07:27 am
پروپیگنڈے کی  فیکٹریاں 

پروپیگنڈے کی  فیکٹریاں 

07:27 am

 لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے فائر بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں ۔ تازہ جھڑپ دیوا سیکٹر میں ہوئی ۔ دو فرزندانِ وطن  کے جسدِ خاکی  شہادت کا تاج سر وں پر سجائے قومی پرچم میں لپٹے جب اپنے آبائی علاقوں میں پہنچے ہوں گے تو ورثاء کو پرسہ دینے والوں نے مبارک باد دی ہو گی ۔
 
یہی ہمارے معاشرے کا دستور ہے کہ  شہادت کا عالی رتبہ پانے والوں کے ورثاء کو مبارک و تحسین سے تکریم بخشتے ہیں! یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ خاندان کا  فرد ان عظیم ہستیوں کی صف میں شامل ہوا جنہیں امت صدیوں سے  شہدائے کر بلا اور  شہدائے بدر و اُحد پکارتی  ہے !  جن  کا تذکرہ سُن کر سر ادب سے جھک جاتے ہیں اور سینے شوق شہادت سے معمور ہوتے ہیں۔ جہاد رسول مکرمﷺ کی سنت ہے۔ بلاشبہ شہادت کا رتبہ خاندان والوں کے لیے تا حیات وجہ افتخار ہے۔ لیکن ذرا تصور کیجیے کہ وطن کی حفاظت کرتے اپنے ہی لہو میں غسل کرنے والے  جوان بیٹے کی ماں کے لیے  یہ  کیسا کٹھن مرحلہ ہے۔ شہید کی جواں سال بیوہ کے لیے کیسا بڑا امتحان ہے؟ یتیم ہونے والے بچوں کے لیے کیسے کیسے مسائل  کے عفریت منہہ کھولے بیٹھے ہیں؟ افواجِ پاکستان میں شہداء کی فلاح اور تکریم کا مربوط اور فعال نظام رائج ہے۔ تاہم یہ بھی  ایک حقیقت ہے کہ دنیا بھر کی نعمتیں اور آسائیشیں ماں  کے لیے  بیٹے کا نعم البدل ثابت نہیں ہو سکتیں، بیوہ کی اجڑی دنیا نہیں بسا سکتیں اور بچوں کو سایہ پدری فراہم نہیں کر سکتیں۔ جن گھرانوں کو رب کریم نے شہادت کے رتبے کے لیے چن لیا انہیں بے پناہ صبر بھی وہی عطا فرماتا ہے۔ لیکن ایک مسئلہ ہمارے سماج میں ایسا بھی ہے جس پر توجہ دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ اب پانی سر سے گزرتا دکھائی دے رہا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ تصور کیجیے کہ جس بچے کے شہید باپ کے  جسد خاکی کو  آج قومی پرچم میں لپیٹ کر پاک فوج نے سلامی دے کر سپرد خاک کیا کل اُسی بچے کو محلے میں کوئی شخص یہ طعنہ دے کہ تمہارا باپ شہید نہیں بلکہ قبائلی علاقوں میں پشتونوں کا  یا بلوچستان میں بلو چوں کا قتل عام کر رہا تھا تو نتیجہ کیا نکلے گا ؟ شہید کا یتیم بچہ کیا سوچے گا ؟ شہید کی ماں کے دل پر کیا گذرے گی؟ اور جواں سال بیوہ کی سماج میں کیا عزت ہوگی؟  سوشل میڈیا پر راتوں رات جنم لینے والے بقراط وطن پر جان قربان کرنے والے مجاہدوں کو  کیا بنانا چاہ رہے ہیں ؟  آپ سوشل میڈیا پر ہمہ وقت جاری رہنے والے دشنام طرازی اور گھٹیا طعن و تشنیع  کے ٹورنامنٹ کا جائزہ لے لیں ۔ ایک مخصوص طبقہ فکر عساکر پاکستان کے خلاف مسلسل زہر اگلنے میں مصروف ہے۔ امریکہ ، برطانیہ اور یورپی ممالک میں مختلف تھنک ٹینکوں کی گود میں بیٹھ کر پاکستان میں فکری انتشار کو  ہوا دینے والے جعلی بقراطوں کا بیانیہ ایک ہی نکتے پر مرکوز ہے کہ اس پورے خطے میں فساد کی موجب پاک فوج ہے۔ سوشل میڈیا پر مشکوک اکائونٹس زہر اُگل رہے ہیں۔ بھگوڑے سیاستدان، صحافی ، نام نہاد دانش ور اور نوسر باز ملک سے باہر بیٹھ کر ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ پاکستان کو کیسے سدھارنا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایم کیو ایم کے خود اختیاری جلاوطن بانی الطاف حسین کے اُس انٹرویو کی ویڈیو پھیلائی جا رہی جو موصوف نے بھارتی نیوز چینل کو دیا ۔ را کے رٹائے ہوئے جوابات طوطے کی طرح سناتے ہوئے الطاف حسین نے بھی دنیا بھر میں مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن پاکستان کو قرار دیا ۔ پاکستان کی فوج پر نسل کشی کا الزام لگایا اور بھارت کو دنیا بھر میں مسلمانوں کو سب سے بڑا خیر خواہ قرار دیتے ہوئے نریندر مودی سے بھارتی شہریت کی بھیک مانگی۔ جی ہاں وہی بھارت جو کشمیر سے آسام تک مسلمانوں کا وجود مٹانے کے منصوبے پر کار فرما ہے۔ پاکستان سے دم دبا کر بھاگنے والے بھارت کے  سب تنخواہ دار ہرکارے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کی فیکٹریاں چلا رہے ہیں ۔ ان وطن فروشو ں نے فیس بک ، واٹس ایپ ، ٹوئٹر سمیت آن لائن میگزینز کے ذریعے پاکستان کے خلاف محاذ قائم کر رکھا ہے۔ نئی نسل کے اذہان میں دو قومی نظرئیے ، قائد ؒ کے افکار ، اقبالؒ کی تعلیمات ، اسلامی طرزِ حیات اور عساکر پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مواد داخل کیا جا رہا ہے۔ وطن پر شہید ہونے والوں کو قاتل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔  سیاسی کیچڑ  میں لتھڑے  مارشل لاء جیسے  ماضی  کے  متنازعہ واقعات کو بنیاد بنا کر عوام اور فوج میں خلیج پیدا کی جا رہی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اس نفرت انگیز مہم کا بھرپور سد باب کیا جائے۔ ایوب اور یحییٰ کے مارشل لاء بھی غلط تھے اور اُن کے اقتداء میں ہاتھ باندھے سر کو  جھکائے کھڑے سیاستدان، جج اور نوکر شاہی بھی غلط تھی۔ جنرل ضیاء کا مارشل لاء غلط تھا تو غیر منتخب کابینہ میں وزارتوں کا حلف اٹھانے والے، مجلس شوریٰ جیسے غیر آئینی فورم کا حصہ بننے والے اور غیرجماعتی اسمبلیوں میں بیٹھنے والے بھی غلط تھے ۔ جنرل مشرف نے اگر  نون لیگی حکومت کو ناجائز اقدام کے ذریعے چلتا کیا تھا تو پھر اُس  عمل کے نتیجے میں جنم لینی والی قومی و صوبائی اسمبلیاں  ، قاف لیگ جیسی جماعتیں ، وفاداریاں بدلنے والے فصلی بٹیرے اور آمرانہ اقدام پر عدلیہ کی تصدیقی مہر ثبت کرنے والوں کی حیثیت کا تعین کب کیا جائے گا ؟ سرحدوں پر جان قربان کرنے والے مجاہد اور اُس کے ورثاء سے ماضی کے آمروں کے اُن سیاسی فیصلوں کا جواب نہ طلب کریں جن میں عدلیہ اور سیاستدان برابر کے شریک تھے۔کمال یہ ہے کہ  ماضی میں ووٹ کی سیاسی  عصمت دری کرنے والے اور آئین کے ساتھ آمرانہ دست درازی میں شریک جرم رہنے والے  آج ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگاتے ہوئے اُس پاک فوج پر انگلیاں اٹھا رہی ہے جو بھارتی دہشت گردی اور ہندوتوا کے عفریت کے مقابل سیسہ پلائی دیوار بن کے کھڑی ہے۔