقوق کے یہ جعلی علمبردار خاموش ہیں ۔ آج جب کشمیر کی مائیں ، بہنیں ، پیر و جوان بھارتی سنگینوں تلے سسک رہے ہیں تو جعلی لبرل کامریڈ اور انقلابی گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ملک بھر کی جامعات اور تعلیمی اداروں میں پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے والے جعلی دانشوروں کو بے نقاب کیا جائے۔