07:42 am
 یوم حق خود ارادیت

 یوم حق خود ارادیت

07:42 am

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے  19دسمبر 2019کو  پاکستان کی سپانسر شپ میں ایک قرار داد منظور کی ،جس میں مظلوم کشمیری عوام کے بھارتی قبضے سے آزادی کے لئے حق خودارادیت کی جدوجہد کو ازسر نو جائز قرار دیا گیا۔اتفاق رائے سے منظور کی جانے والی اس قرار داد، جس میں دنیا کے 81  ممالک نے تعاون کیا ، نے ان ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی غیر ملکی فوجی مداخلت اور بیرونی ممالک اور علاقوں پر قبضے کے ساتھ ساتھ جبر، امتیازی سلوک اور بدتمیزی کی کارروائیوں کو بھی فوری طور پر ختم کریں۔قرارداد کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے اسے ایک کامیابی قرار دیا۔حق خود ارادیت سے متعلق اقوام متحدہ  کے چارٹر  کے باب اول کا آرٹیکل 1 (2) عالمی ادارہ کے مقصد اور اصولوں کا اجمالی خاکہ پیش  کرتا ہے۔ اس میں ان الفاظ میں خود ارادیت کے حق کا مقصد بیان کیا گیا ہے ’’   مساوی حقوق اور لوگوں کے حق خودارادیت کے اصول پر، اور عالمی امن کو مستحکم کرنے ،دوسرے مناسب اقدامات اٹھانے کے لئے ، احترام کی بنیاد پر اقوام کے مابین دوستانہ تعلقات استوار کئے جائیں‘‘۔ اس بنیاد پر ہر کسی کو حق خود ارادیت حاصل ہے۔ اس کے تحت لوگ  اپنے سیاسی سٹیٹس کا آزادانہ تعین کرسکتے ہیں، آزادی سے اپنی معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی پر توجہ دے سکتے ہیں۔بین الاقوامی عدالت انصاف نے نامیبیا، مغربی سہارا، مشرقی تیمور سے متعلق اسی اصول کو اپنایا مگر کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے کے لئے بھارت پر دبائو نہ ڈالا جا سکا۔اس لئے پاک بھارت دو طرفہ بات چیت اور معاہدے ناکام ہو جانے کے بعد پاکستان یو این چارٹر کے آرٹیکل 103پر توجہ دے۔
  پانچ جنوری کو  ایک بار پھر یوم حق خود ارادیت منایا جا رہا ہے۔نریندر مودی کی سرپرستی میں بی جے پی بھارت کو ہندو راشٹریہ بنانے کے ایجنڈے پر گامزن ہے۔کشمیری طلباء، ملازمین، کاروباری افراد کا ہی نہیں بلکہ اب شہریت قانون میں ترمیم کی آڑ میں بھارت میں مسلمانوں کا جینا حرام کیا گیا ہے۔ 5جنوری 1949کواقوام متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں جموں کشمیر میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی غیر جانبدارانہ اور شفاف رائے شماری کرانے کا کہا گیا لیکن بھارت کشمیر میں نام نہاد الیکشن کو ہی رائے شماری کے متبادل کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ 5جنوری 1949 کی قراداد اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاکستان اور بھارت نے منظور کی۔کمیشن امریکہ کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا جس کے ارکان میں ارجنٹائن،بلجیئم، کولمبیا اورچیکو سلواکیہ شامل تھے۔کمیشن نے پاکستان اور بھارت کی جانب سے کشمیر میں رائے شماری کرانے کے اصول اور طریقہ کارتسلیم کرنے کے بعد ہی سلامتی کونسل میں قراردادپیش کی۔ قرارداد کے تحت ریاست کے الحاق  کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے ہو گا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کمیشن کی رضامندی سے رائے شماری ایڈمنسٹریٹر نامزد کریں گے جو بین الاقوامی شہرت یافتہ اور قابل اعتماد شخصیت ہو گی ، اسے رسمی طور پر جموں و کشمیر گورنمنٹ رائے شماری ایڈمنسٹریٹر کے طور پر تعینات کرے گی۔بھارت نے 23دسمبر 1948اور پاکستان نے25دسمبر1948کو اقوام متحدہ کے کمیشن کو لکھے گئے اپنے مکاتیب  میں رائے شماری کے طریقہ کار کو تسلیم کیا۔بھارت اور پاکستان کی جانب سے تحریری طور پر تسلیم شدہ اصول جن کی اقوام متحدہ نے توثیق کی، کا خلاصہ ذیل میں ہے۔
1۔ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان یا بھارت سے الحاق کے سوال کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے ہو گا۔ 2۔رائے شماری،یو این کمیشن کے 13اگست 1948کی قرارداد کے پہلے اور دوسرے حصہ کے تحت انتظامات مکمل ہونے پر ہو گی۔3۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کمیشن کی رضامندی سے رائے شماری کرانے کے لئے ایڈمنسٹریٹر نامزد کریں گے۔4۔ رائے شماری ایڈمنسٹریٹر جموں و کشمیر کی حکومت سے وہ تمام اختیارات حاصل کریں گے جو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے لئے موزوں ہوں گے۔ 5۔ رائے شماری ایڈمنسٹریٹر  کو اپنے  معاونین  اور مبصرین کے تقرر کا اختیار ہو گا۔ 6۔ جموں و کشمیر سے تمام بیرونی عناصر کا انخلاء کیا جائے گا۔7۔جموں وکشمیر کے مہاجرین  کو واپس گھروں کو آنے کی آزادی ہو گی۔8۔تما م قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔9۔اقلیتوں کو تحفظ دیا جائے گا۔
 اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاکستان و بھارت نے قراداد میں پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بندی کرنے،جنگ بندی کی نگرانی کے لئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی تعیناتی اور مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی بات کی ۔ 5جنوری 1949 کی قرارداد میں پاکستانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان کے اقوام متحدہ کو مکتوب کے بعد رائے شماری کو پاکستان اور بھارت سے الحاق تک محدود کر دیا گیاجبکہ جموں و کشمیر کے عوام غیر محدود و غیر مشروط رائے شماری کا مطالبہ کر رہے تھے۔یہی وجہ ہے کہ قوم پرست جماعتیں یوم حق خود ارادیت کو احتجاج کے طور پر مناتی ہیں۔تا ہم 5جنوری 1949 کی قرارداد  سے کشمیریوں کی اکژیت اتفاق کرتی ہے۔    (جاری ہے)