09:49 am
  ملت کا پاسباں 

  ملت کا پاسباں 

09:49 am

 ملک میں سرخ سرخ لہرا کر ہوش ٹھکانے لانے کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ یوم قائد ؒ بھی آن پہنچا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے  نوجوان نسل کو یہ جاننا چاہیے کہ مسلمانانِ برصغیر  کو پاکستان کی صورت   آزاد  کسی لبرل ٹوڈی یا جعلی سرخے نے نہیں دلوائی  تھی۔ یوم قائدؒ کے موقع پر ان نوجوانوں  کو حقائق سے روشناس کروانا ضروری ہے۔ جو مٹھی بھر  مدہوش کامریڈوں کے جھانسے میں آ کر  سرخ سرخ لہرا کر ہوش ٹھکا نے لگا نے کے بے بنیاد نعرے بلند کر رہے ہیں۔ 
جب تک پاکستان ہے تاریخ عالم میں محمد علی جناحؒ کا ذکر بھی زندہ رہے گا اور بر صغیر میں دو قومی نظریئے کی بنیاد پہ  قائم ہونے والی ریاست کا بھی تذکرہ ہوگا ۔  جناح سے قائد اعظمؒ تک کا سفر محض ایک کامیاب شخص کی داستان نہیں بلکہ برصغیر میں ملت اسلامیہ کے سیاسی و سماجی ارتقاء کی وہ تاریخ ہے جس کی بناء پہ خطے کا جغرافیہ تبدیل ہوا۔ شاعر  نے جناحؒ کو ملت کا پاسباں قرار دیتے ہوئے اپنی بے پایاں عقیدت کو تاریخی حقیقت کا ایسا خوبصورت مظہر بنا دیا کہ جسے قطعاً مبالغہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ کیا عجب حقیقت ہے کہ جناح نے سیاست کا آغاز کانگریس سے کیا ! بر صغیر میں بقائے باہمی کے لیے جناحؒ ہندو مسلم اتحاد کے داعی بن کے ابھرے ۔  جن کی نگاہ دور بیں نے کانگریسی قیادت کی منافقت اور مسلم دشمنی  کو بر وقت بھانپتے ہوئے اپنا سیاسی راستہ جدا کرلیا ۔ اسلامیانِ ہند کی سیاسی زبوں حالی سے دلبرداشتہ جناح ؒ کچھ عرصے کے لیے  کارزار سیاست سے دور لندن میں بھی مقیم رہے۔ یہ شاعرِ مشرق اقبالؒ تھے جن کی بدولت جناح ؒبر صغیر میں اسلامیانِ ہند کا سیاسی مقدمہ لڑنے کے لیے راضی ہوئے۔ مسلم لیگ کی قیادت کا تاج کب جناحؒ کے سر سجا ؟ کانگریس کی سازشانہ سیاست نے راہ میں کیا کیا روڑے اٹکائے ؟ قدآور دینی شخصیات سے کیا فکری اختلافات تھے ؟ 
نہرو رپورٹ کے مقابل جناح ؒکے تاریخی چودہ نکات نے ابتدائی طور پہ کانگریس کی سیاسی یلغار پہ کس طرح مسلم حقوق کے تحفظ کے لیے بند باندھا ؟ کس ارتقائی عمل سے گذر کے مارچ سن چالیس میں  منٹو پارک کے اجتماع میں مسلم خود مختاری کا مطالبہ سامنے آیا ؟ آنے والے اگلے سات برسوں میں یہ سیاسی جدوجہد کس طرح پاکستان کے قیام کی جانب یک سو ہوئی ؟ کب جناح ایک ماہر قانون دان اور زیرک پارلیمینٹیرین سے قائد اعظم ؒبنے اور شاعر خوش خیال نے انہیں بجا طور پہ  ملت کا پاسباں قرار دیا ؟ یہ سب تاریخ کے صفحات  میں محفوظ ہے ! وہی تاریخ کہ جس کے صفحات الٹنے کی نہ تو ہمیں آج فرصت ہے اور نہ ہی اس سے کوئی سبق کشید کرنے کی ہمیں عادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل پہ مغرب زدہ جعلی لبرل دانشوروں کی یلغار جاری ہے ۔
 قیام پا کستان کی تاریخ سے بے بہرہ نوجوان نسل کے ذہن میں یہ فکر منتقل کی جاتی ہے کہ یہ  ملک تو بنا ہی غلط ہے ! دوسری ہی سانس میں جعلی لبرل قائد ؒ کی گیارہ اگست کی تقریر سے لبرل ازم اور سیکیولر ازم دریافت کرنے کی سعئی لا حاصل شروع کر دیتے ہیں ۔ کوئی اُن سے یہ نہیں  پوچھتا کہ پہلے یہ  تو طے کرو کہ ملک غلط بنا تھا کہ درست ؟ یہ کیا بات ہوئی کہ کبھی آپ یہ کہیں کہ  یہ ملک تو بنا ہی غلط تھا ! اور کبھی قائدؒ کی گیارہ اگست کی تقریر میں سے سیکیولرازم اور لبرل ازم کو پاکستان کی منزل مقصود قرار دے دیں ! پاکستان جن مقاصد کے لیے بنا تھا وہ آئین پاکستان میں درج کئے جا چکے ہیں ۔ قرار داد مقاصد پہ بھی یا ر لوگوں کو اعتراض ہے !  بائیس نکات پہ مبنی قرار داد مقاصد کے کسی ایک نکتے پہ بھی بامقصد بحث کئے بغیر محض اعتراض اس لیے داغے جاتے ہیں کہ ان نکات کو مرتب کرنے میں ملک کے جید علماء کرام نے بنیادی کردار ادا کیا تھا ۔ جب ملک کا آئین موجود ہے تو پھر ملک کے نظریاتی قبلے کا تعین کرنے کے لیے بحث پارلیمان کے فورم پہ ہی ہونی چاہیے ۔ یہ کام منتخب نمائندوں کا  ہے ۔ ملک کے آئین  کی ہیئت میں بنیادی تبدیلی آئین ساز اسمبلی کا کام ہے ۔ جو لبرل مداری  ایک کونسلر کی نشست نہیں جیت سکتے وہ ٹی وی سٹوڈیو میں چرب زبانی کی بنیاد پہ ملک کا آئینی ڈھانچہ بدلنے کا کرتب دکھانا چاہتے ہیں ۔ 
مغربی دنیا  کے  سرمائے  کی چابی پہ چلنے والے لبرل کھلونے اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کے لیے قائد اعظم ؒکو لبرل یا سیکیولر بنانے کی بھونڈی کوششیں کرتے رہتے ہیں ۔ آج پاکستان میں قائد ؒ کو سیکیولر یا لبرل ثابت کرنے کے لیے بے تکے مباحث چھیڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ نئی نسل کو یہ بتانا ضروری ہے کہ محمد علی جناح ؒ بد عنوان نہیں تھے ۔ مغرب سے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ان کی طرز معاشرت سے مرعوب نہیں تھے ۔ جناح ؒنے نہ تو سرکاری وسائل پہ عیاشیاں  کیں اور نہ ہی لوٹ مار کر کے بیرون ملک خفیہ اثاثے بنائے ۔ نہ سرکار کے وسائل پہ ناجائز پروٹوکول لیئے۔ نہ عدالتوں میں قانونی شعبدہ بازیاں رچا کے انصاف کے اصولوں کو پامال کیا ۔ جناحؒ اقرباء پروری اور سفارش پہ نہیں بلکہ میرٹ پہ یقین رکھتے تھے ۔ 
 جناح ؒنے ملت کے مفادات کا سودا نہیں کیا بلکہ اسلامیان ہند کے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے عہد کی شاطر قوتوں سے چو مکھی جنگ لڑی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسلامیان بر صغیر انہیں قائد اعظم ؒ کہتے ہیں ۔ لبرل ازم یا سیکیولر ازم کی بحث میں پڑنے والوں کے لیے اتنا اشارہ ہی کافی ہے کہ شاتم رسول راج پال کو واصل جہنم کرنے والے غازی علم الدین ؒ کے مقدمے کی پیروی کے لیے محمد علی جناح بنفس نفیس تشریف لائے تھے۔ اسلامیان ہند کیوں نہ انہیں ملت کا پاسباں کہیں؟