08:16 am
محبت کی گواہی!

محبت کی گواہی!

08:16 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

اس مغرب کی جہاں سائنس نے مشینیں بنابنا کر افکارو خیالات کی سادہ فضاکودھواں دارکررکھاہے ،اب یورپ سے جوبھی جہاز جاتاہے معلوم ہوتاہے کہ مغربی تہذیب کاجس قدرگندہ مال درآمدکرکے لاتا ہے بلندآشیاں لوگ سب سے پہلے اس میں سے اپناحصہ وصول کرتے ہیں اور اس درآمدکی ہرکھیپ میں کچھ نہ کچھ نیامال آہی جاتاہے۔دین ومذہب کی طرف شکوک وشبہات،ریب وتذبذب کاطرزِ عمل، ظاہری چمک دمک پرجان دینا معاشرتی زندگی میں مختلف حدودوقیودسے بیزاری، مذہب سے جان چھڑانے کارحجان،عورتوںکی مساوات کابناوٹی اورپرفریب نعرہ!غرضیکہ کیاکچھ ہے جو مغرب (یورپ وامریکا) سے برآمدہوکرکراچی  اورلاہور پہنچتا ہے۔
اس سارے انبارژولیدگی میں جودل ودماغ میں کانٹے چبھ جاتے ہیں ،اب اس سے پہلے کہ یہ کانٹے نکلیں اورزخم مندمل ہوکرقلب ونظرکی صحت بحال ہو کچھ دوسرے کانٹے آکردل ودماغ کومجروح کردیتے ہیں اورایک سخت عذاب تشکیک میں مبتلاکردیتے ہیں اوریہ سارامشاہدہ شدت سے ارضِ مملکتِ خداداد میں پچھلی کئی دہائیوں سے دیکھنے کوکچھ زیادہ ہی مل رہاہے۔ مسلمان عورت جس کاطرہ عظمت عصمت وحیاتھا،اب بازاروں میں ولائتی سامان نمائش کی طرح بے باکی وبے حجابی کااشتہاربن کر گھس آئی ہے۔فیشن شوکے نام پرکیٹ واک کے اجتماعات میں ہوس بھری نظریں کھلے عام اپنی پسندو ناپسندکاپروانہ جاری کرکے اپنی راتوں کورنگین بنانے کاذریعہ بن چکی ہیں۔جن بازاروں کوحضوراکرم ﷺ نے شیطان کی گزرگاہیں قراردیاتھا،وہ بازار اب نمائش کی گیلریاں بن گئے ہیں۔جن اخباروں میں کبھی مسلمان عورت کی تصویر نہیں دیکھی تھی اب نہ صرف اخبارات بلکہ الیکٹرانک میڈیا میں ہر چندمنٹ بعدان میں حیافروش تاجروں کے اشتہارات چندٹکوں کی خاطر ان الفاظ میں شائع اورنشرہوتے ہیں کہ’’برقعہ پہننا کالے پن کو چھپانے کی علامت ہے‘‘اس طرح اب برقعہ جیسی پاکیزہ ومطہرڈھال متروک ہوچکی ہے۔
ثقافت کے لفظ کوعریانی،مے خواری،بے حیائی اورناچ رنگ کے مفہوم میں لیاجارہاہے اورحکومت خدادادپاکستان ثقافت کے نام پربڑی بڑی آرٹ کونسلوں پر اس غریب اورمظلوم قوم کالاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپیہ صرف کر رہی ہے بلکہ حکومت پاکستان کے کئی عہدیداروں ترنگ میں آکراعلان کرتے ہیں کہ یہ اسلامی مملکت کی آرٹس کونسلیں اپنے پروگرامز کے ذریعے ملک میں قہرخداوندی سے جوزلزلے اورسیلاب سے متاثرین کی امدادکررہی ہیں۔ الاامان الحفیظ!خداکے غضب کومزیدبھڑکانے کی کھلے عام دعوت دے رہے ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ بچپن میں اسکول میںجب صبح سویرے اسمبلی ہوتی تھی توتمام امت مسلمہ کیلئے بالعموم اورپاکستان کیلئے بالخصوص دعائے خیربھی ہوتی تھی اورہرروزکوئی نہ کوئی استادکسی اسلامی موضوع پرخطاب بھی کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس اسکول کے فارغ التحصیل طلبا میں دوسرے اسکولوں کے طلبا کی نسبت اسلامی محبت واخوت کچھ زیادہ ہوتی تھی اوراپنے مافی الضمیرکی ادائیگی میں بے خوفی اوربیباکی حدسے زیادہ ہوتی تھی۔اس کاعمل تجربہ کویت میں ہوا جب میں ایران کے انقلاب سے متاثر ہوکران کی پہلی انقلابی سالگرہ میں شمولیت کیلئے دوستوں کی شدیدمخالفت کے باوجود روانہ ہوگیاتھا۔واپسی پرکویت کے ائرپورٹ پرہی پاسپورٹ ضبط کر لیاگیا ۔ یہ توکبھی سوچانہ تھاکہ کویت کے جس جدیدہوائی اڈے کی تعمیرکی نگرانی میرے ذمہ تھی،چندسال بعداس کے ایک حصے میں بنی حوالات میں مجھے چندگھنٹے بھی گزارنے ہوں گے۔ کچھ گھنٹے سلاخوں کے پیچھے جانے کی سنت یوسفی اوراسوہ حنبلی کی ادائیگی کابھی بھرپورموقع ملا۔بالآخر میری بے گناہی میراجرم قرارپائی اوریہ قیدوبندکے چندگھنٹے ازراہِ لطف میرے کھاتے میں محض اس لئے ڈال دیئے گئے کہ افسرمجازدوپہرکے کھانے کے بعداپنی ڈیوٹی کے دوران ہی قیلولہ فرمارہاتھا۔میں حیران تھاکہ کیوں بند کردیاگیا؟ اربابِ اقتدار خوش کہ طاقت کانشہ ابھی مجھے ان کے پاؤں پکڑنے پرمجبورکر دے گا لیکن بھلاہوان چنددوستوں کاجومیری خاطر پھر قربانی  دینے کیلئے موقع پرآن دھمکے اوروہ جواللہ کوبھی بطورضامن ماننے کوتیارنہیں تھے اپنے ہی کویتی بھائیوں پراحسان کرکے مجھے مستقبل میں تائب وتابعدار رہنے کافیصلہ سناتے ہوئے اگلے دن کیلئے سی آئی ڈی  کے دفترمیں حاضری کے پروانہ پردستخط کرواکراحسان جتارہے تھے۔
بات اگریہاں تک ہی موقوف ہوتی کہ پھولوں سے محروم کردیتے لیکن جب کانٹوں پرسے بھی حق چھین لیاگیاتوغیرتِ ایمانی کاتقاضہ یہی تھاکہ اس رزق سے منہ موڑلیاجائے جو پروازمیں کوتاہی پیداکررہا ہے۔ایک غیرمسلم اوروہ بھی ہندہ جوکل تک میراماتحت تھااس کوفوری طورپرمجھ پرترقی دیکراس کے ماتحت کام کرنے کاحکم صادرکردیاگیا۔گویامجھ پریہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ گویاتذلیل وتکذیب کا دوراب شروع ہواچاہتاہے اورمیرے احتجاج اور بیباکی کاسبق جومجھے بچپن میں اسکول میں ملاتھا،عجب تماشہ کھڑاکردیا۔مجھے انتہائی معذرت اور افسوس کے ساتھ یہ تاثردیاگیاکہ ’’اوپر والوں‘‘  کامنشا یہی ہے کہ کچھ ہفتوں تک اس سلسلے کوبرداشت کرناپڑے گا حالانکہ میں تو ’’بہت  اوپروالے‘‘ ہی کی بندگی کاحق اداکررہاتھا۔اپنے کام کی اغلاط اورالزامات کے بارے میں دریافت کیا،ان کے سامنے ماضی کے واقعات جن میں ٹھیکیداروں کے انعامات کو ٹھکرانے کاسب کوعلم تھا، سالوں کی کمائی دنوں میں  حقارت سے ٹھکرادینے  سے سبھی آگاہ تھے لیکن انہوں نے شائدیہ فیصلہ کرلیاتھاکہ یہ میرے بچوں کومحض اس لئے محرومی وافلاس کا شکار بناناچاہتے ہیں کہ میں اس مملکت کی خدمت کوبھی عبادت سمجھتاہوں۔اسی لئے یہ خطہ میرے نزدیک ایک مسجد کی مانندمقدس ہے لیکن ’’اوپر والوں‘‘ نے کچھ نہ سنا اورمجھے جبرا اسی عہدے پرکام کرنے کوکہاگیااورمیرے انکارپرمجھ کوالگ کرنے کی دھمکی سنادی گئی۔اس سے پیشتر کہ ان کے چہروں پرباطل کی مسکراہٹ آتی میں نے اپنااستعفی خودتحریر کرکے ان کے منہ پردے مارااوراس میں صاف لکھ دیا:
’’میرارزق اوپروالوں سے نہیں بلکہ بہت اوپرسے آتاہے اورکوئی اسے راستے میں کاٹنے کی ہمت نہیں رکھتا۔جس کی بندگی میں کرتاہوں وہی میرارازق ہے اورجوکوئی مجھے رزق کی دھونس دیکراپنی بندگی پرمجبورکرناچاہتاہے میں اس کی خدائی کونمرودکی خدائی سمجھ کر ٹھکراتا ہوں ۔میرے اس استعفے کے بعد مجھے دوسری کئی کمپنیوں میں سے بلاوہ آیالیکن دل اب اس قدر پریشان ہوچکاتھاکہ ایک عشرہ سے زائد جس ملک میں گزاراتھا وہاں کل کا سورج دیکھنے کی تمنابھی باقی نہیں رہی تھی۔پاکستان کے بارے میں جوحسین تانے بانے بنے ہوئے تھے وہ بھی سراب نظرآرہے تھے۔سوچاکہ اب مغرب کی طرف منہ کرکے خدا کی بندگی کاجوعہددن میں کم ازکم پانچ مرتبہ کرتاہوں کیوں نہ دنیاکے مغرب میں جاکراس کااظہارکروں۔ میرے استعفیٰ پرمیرے کچھ محبت کرنے والوں نے اظہارناراضگی کا تاثربھی دیا ،مجھے ’’ضدی‘‘اورنجانے اور کیا کیا القاب سننے کو ملے حالانکہ ارفع مقاصد کیلئے بہت کچھ قربان کرناپڑتاہے لیکن جب اصولوں کی بات ہوئی تو سب مات کھاگئے ۔ 
(جاری ہے)