12:02 pm
ریاستی  اداروں  میں  سیاسی  دیمک 

ریاستی  اداروں  میں  سیاسی  دیمک 

12:02 pm

 اداروں کی فعالیت ہی درحقیقت حکومتی کارکردگی کا مظہر ہوتی ہے۔ سرکاری اداروں کی رگوں میں پھیلے نالائقی کے زہر نے ملکی نظام کو بستر مرگ پر ڈال دیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ سرکاری اداروں میں عوام کا کوئی کام جائز طریقے سے نہیں ہوپاتا؟ غریب عوام سرکاری دفاتر میں جوتے چٹخاتے پھرتے ہیں ۔ اس عمومی غفلت کی بنیادی وجہ سرکاری محکموں میں پوچھ گچھ کے نظام کا نہ ہونا ہے۔ افسر اپنے ماتحت سے کچھ نہیں پوچھتا ! جونئیر افسر سے بالا حکام کچھ نہیں پوچھتے! پوچھیں بھی تو آخر کیسے؟ منہہ نہیں پڑتا پوچھنے کو ! اگر دفتر میں اوپر سے نیچے تک سارا عملہ کرپشن کی کمائی میں حصہ دار ہو تو پھر اپنے ہم نوالہ و ہم پیالہ سے کوئی کیسے باز پرس کر سکتا ہے؟ اگر خود صاحب بہادر ہی دفتر میں بادلِ نخواستہ بارہ بجے تشریف لائیں اور آتے ہی پراسرار میٹنگ کا بہانہ بنا کر ذاتی مشاغل میں مصروف رہیں تو ماتحت عملے کو من مانی سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ سرکاری اداروں میں نا اہلی اور نکمے پن جیسے اہم مسئلے کا دوسرا پہلو سیاسی مداخلت ہے جو کہ ملکی نظام کے لیے کہیں بے حد نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ 
افسر بہادر حکمراں جماعت سے وفاداری کی بدولت اہم عہدے پر فائز ہونے کے بعد ریاست کے بجائے اپنے سیاسی ان داتائوں سے وفاداری نبھاتے ہوئے اُن کے مفادات کا محافظ بن جائے تو سرکاری ادارے عوام کی خدمت جیسے بنیادی فرائض کو ترک کر دیتے ہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ کسی نجی ادارے کے ملازم نہ تو دفتر پہنچنے میں تاخیر کے مرتکب ہوتے ہیں اور نہ ہی فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے ہیں ؟ اس کی دو ہی وجوہات ہیں ۔ اول، تمام ملازمین کا انتخاب سفارش کے بجائے اہلیت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔ دوم، نجی اداروں میں پوچھ گچھ یا باز پُرس کا کڑا نظام ہمہ وقت فعال رہتا ہے۔ ملازم کسی سیاسی آقا کے نہیں بلکہ اپنے ادارے کے مفادات کے محافظ بن کے اپنے فرائض مستعدی سے انجام دیتے ہیں ۔ سیاسی مداخلت اور اقربا پروری کے نتیجے میں پولیس جیسے اہم ادارے کا بیڑا غرق ہوچکا ہے۔ سندھ اور پنجاب میں پولیس کی دن بدن ناقص ہوتی کارکردگی کی بنیادی وجہ سیاسی مداخلت ہے۔اکثر حکمرانوں کی خواہش یہی رہتی ہے کہ پولیس سمیت تمام سرکاری ادارے اُن کی جیبی گھڑی اور دستی چھڑی بنے رہیں ۔ صوبہ سندھ میں پولیس پر سیاسی اثر و رسوخ اتنا گہرا ہے کہ یہ اہم محکمہ اپنے اصل اور قانونی فرائضِ منصبی سے پوری طرح غافل ہو چکا ہے۔ 
کراچی شہر میں امن و امان کی بحالی اور قانون کے نفاذ کے لیے تین عشروں سے رینجرز کو تعینات کیا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب کا معاملہ بھی کچھ کم سنگین نہیں ۔ سیاسی آقائوں کے اشارے پر پنجاب پولیس نے ماڈل ٹائون میں سرعام چودہ انسانوں کو بے دردی سے قتل سو سے زائد مرد و زن کو شدید زخمی کر دیا تھا ۔ سانحہ ساہیوال میں معصوم بچوں کے سامنے اُن کے ماں باپ اور بہن کو گولیوں سے چھلنی کرنے کا المناک واقعہ اور بہاولپور کے فاترالعقل نوجوان کو تھانے میں تڑپا تڑپا کر مارنے جیسے واقعات ابھی زیادہ پرانے نہیں ہوئے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی مداخلت اور اثر و رسوخ کی دیمک عدلیہ کے ستونوں تک بھی پھیلتی دکھائی دے رہی ہے ۔ جس طرح پولیس کی طاقت اور اختیار کو سیاسی مفادات کے حصول کے لیے بے دریغ استعمال کیا جاتا رہا ہے بالکل اُسی طرح عدلیہ کے وسیع اختیارات کو بھی اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرنے سے کوئی دریغ نہیں کیا گیا ۔ بھانت بھانت کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگز دستیاب ہیں ۔ سمجھ سے بالا غیر متوقع فیصلوں ، اسٹے آرڈرز ، بعض انتہائی معنی خیز ضمانتوں اور سزائوں کو بنیاد بنا کر عدلیہ پر تنقید کے تیر چلائے جا رہے ہیں ۔ مہذب ممالک میں عام آدمی کے لیے انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تفتیشی ادارے یعنی پولیس اور عدلیہ کو انتظامیہ یعنی حکومت کے اثر و رسوخ سے پاک رکھا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں ناقص تفتیش کی بدولت اکثر مقدمات میں عدلیہ کے لیے انصاف فراہم کرنا ممکن ہی نہیں رہتا ۔ چند برس قبل عدالت عظمیٰ نے جب دو زیر حراست سگے بھائیوں کو قتل کے برسوں پرانے مقدمے میں بری کیا تو یہ دلخراش انکشاف سامنے آیا کہ اس فیصلے سے ایک برس قبل ہی دونوں بھائیوں کو پھانسی دی جا چکی تھی۔ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کے عمل کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کیا جانا چاہیے۔ 
ہمارے سفارش زدہ معاشرتی نظام میں یہ کیسے ممکن ہے کہ سیاسی قوتیں اپنے ہاتھوں منتخب ہونے والے ججوں کو مستقبل میں اپنے مفادات کے لیے استعمال نہ کریں؟ قانون کی رو سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں بار اور ماتحت عدلیہ سے آنے والے ججوں کا تناسب بالترتیب ساٹھ اور چالیس فیصد ہونا چاہیے۔ دستیاب اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ اس وقت اعلیٰ عدلیہ میں بار سے منتخب کئے گئے ججوں کا تناسب اسی سے نوے فیصد کے درمیان ہے۔ ناقدین کی رائے میں عدالتی نظام سے واقفیت رکھنے والے ججوں کو اعلیٰ عدلیہ میں جائز حصہ دینے کے بجائے من پسند وکلاء کو بار سے اٹھا کر اعلیٰ عدلیہ میں تعینات کر کے سیاسی قوتیں نظام انصاف سے کھلواڑ کررہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض عدالتی فیصلوں میں قانون کی پاسداری کے بجائے سیاسی وابستگی کا رنگ نمایاں ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ ایسے فیصلے عدلیہ جیسے اہم اور واجب الاحترام ریاستی ادارے کو متنازعہ بنادیتے ہیں ۔ میانوالی میں ماڈل پولیس سٹیشن کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جن مثبت خیالات کا اظہار کیا ہے اُن سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا ۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ پہلے مرحلے میں پولیس اور عدلیہ جیسے اہم اداروں کو سیاسی مداخلت کی دیمک سے پاک کیا جائے۔