08:14 am
کشیدگی کی طاقتور لہریں 

کشیدگی کی طاقتور لہریں 

08:14 am

 خطے میں حسبِ معمول غیر یقینی کے بادل چھائے ہیں۔ پاکستان کے اطراف میں واقع ممالک میں کشیدگی کی طاقتور لہریں اٹھ رہی ہیں ۔ بھارت میں ہندوتوا کے عفریت کا بھیانک رقص جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے ہندستان سے مسلمانوں کا وجود مٹانے کا جنون آر ایس ایس کی قیادت کے سر پر بری طرح سوار ہے۔ شہریت کے حوالے سے انتہائی متعصبانہ مسلم دشمن قانون سازی کے عمل نے بھارتی ریاست کے مکروہ چہرے سے سیکولرازم کا نقاب نوچ ڈالا ہے۔ دنیا یہ جان کر حیرت کا شکار ہے کہ عدم تشدد اور جمہوریت کی مالا جپنے والے بھارت  کے قلب  میں کتنا شدید مذہبی تعصب بھرا ہوا ہے۔ پرامن مظاہرین پر ریاستی تشدد کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں ۔ جامعہ ملیہ اور علی گڑھ یونیورسٹی کے طلباء پر تشدد کو تمام دنیا میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ دنیا بھر کی انیس معروف جامعات کے طلباء نے متعصبانہ قانون سازی کے خلاف احتجاج کیا ۔ سب سے بڑی بھارتی ریاست اترپردیش کے انتہا پسند وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیا ناتھ کی مسلم دشمنی کبھی بھی ڈھکی چھپی نہیںرہی۔ یوگی نے اتر پردیش کی پولیس کو مسلم مظاہرین کے خلاف تشدد اور طاقت کے استعمال کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار پولیس ہی مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیو ز سامنے آرہی ہیں جن میں  پولیس اہلکار مسلمانوں کی املاک کو دن دہاڑے نقصان پہنچا تے دکھائی دے رہے ہیں۔ مسلمانوں پر اعلانیہ تشدد کا سلسلہ اب مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے بھارت میں پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان حالات میں ایک خاص فکر کا حامل طبقہ پاکستانی میڈیا پر بھارتی سیکولرازم کی یاد میں ماتم کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ 
 
بھارت میں مسلمانوں کے موقف کی حمایت میں نکلنے والے غیر مسلموں اور کانگریس سمیت دیگر بھارتی جماعتوں کی مودی سرکار پر تنقید سے متاثر ہو کر ہمارے بھولے بھالے دانشور جھوم اٹھے ہیں ۔ انہیں آج بھی یہ خوش گمانی ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی آہ و فغاں رنگ لائے گی اور احتجاج کرنے والے عناصر آر ایس ایس کے شدت پسند وں کا ہاتھ روک پائیں گے۔ ہمارے یہ سادہ لوح دانشور یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ستر برس سے کشمیر میں بھارت کا ریاستی جبر جاری ہے ۔ کیا  کوئی  احتجاج یا مذمت کشمیریوں کی نسل کشی، عصمت دری اور غیر قانونی حراستی تشدد ختم کروا سکا؟ مودی دشمنی میں اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کی حمایت میں کانگریس جیسی جماعت مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہے۔  یہ وہی کانگریس ہے جس کی سازشوں کی بدولت آج کشمیر بھارتی چنگل میں سسک رہا ہے۔ کانگریسی دور حکومت میں ہی سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر آپریشن بلیو اسٹار کر کے خوں ریزی  کی گئی تھی ۔ 
مشرقی پاکستان اور سیاچن میں فوج کشی کی گئی تھی۔ بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا۔ ششی تھرور کی لفاظی سے متاثر ہونے والے دانشور  تقریر میں چھپے اصل پیغام کو سمجھیں! کانگریسی قیادت کا رونا یہی ہے کہ مودی سرکار نے جناح کے دو قومی نظرئیے کو اپنے غیر دانشمندانہ جنون سے درست ثابت کردیا ہے۔ دکھاوے کی ہمدردی کے عوض مسلمانوں کے ووٹ بٹورنے کے لیے مودی سرکار کی مخالفت کرنے والے سیاسی مداریوں سے کوئی خیر کی توقع نہ ہی رکھی جائے تو بہتر ہو گا ۔ بھارت میں مسلم احتجاج کیا رخ اختیار کرے گا یہ اندازہ لگانا آسان نہیں ۔ تاہم یہ امر واضح ہے کہ بھارت میں طرفین کی جانب سے پر تشدد رویے زور پکڑیں گے۔ بھارت اپنے اندرونی خلفشار سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر جنگ کا محاذ بھی گرم کر سکتا ہے۔ پاکستان کی مغربی سرحدوں پر بھی حالات کشیدہ ہیں ۔ افغانستان میں امن کی بحالی کا خواب تاحال شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ صدارتی انتخابات کے نتائج نے ماضی کی طرح دوبارہ دھاندلی کا پنڈورہ باکس کھول دیا ہے۔ اشرف غنی کی ابتدائی برتری ووٹنگ کی انتہائی کم شرح اور دھاندلی کے تنازعات کی بدولت  گہناتی دکھائی دے رہی ہے۔ افغان طالبان اور امریکہ کے مذاکرات دورکسی قابل عمل حل پر منتج نہیں ہوسکے۔ تسلسل سے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات افغانستان ہی نہیں پاکستان کو بھی متاثر کئے ہوئے ہیں۔ افغانستان سے دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت روکنے کے لیے پاکستان نے سرحد پر باڑ کی تنصیب کا دشوار عمل شروع کر رکھا ہے۔ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر منڈلاتے خطرات پاکستان کے لیے مستقل درد سری کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تیزی سے بڑھتی کشیدگی بھی پاکستان کے لیے تذویراتی مشکلات میں اضافے کا باعث بنے گی۔ امریکی سفارت خانے پر حملے کے رد عمل میں  ڈرون حملے کے ذریعے معروف ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنا کے صدر ٹرمپ  نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی آگ پر مزید تیل ڈال دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں چھائے جنگ کے بادل گہرے ہونے سے پاکستان بھی  بری طرح متاثر ہوگا ۔ 
ٹکڑیوں میں تقسیم مسلم امہ کو کسی یکساں موقف پر متحد کئے بنا بھارت، برما ، فلسطین اور شام میں مصائب کے  شکار مسلمانوں کے لیے کوئی آسانی پیدا نہیں کی جاسکتی۔ کچھ عرصہ پہلے پاکستان نے ایران اور سعودیہ کے درمیان مصالحتی عمل میں سہولت کاری کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ کوالالمپور کانفرنس میں عدم شرکت کے بعد اب ایران اور امریکہ کی حالیہ کشیدگی نے مصالحت یا اتحاد کے امکانات کو مزید کمزور کردیا ہے۔ بہتر یہی ہوگا کہ پاکستان اعلانیہ اور درپردہ سفارت کاری کے ذریعے اپنے اطراف میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے متحرک کردار ادا کرے۔