07:36 am
جشن کس بات کا؟ 

جشن کس بات کا؟ 

07:36 am

 نیا  عیسوی سال شروع ہوئے دو یوم بیت گئے ۔  گو مذہبی تہوار  قمری کیلنڈر  کے مطابق منائے جاتے ہیں لیکن  ریاستی امور عیسوی کیلنڈر کے تحت چلائے جانے کی وجہ سے سال ِ نو کی تقریبات کا رواج عام ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر نئے سال کی نیک تمنائوں کا اظہار کرنے کے لئے پیغامات کی بھرمار رہی۔ بات اگر دعائوں یا نیک تمنائوں تک محدود رہتی تو  کچھ حرج نہیں تھا  ۔ البتہ معاملہ کچھ اور رنگ اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کچھ برسوں سے ہر تہوار یا اہم دن کے موقع پر ناچ گانے کے سلسلے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ بڑے شہروں کے ہوٹلز اور تعلیمی اداروں میں نئے سال کے استقبال کی تقریبات کی آڑ میں بر سر عام سماجی اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔
 
بعض منچلی طبیعت کے مرد و زن اس بات پر فوراً بدک اٹھتے ہیں کہ کسی بھی تہوار کو اپنی پسند اور ذوق کے مطابق منانا اُن کا نجی معاملہ ہے۔ لہٰذا کوئی شخص یا ادارہ اُن کے ساتھ  روک ٹوک  نہ کرے! یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کہ اگر کوئی فرد اپنے گھر کی چار دیواری میں کوئی تقریب یا جشن مناتا ہے تو پھر کسی دوسرے کا اُس کے ذاتی فعل سے کیا سروکار! اﷲ جانے اور بندہ جانے! لیکن اگر جشن کے نام پر برسرعام ہلڑبازی کی جائے ۔ عوام کی نقل و حرکت کو متاثر کیا جائے ۔  تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے عمل میں بے جا رخنہ اندازی کی جائے تو پھر متاثرہ فریق سے اعتراض کا حق نہیں چھینا جا سکتا۔ وفاقی دارلحکومت میں بابائے قوم سے منسوب جامعہ کا احوال جان کر ملک کے نظرئیے سے وابستگی رکھنے والا ہر فرد دکھ محسوس کرے گا۔ جامعہ میں داخل ہونے کے لیے بنائی گئی گذرگاہ کو بابِ قائد کہا جاتا ہے۔ قوم کے معماروں نے اسی بابِ قائد پر نئے سال کے استقبال کے لیے جشن کے نام پر  رات بھر ہلڑبازی کی ۔ دور دراز سے جامعہ میں آنے والے طلباء کی آمد و رفت کے لیے چلائی جانے والی بسوں کی روانگی میں  تاخیر کا سبب یہ تھا کہ جشن کا اہتمام کرنے والی ایک لسانی تنظیم کے منچلے کارندے شاہراہ  پر  ٹریفک روک کر ڈھول تاشے بجا نے میں مصروف تھے۔ یہ ایک جامعہ کا حال نہیں بلکہ بیشتر چھوٹے بڑے تعلیمی اداروں میں سالِ نو کے جشن کی آڑ میں رقص ابلیس کا اہتمام کیا گیا تھا۔  کیا ایک جامعہ میں غیر نصابی سرگرمیوں کا یہ چلن درست ہے؟ کیا بابائے قوم کی تعلیمات یہی تھیں کہ نوجوان نسل بے مقصد ہلڑبازی میں اپنا قیمتی وقت برباد کرے؟ کیا آج پاکستان کے اندرونی اور بیرونی مسائل حل ہوگئے ہیں ؟ جامعات طلباء کے لیے صحتمند اور مفید غیر نصابی سرگرمیوں کا اہتمام کرنے میں کوتاہی کی مرتکب کیوں ہو رہی ہیں ؟ ایک عام شہری یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ آخر ہر تہوار یا جشن کی تان رقص و سرود اور مخلوط اجتماعات پر ہی کیوں ٹوٹتی ہے ؟ مستند اور معروف تہواروں  پر جامعات کی انتظامیہ کو سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے۔ 
 ایک ہفتہ قبل بابائے قوم محمد علی جناح ؒ کا یوم پیدائش تھا ۔ بانی پاکستان سے منسوب جامعہ میں کسی تقریب کا اہتمام نہ ہوسکا ۔ ایک طالبعلم کے بقول جامعہ میں بے دلی سے ایک چھوٹا سا پوسٹر آویزاں کر کے انتظامیہ نے اپنے فریضے سے جان چھڑوالی۔ اسی جامعہ میں  عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر کوئی قابلِ ذکر تقریب منعقد نہ کی جاسکی۔  لسانی تنظیمیں نئے سال اور اپنے  نام نہاد ثقافتی جشنوں کی آڑ میں بے راہ روی پر مبنی تقریبات کا اہتمام کرنے میں تو پیش پیش دکھائی دیتی ہیں لیکن اہم قومی ایام سے  کھچائو یہ ثابت کرتا ہے کہ طلباء کی شعوری تربیت میں سخت کوتاہی برتی جا رہی ہے۔ 
گزشتہ چند برسوں کے دوران نہایت تیزی سے ٹی وی ڈراموں اور بے تکے مارننگ شوز کے ذریعے معاشرے میں ایسے رجحانات کو  پھیلایا گیا ہے جن کی بدولت شرم و حیا  ، گھریلو سکون ،  قومی نظریاتی افکار  اور مذہبی اقدار پر کاری ضرب لگی ہے۔ موقع بے موقع تعلیمی اداروں میں جشن کے نام پر رقص و سرود کے مخلوط اجتماعات کی صورت  عریانی و فحاشی کا فروغ ہمارے ملی وجود کے لیے زہر قاتل ثابت ہو گا ۔ صحتمند تفریح سے کسی کو انکار نہیں ۔ جامعات کی انتظامیہ اس امر کو یقینی بنائے کے جن بچوں کو دور دراز علاقوں سے اُن کے غریب والدین نے اپنا پیٹ کاٹ کر حصول تعلیم کے لیے بھیجا ہے  ان میں سے کوئی کسی لسانی شعبدہ باز کے ہتھے چڑھ کر جشن منانے کی آڑ میں شراب کے نشے میں دھت کسی نالے میں اوندھے منہ نہ پڑا ہو۔ بابائے قوم محمد علی جناح ؒ  اور شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے نوجوانوں کو پیہم جدو جہد ، حصول علم اور جفاکشی کی تلقین کی تھی۔ ٹھمکے ، چرس کے سوٹے ، شراب کی چسکیاں اور بے راہ روی ایک باشعور نوجوان کا شعار نہیں ہونا چاہیے۔ غیرت ملی کا تقاضا بھی یہی  ہے کہ طبلے کی تھاپ پر رقص کرنے کے بجائے ایسی غیر نصابی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے جن کی بدولت قومی مسائل سے آگاہی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ فکری تربیت اور عملی جد وجہد کا بھی اہتمام ہو سکے۔ نئے سال کی خوشی میں جشن منانے والے نوجوان ٹھنڈے دل سے اس حقیقت پر غور کریں کہ کیا یہ طرز عمل درست تھا ؟ کیا کشمیر میں غاصب ہندو ریاست کا جبر ختم ہو چکا ہے؟ کیا بھارت کا مسلمان ہندوتوا بریگیڈ کے ہاتھوں میں محفوظ ہے؟ 
کیا افغانستان میں خون ریزی کا سلسلہ تھم چکا ہے؟ کیا پاکستان میں دہشت گردی کا قلع قمع ہو گیا ؟ کیا آج ہماری معیشت مستحکم ہے؟ کیا روہنگیا ، کشمیری اور فلسطینی مائوں بہنوں کی آہ و فغاں بند ہوچکی ہے؟ اگر ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو میرے عزیز نوجوان پھر جشن کس بات کا ؟