09:38 am
دہشت گردی اور لسانی تعصب کا عفریت 

دہشت گردی اور لسانی تعصب کا عفریت 

09:38 am

اوپر تلے ہونے والے دہشت گرد حملے اس بات کا اظہار ہیں کہ ہمارے دشمن پسپا تو ہوئے ہیں لیکن اپنے برے ارادوں سے باز نہیں آئے۔ پہلے راولپنڈی میں شاہراہ عام پر دو پولیس اہلکار شہید ہوئے اور جوابی کارروائی میں مبینہ دہشت گرد بھی ہلاک ہوا۔ جمعے کے روز نماز مغرب کے وقت کوئٹہ شہر کی ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے میں تقریباً سولہ شہریوں کی شہادت کوئی معمولی سانحہ نہیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا۔ تیزی سے ابھرتی دہشت گردی کی تازہ لہر  کا بھرپور سدباب کیا جانا چاہیے۔ حالیہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ راولپنڈی سے کوئٹہ تک دہشت گردوں کی زد میں ہے۔ چندماہ قبل کراچی میں چینی سفارتخانے پر اور گوادر میں پنج ستارہ ہوٹل پر حملے ہوئے تو یہ بات ایک مرتبہ پھر ثابت ہوئی تھی کہ نئی دلی میں بیٹھے فتنہ ساز پاکستان میں براستہ افغانستان دہشت گردی کروا رہے ہیں۔ افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی پٹی میں بھی تسلسل سے فوجی و نیم فوجی اہداف کو بارودی سرنگوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ دشمن  پاکستان کے وجود پر دہشت گردی کے خنجر سے گھائو لگا کر نڈھال کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔
 معاشی بدحالی کو اُس سطح تک پہنچانے کی خواہش ہے کہ مفلوک الحال قوم اپنے زخموں  پرمرہم کا پھایا بھی نہ رکھ پائے۔ معاشی بربادی کے ساتھ ساتھ لسانی اور فرقہ وارانہ تقسیم کا بارود بھی ملک کی بنیادوں میں بکھیرا جا رہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر ایک جلتی دیاسلائی دکھا کر قومی یکجہتی کو راکھ کر دیا جائے۔ اس چومکھی جنگ میں کامیابی کے لیے پہلی شرط قومی یک جہتی اور فکری ہم آہنگی ہے۔ اداروں کو مضبوط اور فعال بنائے بغیر دہشت گردی کے عفریت کو قابو کرنا محال ہوگا۔ بدقسمتی سے ادارے کا ذکر ہو تو ہمارے میڈیائی بقراط جی ایچ کیو کے درپے ہو جاتے ہیں۔ پولیس ، آئی بی ، سی ٹی ڈی اور سی آئی ڈی  سمیت درجن بھر ان اداروں کو نظر انداز کردیتے ہیں جن کی بنیادی ذمہ داری دہشت گردوں کی سرکوبی ہے۔ 
پولیس کو فعال بنانا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔ اس باب میں نون لیگ ، پی پی پی اور پی ٹی آئی یکساں نا اہلی کی مرتکب دکھائی دیتی ہیں۔ پی پی پی اور نون لیگ کی مدت حکمرانی زیادہ ہونے کے سبب ذمہ داری بھی زیادہ بنتی ہے۔ کراچی شہر میں پولیس کے سیاست زدہ اور نااہل ہونے کے سبب تین عشروں سے رینجرز کو تعینات کیا گیا ہے ۔ پنجاب میں عام شہریوں کو گولیوں سے بھوننے اور چھوٹو گینگ جیسے ڈکیتوں کے سامنے پولیس کے گھٹنے ٹیکنے جیسے شرمناک واقعات حکومتی کارکردگی کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہیں ۔ یہ نااہلی اور فرائض سے غفلت عسکری اداروں کے کاندھوں پر اضافی بوجھ ڈالنے کا سبب بن رہی ہے۔ عام جرائم پر قابو پانے میں ناکام رہنے والی پولیس اور اُس کے ذیلی شعبے سخت جان تربیت یافتہ  جدید اسلحے سے لیس دہشت گردوں کے خلاف کلیتاً غیر فعال ثابت ہوتے ہیں۔ 
صوبوں پر حکومت فرمانے والی سیاسی جماعتیں جمہوریت کے فضائل پر بھاشن دینے کے ساتھ ساتھ ان اداروں کی کارکردگی اور استعداد بڑھانے پر بھی توجہ دیں ۔ انتظامی نااہلی سے پیدا ہونے والی عدم مساوات کو بنیاد بنا کر لسانی نفرتوں کے بیج بونے والے حلقے بھی فعال ہو چکے ہیں ۔ ملک سے باہر بیٹھے مشکوک کردار سوشل میڈیا کے ذریعے سادہ لوح عوام کے دلوں  میں لسانی نفرت کا زہر بھر رہے ہیں ۔ حکومتی نااہلی سے کس طرح لسانی تعصب پروان چڑھتا ہے اُس کا اندازہ کراچی میں جابجا بکھرے  کوڑے کرکٹ سے لگایا جاسکتا ہے۔ اندرون سندھ سے ووٹ بٹور کر سندھ پر حکومت کرنے والی پی پی پی شہری علاقوں کا کچرا اٹھانے تو تیار نہیں ۔ شہری علاقوں میں بسنے والی آبادی جو کہ سندھی زبان نہیں بولتی اس طرز عمل کو پی پی پی کے متعصبانہ رویئے سے تعبیر کرتی ہے۔ ایسی گھٹیا گورننس کے بطن سے لسانی تعصب کے عفریت جنم لیتے ہیں ۔ ان عفریتوں کو پالنے پوسنے کے لیے ملک سے بھاگے ہوئے قوم پرستوں کو راتب بھارت فراہم کر دیتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ پارلیمان میں بیٹھے راہنما  عسکری اداروں کے خلاف ذومعنی جملہ بازی اور لایعنی مباحث چھیڑنے کے بجائے اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں ۔ آئین صرف پانچ برس بعد ووٹ ڈالنے اور حلف اٹھا کر سرکاری مراعات اٹھانے کا ہی تقاضا نہیں کرتا بلکہ حکمرانوں کے کاندھوں پر عوام کے جان و مال کی بھاری ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے۔ مارشل لاء کے خلاف چار عشرے قبل کسی کے نانا جی نے کیا جدوجہد کی تھی اور سویلین بالادستی کے لیے کسی کے اباجی اور چاچاجی نے جو پہاڑ سر کئے تھے وہ قوم کو معلوم ہے ۔ بہتر ہوگا کہ دہشت گردی اور لسانی تعصب کے  عفریت کا مقابلہ کرنے کے لیے  سیاسی قیادت خصوصاً حکمراں جماعت فعال کردار ادا کرے۔ زبانی کلامی گولہ باری اور ماضی کے لچھے دار قصے سن سن کر قوم بیزار ہو چکی ہے۔