08:08 am
اصل اوقات 

اصل اوقات 

08:08 am

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے نشانہ بننے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا الائو مزید بھڑ ک اٹھا ہے۔ تدفین کے عظیم الشان اجتماع سے یہ واضح ہو گیا کہ جنرل قاسم سلیمانی ایران کے لیے کیا اہمیت رکھتے تھے۔  اعلیٰ ایرانی قیادت نے شیطانِ بزرگ امریکہ سے کھلم کھلا انتقام لینے کا اعلان کیا جس کے بعد  عراق میں واقع  امریکی فوجی اڈے پر راکٹ برسا کر ایران نے 
اسی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ۔ امریکہ کا جوابی دعویٰ یہ ہے کہ ہمارا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ غالب امکان بھی یہی ہے کہ متوقع ایرانی ردعمل کے پیش نظر امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے اپنے فوجی محفوظ مقامات پر منتقل کر دئیے ہوں گے۔ امریکہ اور ایران کی کشیدگی کی تاریخ چالیس برس پرانی ہے۔ امریکہ کے پٹھو شاہ ایران کی رخصتی جس انقلاب کے نتیجے میں رونما ہوئی اسے واشنگٹن نے آج تک دل سے تسلیم نہیں کیا ۔ آٹھ سال پر محیط عراق ایران جنگ  نے جب  لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا   تو مغرب سمیت ایرانی انقلاب  سے خوف زدہ بہت سے عرب ممالک کشیدگی کی آگ میں حسب توفیق تیل انڈیلتے رہے ۔ انکل سام نے جب عراق کی اینٹ سے اینٹ بجائی  تو کون نہیں جانتا کہ امریکی افواج کس ملک کی سرزمین پر صف آراء تھیں ؟ لیبیا کا حشر نشر ہوا تو رقص و سرود میں محو برادرانِ ملت کے کان پر جوں تک  نہیں رینگی ۔ افغانستان میں چالیس سال سے عالمی طاقتوں کا رقصِ ابلیس جاری ہے۔  یہ جاننا مشکل نہیں کہ شام میں بہنے والے خون میں کس کس کے ہاتھ بھیگے ہیں ؟ شامی مہاجرین یورپ کے گلی کوچوں میں بھیک مانگتے پھرتے ہیں ۔ روس ، امریکہ اور اسرائیل کو بد دعائیں دینے سے پہلے  کچھ تلخ اعترافات کرنے ہوں گے۔ یہ مسلم امہ کے ٹھیکیدار ! یہ انقلاب ایران کے داعی ! یہ مقدس مقامات کے محافظ اس خوں ریزی کے ذمہ دار ہیں ۔ کسی کو بشار الاسد ایک آنکھ نہیں بھاتا تو  کسی دوسرے ملک کے لیے وہ آنکھ کا تارا بنا ہوا ہے۔ مذہب ، فقہ اور مسلک کی آڑ لے کر کلمہ گو مسلمانوں کے گلے کاٹ کر بادشاہتوں اور انقلابوں کی بنیادیں مضبوط کرنے والے جلاد مسلم امہ کے مجرم ہیں ۔ شیطان بزرگ نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجائی تو انقلابی ایران چپ سادھے بیٹھا رہا ۔ بھارت نے کشمیریوں کی گردن پر ظلم کی چھری پھیری تو انقلابی ریاست چاہ بہار بندرگاہ  اور بامیان ریلوے لائن کے منصوبوں کی صورت ہندوتوا کے علمبرداروں سے دوستی کا دم بھرتی رہی۔ افغان طالبان کے خلاف انقلابی پڑوسی شیطان بزرگ  کا دست و بازو بن گیا ۔ یہ کل کی بات ہے کہ کل بھوشن نے چاہ بہار سے بھارتی سر پرستی میں چلنے والے پاکستان مخالف دہشت گرد نیٹ ورکس کا انکشاف کیا تھا ۔ مقدس مقامات کے خادمین کا  معاملہ بھی کچھ کم المناک نہیں ۔ عراق پر حملہ آور امریکی فوج کا تمام خرچا پانی سعودی ریاست نے اٹھایا ۔ اقتصادی پابندیوں کی آڑ میں دس لاکھ عراقی بچے ادویات نہ ہونے کی وجہ سے جاں بحق ہوئے ۔ کسی مسلم ریاست کی آنکھ سے دو اشک ندامت بھی نہ بہہ سکے۔ جس بھارت نے کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف  نسل کشی ، عصمت دری اور جبر  کا بازار گرم کر رکھا ہے اُس کی مذمت میں محترم شیوخ کی زبان نہیں کھلتی ۔ مسلم امہ کے ٹھیکیداروں نے مسلمانوں کے قاتل ملک  بھارت  میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے ۔ سرزمین حرم سے  شہزادہ پکار لگاتا ہے کہ شام کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا ۔  وقت آگیا ہے کہ تلخ حقائق کو تسلیم کیا جائے ۔  اصل خرابی ہم مسلمانوں میں ہے ۔ صدیوں سے علم ، تحقیق ، مشقت اور انصاف  جیسے اوصاف کو ترک کرنے والی قومیں ذلت آمیز غلامی کی زنجیروں میں ہی جکڑی جاتی ہیں۔  امریکہ اور اسرائیل جس عسکری برتری  کے بل بوتے پر مسلم دنیا کو آنکھیں دکھا رہے ہیں وہ علمی تحقیق  اور معاشی استحکام کا  مرہون منت ہے۔  تیل کی دولت سے مالا مال  مسلم ممالک آج  تعیشات کے سمندر میں غرق ہونے کے باعث حقیر کیچوے کی طرح امریکہ کے قدموں میں پڑے ہیں ۔  عراق میں واقع امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں جو لب و لہجہ اختیار کیا وہ مسلم دنیا کو اُس کی اصل اوقات سمجھانے کے لیے کافی ہے۔ ٹرمپ نے انسانی حقوق ، مساوات یا جمہوریت کی بات نہیں کی ۔ امریکہ کے منہ پھٹ صدر نے طاقت کی زبان میں بات کی ہے۔  سرعام دنیا کو یہ بتایا ہے کہ امریکی ہتھیار زیادہ مہلک، سریع الحرکت اور موثر ہیں ۔ امریکی صدر نے ببانگ دہل دھمکی دی ہے کہ ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ زبانی کلامی باتیں اپنی جگہ لیکن درحقیقت ایران بھی راکٹ حملوں سے زیادہ کی سکت نہیں رکھتا ۔ بہت ہوا تو مشرق وسطیٰ میں اپنی تخلیق کردہ پراکسیز کے ذریعے خودکش  یا گوریلا حملوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا ۔ یہ سب حملے مسلم ممالک میں ہی ہوں گے ۔ ان میں زیادہ تر مسلمانوں کا ہی خون بہے گا ۔ کیچوے جیسے کمزور مسلم ممالک اس لڑائی کا خرچا برداشت کرتے رہیں گے  اور مسلم امہ اگلے دس پندرہ برس اس بات پر خوش ہوتی رہے گی کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں پھنسا ہوا ہے۔  یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ آج مشرق وسطیٰ سمیت مسلمان جہاں جہاں خوار ہو رہے ہیں اُس کے اصل  ذمے دار مسلک اور انقلاب برآمد کرنے والے عرب ممالک اور ایران ہی ہیں ۔ گو پاکستان نے اس کشیدگی میں غیرجانبدار رہنے کا اعلان کیا ہے لیکن ہمیں اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ جس طرح امریکہ کو ایران کی ایٹمی صلاحیت نامنظور ہے بالکل اُسی طرح پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور اثاثے بھی واشنگٹن ، تل ابیب اور دہلی کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹکتے ہیں ۔پاکستان  غیرجانبدار رہنے کے بجائے مسلم امہ میں صلح کے ساتھ ساتھ بیداری کی تحریک  بھی پیدا کرے۔