08:23 am
محبت کی گواہی!

محبت کی گواہی!

08:23 am

آپ نے اپنے محبت نامہ میں کشمیر،فلسطین اورپاکستان میں ہونے والی زیادتیوں کابڑادلسوزی کے ساتھ ذکرفرمایاہے۔ قائد اعظمؒ کے نام سے کون واقف نہیں جوہندوؤں اور انگریزوں کے
(گزشتہ سے پیوستہ)
قبلہ بٹ صاحب!
آپ نے اپنے محبت نامہ میں کشمیر،فلسطین اورپاکستان میں ہونے والی زیادتیوں کابڑادلسوزی کے ساتھ ذکرفرمایاہے۔ قائد اعظمؒ کے نام سے کون واقف نہیں جوہندوؤں اور انگریزوں کے مجموعی دبائو اورلالچ کے مقابلے میں پہاڑ کی طرح ڈتے رہے،اپنامقصد کسی قیمت پربیچنے کوتیارنہ ہوئے ۔ مسلمان کوچھوڑیئے یہ توتاریخ کے اندربڑا جانباز کردارلے کرآیاہے ۔یہ توعلم دین شہید بن کر رسول اکرم ﷺ کے نام کی آبروپردیوانہ وار قربان ہوجاتاہے۔ آپ کافروں کوہی لے لیں،بھگت سنگھ جوآزادی کی خاطر اپنی جان نچھاورکر گیا ،ہزاروں کیمونسٹوں کودیکھ لیں  جوزارِ روس کی بدترین سزائیں بھگتتے رہے، چینی اشتراکیوں کودیکھ لیں جوخاقان چین کی بیس سال تک بدترین اذیتیں سہہ کربالآخر اسے پچھاڑ گئے ۔ مردِ مجاہد سید علی گیلانی کوہی دیکھ لیں کہ باوجود ضعیف العمری اورساری عمرمصائب میں مبتلاہونے کے ان کے عزائم قابل رشک حدتک جواں ہیں کہ وہ اب تک اپنے ملک وقوم کی آزادی کیلئے ایک لمحہ غافل نہیں رہے۔پچھلے 70 سالوں سے کشمیری کیسی لازوال قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں  اوراب مسلسل پانچ مہینوں کے کرفیو کے باوجود دشمن ظلم کرنے کے باوجودبے بس ہوتا جارہا ہے۔انسان کوتواللہ تعالیٰ نے بڑی ایٹمی قوت دی ہے۔وہ توجس چیز سے محبت کرتاہے اس کیلئے سب کچھ کرڈالتاہے ۔ فرہادبنتاہے توجوئے شیرنکال لاتاہے،رانجھابنتاہے توتاریک جنگلوں میں بھینسوں کے گلے چراتاہے،ایک نازک اندام لڑکی کے روپ میں اپنے مقصد کی خاطر چناب کی تندوتیزلہروں سے لڑجاتا ہے،میں نے توابھی صرف مغرب کارخ کیاتھا۔سعی مسلسل اورپیہم کوشش کاراستہ اختیارکرکے اس فرنگی ملک میں جوکہ ڈھائی صدیاں حکمرانی کرکے اب تک غلامی کے وہ اثرات چھوڑ کرآیاہے جس سے ہم ابھی تک نکل نہیں پائے لیکن کشمیرمیرے دل ونگاہ سے کبھی اوجھل نہیں ہوابلکہ یوں کہیں کہ اب تواٹھتے بیٹھتے،سوتے جاگتے،چلتے پھرتے،ہرلمحہ دل میں سفاک ہندو کا کانٹا جاگزیں ہوچکاہے۔
بالآخربرطانیہ میں بالکل انہی کی مانندتاجرکی صورت میں اس ملک میں داخل ہوا۔مجھے یادہے مجھے رخصت کرتے وقت بہت سے دوست اپنے جذبات پرقابونہ رکھ سکے تھے جبکہ میرے ذہنی وقلبی دکھ دردکونظرشناس بھانپ گئے تھے۔لیکن ایک انگارہ تھاجسے برف کی دبیزتہوں میں ڈھانپ کررکھ دیا گیاتھالیکن اس کی حدت پھربھی محسوس ہورہی تھی لیکن میں تواس وقت بھی پریشان نہیں تھاکیونکہ کرم شب کی قدروقیمت رات کی تاریکی سے ہی ہوتی ہے اورتاروں کے حسن کاجھومرظلمتِ شب کی سیاہ پیشانی پر ہی کھلتاہے۔چاندکاکنگن رات کی دلہن کوہی میسرآتاہے اوربارش کے قطرے کیلئے تپتی ہوئی زمین کاپیاسا دامن ہی سمندرکے لبریزپیمانے سے زیادہ مستحق طالب اورشائق ہوتاہے۔اپنی کمیابی اوراجنبیت پرمیں کبھی بھی پریشان نہیں ہوا،ہرقیمتی شئے کمیاب اور نادرہوتی ہے اورپھر یہ حدیث توآپ نے کئی مرتبہ پڑھی اورسنی ہوگی کہ’’ایک وقت مومن کاایمان بچانااپنی مٹھی میں انگارہ تھامنے کے مترادف ہوگا‘‘
اس لئے میں سمجھتاہوں کہ عالمِ اسباب میں سانس کاایک تموج اورذرے کاایک حقیروجودبھی تخلیقِ اسباب اورترتیبِ نتائج میں اپناحصہ اداکرتاہے۔جس طرح عمل بدکی ایک خراش آئینہ ہستی کودھندلاجاتی ہے اسی طرح کلمہ خیر کاایک بول بھی عالم کے اجتماعی خیر کے ذخیرے میں اضافہ کردیتاہے اورلوحِ زمانہ میں ریکارڈ ہوکرکبھی نہ کبھی ضرورگونجتا اور میزانِ نتائج میں اپنا وزن دکھاتاہے۔بس ذرابدی کاشکنجہ ڈھیلا پڑنے  کی دیر ہے کہ خیر کی کھیتی لہلہااٹھے گی،نیکی کااگر ایک ذرہ بھی معاشرے کے اجتماعی ضمیر میں موجودہوگاتووقت آنے پرضرورگلستانِ رعنابن کرنمودارہوگا۔بس اک آرزوبدلنے کی دیرہے ! میری شدیدخواہش ہے کہ میں بھی کشمیرکے ان لالہ زارکواپنی آنکھوں سے بوسے دوں جہاں میرے آبائو اجدادکئی مختلف قبرستانوں میں آسودہ خاک ہیں ۔ اب دیکھیں یہ آرزوکب پوری ہوتی ہے‘‘۔
نہ ہم بدلے نہ تم بدلے نہ دل کی آرزوبدلی
میں کیسے اعتبارِ انقلابِ آسماں کرلوں
گاڑی کے پہیوں کی مانند ہم بھی مسلسل حرکت میں رہے،ایک پہیہ دوسرے سے کیابات کرے،بس یہی کہ کتنے اسٹیشن گزارآئے،کتنے میل دوڑ آئے،کتنی منزل باقی ہے ،حال دل اور دردِ دل سنانے کی مہلت نہ ملنی تھی،نہ ملی اورنہ ملتی نظرآتی ہے۔اپنے ساتھیوں کوحال دل سنانے کیلئے ٹیپوسلطان کوسب سے عمدہ مہلت سرنگاپٹم کے دروازے پرجان دے کرملی تھی اورشائد ہمیں بھی یہ مہلت زیرِزمین پہنچ کرہی ملے گی جہاں چارآدمیوں کی شاہانہ سواری پردرازہوکر پہنچیں گے۔ اس سے پہلے توساراعلاقہ تگ ودومیدان جنگ، ساری مدت حیات زمانہ جنگ،ساراسامان زیست اسلحہ جنگ، ساری خبریں حالاتِ جنگ اورساری زندگی جنگی مورچہ ہے۔دشمن دائیں بائیں،آگے پیچھے ہرطرف سے حملہ آورہے،ساری زندگی سمٹ کر چومکھی لڑائی کاہتھیاربن گئی ہے۔جس روز یہ ہتھیارکند ہوگا،گردن سینے پر ڈھلک آئے گی تب کہیں مہلت یک دونفس ملے گی کہ کیسی گزری،کیونکرگزری کاحالِ دل ملائکہ کوسنائیں گے۔
کتنے ہی احباب کی یادیں ماضی کے وسیع دھندلکے میں مصری عجائب خانے کی ممیوں کی طرح پڑی ہیں ۔ بے حس وحرکت،منجمداوربے روح،کبھی کبھی محسوس ہوتاہے کہ ان تمام قدیم یادوں پر پھپھوندی سی لگ گئی ہے۔ماضی کے وسیع میدان میں جہاں نشیب وفرازکی بھی کمی نہیں ،کتنے ہی احباب ہیں جنہوں نے حافظہ کے بے کنارہ میدان میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں ،ان کوآواز دیں ،ان کوسنائی نہیں دیتی،انہیں بلائیں توکوئی جواب نہیں آتا،معلوم ہوتا  ہے کہ حافظہ کی دھندلی شاہراہ پرگزرے ہوئے راہگیروں کے نقوش قدم ہیں جوایام کی گردکے نیچے مدھم پڑتے جارہے ہیں،آپ اورمیں بھی ان مدھم نشانات میں ایک نشان بن کررہ گئے ہیں۔آپ نے آج جس محبت والفت سے یادکیاتومحسوس ہواکہ ممیاں بھی گفتگو کرتی ہیں اورماضی میں سے بھی چھن چھنا کرآوازیں حال میں داخل ہو جایاکرتی ہیں ۔ یقین کریں جب سے منہ پرموجود داڑھی میں سفیدی کاغلبہ ہواہے تویوں محسوس ہورہاہے کہ جیسے کوئی مسافرجوبغیر کسی زادِراہ لئے کسی طویل سفر کیلئے  چل نکلا ہو،اوراپنے ہی بچھائے ہوئے کانٹوں کوپلکوں سے صاف کرکے یاتواس  لق ودق صحرامیں جان دیدے گایاایسی کھائی میں گرجائے گا جہاں اندھیرے استقبال کریں گے اورروشنی کادل مسوس ہوکررہ جائے گا۔۔۔۔۔۔!
اک دیا اور بجھا روشنی روتی رہی
(جاری ہے)