08:15 am
 یوم حق خود ارادیت

 یوم حق خود ارادیت

08:15 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
  13اگست1948کی قراررداد کی روشنی میں آج بھی اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین جنگ بندی لائن پر دونوں ممالک کے سیز فائر کی نگرانی کر رہے ہیں۔بھارت کی کوشش ہے کہ یہ فوجی مبصرین واپس چلے جائیں۔بھارتی حکمرانوں نے اس سلسلے میں اسلام آباد کو بار ہا سبز باغ دکھائے۔معاشی اور سیاسی رعائتیں دینے کا جھانسہ دیا،دوستی کی باتیں کیں،وفود کے تبادلے کئے، بیک چینل ڈپلومیسی کا سہارا لیا، لیکن بات نہ بنی۔ بھارت چاہتا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کے تعاون سے سلامتی کونسل کے ذریعے فوجی مبصرین واپس چلے جائیں۔ وہ سرحدوں کو گرم کر رہا ہے۔ اس کا زور اب جنگ بندی لائن، ورکنگ بائونڈری پر ہے۔
عوام  کا حق خودارادیت جدید بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے۔اس پر ملک محمد اشرف نے زبردست تبصرہ کیا۔ خود ارادیت کا نظریہ قوم پرستی کے نظریہ کی ایک ضمنی پیداوار کے طور پر تیار ہوا۔ اس نے فرانسیسی اور امریکی انقلابات میں کردار ادا کیا۔ اتحادیوں نے پہلی جنگ عظیم میں امن کے مقصد کے طور پر حق خودارادیت کو قبول کیا۔ امریکی صدر ووڈرو ولسن نے  اپنی چودہ نکات میں امن کے لئے ضروری شرائط کے طور پر جنگ کے بعد کی دنیا کے لئے خود ارادیت کو ایک اہم مقصد قرار دیا۔ پرانی آسٹریا ہنگری اور عثمانی سلطنتوں اور روس کے سابق بالٹک علاقوں کو متعدد نئی ریاستوں میں تقسیم کیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعدغلام اور محکوم  لوگوں میں خودمختاری کا فروغ اقوام متحدہ کے اہم اہداف میں شامل ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس کے پیشرو، لیگ آف نیشنس نے بھی اس اصول کو تسلیم کیا۔اس مقصد کے پیش نظر، اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں، خاص طور پر فلسطین اور کشمیر کے تنازعات کے تناظر میں کئی قراردادیں منظور کیں۔ 1970 میں منظور کی گئی قرارداد 2649 نہ صرف محکوم لوگوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتی ہے بلکہ متعلقہ لوگوں کے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے کسی بھی طریقے کو اپنانے کا اعادہ کرتی ہے۔پاکستان 1981 سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں حق خودارادیت کے بارے میں قرار داد پیش کر رہا ہے جس کی ہمیشہ حمایت کی جارہی ہے۔ اس سال بھی، اقوام متحدہ کی 193 رکنی کمیٹی نے بغیر کسی ووٹ کے، 81 ممالک کے تعاون سے ایک پاکستانی قرار داد منظور کی۔جس کا آغاز پر ذکر کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ در حقیقت عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی طرف سے کشمیری عوام کی حالت زار پر لاتعلقی کا نتیجہ ہے، جوانڈیا کو اپنے حق خود ارادیت کے انکار کے ساتھ قتل و غارت کو  جاری رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
مودی کی فاشسٹ سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ کیا وہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے ضمیر کے منافی ہے۔ یہ درست ہے کہ کشمیر کے بارے میں بھارتی  مؤقف کی کوئی اخلاقی یا قانونی بنیاد نہیں ہے۔  انڈیاکے  قانون آزادی کے مطابق، شاہی ریاستوں کے حکمرانوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ آزادانہ طور پر بھارت  یا پاکستان کے ساتھ الحاق کریں یا آزاد رہیں۔ تاہم، ان کو مشورہ دیا گیا تھا کہ فیصلہ کرتے وقت جغرافیائی قربت اور آبادیاتی حقائق کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ کشمیر کے معاملے میں، ان دونوں عناصر کی نفی کی گئی۔ بھارت میں شمولیت کے اپنے حکمرانوں کی ترغیب کے خلاف کشمیریوں کی بغاوت اور اس کے نتیجے میں بھارت  اور پاکستان کے مابین جنگ مضبوط گواہی ہے کہ کشمیری عوام کیا چاہتے تھے۔ کشمیر پاکستان سے ملحق تھا اور اس کی آبادی کی اکثریت بھی مسلمان تھی۔ اس کے پاکستان کے ساتھ ثقافتی اور تاریخی روابط تھے اورہری سنگھ کے نام نہاد الحاق کرنے سے پہلے ہی یہ صدیوں تک مسلم حکمرانی میں رہا تھا۔کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے یہ بتانا مناسب ہے کہ کشمیر میںبھارتی لشکر کشی کے بعد دونوں ممالک کے مابین شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں، انڈیا نے ہی اس مسلہ  کو اقوام متحدہ میں لیا۔ اقوام متحدہ نے اس موضوع پر اپنے مباحثے کے دوران 23 قراردادیں منظور کیں، جن میں 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کی دو قراردادیں بھی شامل تھیں، جن میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام کشمیر میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ الحاق کے متنازعہ آلے اور تقسیم کی منصوبہ بندی کی طرح، اقوام متحدہ کی قراردادوں نے بھی لوگوں کے حق خود ارادیت کے عمل کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کو پوری طرح سے تسلیم کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت گری کا تسلسل، وادی میں ایک مکمل لاک ڈاؤن نے کشمیری عوام کی زندگیاںاجیرن بنا دی ہیں، اور پاکستان کے ساتھ مستقل طور پر معاندانہ رویئے نے پورے خطے کی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
 اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں 91 اور 122 کے ذریعے بھی بھارتی  موقف کی تردید کی کہ مسئلہ کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کی  آئین ساز اسمبلی کے ذریعہ حل کر دیاگیا ہے۔ ان قراردادوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ الحاق کے سوال کو اس موضوع کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں میں شامل حل کے بغیر کسی بھی طرح سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر پربھارت  کے دعوے حقائق کے منافی ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایک ساتھ  2013کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل ممبر رہے ۔ بھارت سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لئے سر گرم لابی میں مصروف ہے۔ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کو شکست ہو چکی ہے ۔جس کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔دنیا افغانستان میں بھارت کو بڑا کردار دے کر اسے اس خطے کا چوکیدار بنا رہی ہے۔افغان فورسز اور پرائیویٹ ملیشیا کو بھارت تربیت دے رہا ہے۔افغانوں کو ڈیورنڈ لائن توڑنے پر تیار کیا جارہاہے۔ عمران خان حکومت کرپشن کے خاتمے کے کھوکھلے نعروں اور نیب زدہ بن چکی ہے کہ  معاشی معاملات میں پھنس کر اس کی دنیا کے تیزی سے بدلتے سنگین حالات پر شاید بہت کم توجہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سیاستدانوں کو ایک دوسرے کا تختہ الٹنے اور اقتدار کے حصول کی زیادہ فکر ہے۔اس صورتحال میںکشمیر ی عوام کایوم حق خود ارادیت منانا دلچسپ  ہے۔الحاق پاکستان کے حامیوں کے لئے اس کو منانے کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ گئی ہے کہ بھارت اشتعال پر اتر آیا ہے۔ جنگ پر اکسا رہا ہے۔پاکستان میں مشاورت یا کسی اجلاس کی کارروائی یا پارلیمنٹ میں بحث یا منظوری یا پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کی تشکیل نو کی کارروائی میں مسلہ کشمیر پر بحث کی کسی کو فرصت نہیں۔ جبکہ اس پر بحث کی ضرورت ہے۔اگر ایسا نہ ہوا تو یہ عمران خان حکومت کی مجبوریوں اور کمزوریوں کے ساتھ ساتھ حماقتوں کو آشکار کرے گا۔ ماضی کی  حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو گمان تھا کہ ان کا وقت ملک کے لئے سنجیدہ فیصلوں کا تقاضا نہیں کرتا ۔مگر انھوں نے کشمیر کو عالمی تنازعہ کے خانے سے اٹھا کر پاک بھارت مسائل میں ڈال کر بڑی غفلت  کی۔کشمیر کو انٹرنیشنل مسلے سے بائی لیٹرل بنا دیا۔ جب کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر اب بھی ہے۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین اب بھی بھارت کی مخالفت کے باوجودجموں وکشمیر کی جنگ بندی لائن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ 

5جنوری کو یوم حق خود ارادیت منانے کا بھی ایک یہی تقاضا ہے کہ یوم حق خود ارادیت کے پس منظر اور پیش منظر کو سمجھتے ہوئے دنیا میں مدلل سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔ پاکستان نے شملہ ، تاشقند معاہدوں اور اعلان لاہور کی ناکامی کے باوجود ان سے دستبرداری کی طرف توجہ نہیں دی۔ جب کہ اس کی ضرورت ہے۔ ان دو طرفہ معاہدوں کی ناکامی کے بعد اقوام متحدہ کے چارٹر 103پر توجہ دی جائے جس میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے مابین کوئی تنازعہ باہمی یا بین الاقوامی معاہدوں سے حل نہ ہو سکے تو پھر موجودہ چارٹر کے تحت مسلہ حل کیا جائے گا۔ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تمام دیگر دو طرفہ یا بین الاقوامی معاہدوں پر فوقیت حاصل ہو گی۔