09:16 am
بھارتی چابی پر چلتے قوم پرست

بھارتی چابی پر چلتے قوم پرست

09:16 am

فیصلہ سازوں کو ادراک ہونا چاہیے کہ ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ یہ جنگ سرحدوں پر بھی لڑی جارہی ہے اور ملک کے گلی کوچوں میں بھی محاذ گرم ہے۔ راولپنڈی ، کوئٹہ اور پشاور میں یکے بہ دیگرے دہشت گرد حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمنوں نے دہشت گردوں کو  سرحد پار سے تازہ کمک فراہم کردی ہے ۔ قبائلی پٹی سے ملحق افغان سرحدی علاقوں میں بھانت بھانت کے دہشت گرد گروہ محفوظ پناہ گاہوں سے متحرک ہیں ۔ بھارت کی امداد اور بھارت نواز افغان اہلکاروں کی معاونت سے دہشت گرد پاکستان کی سرحدوں کو پامال کر کے معصوم پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں۔ دو برس ہونے کو آئے جب پاکستان نے اپنی سرحدوں کو محفوظ کرنے کے لیے باڑ لگانے کا آغاز کیا ۔ باڑ لگنے سے دہشت گردوں کی غیر قانونی دراندازی بند ہوگی ۔ بھارت میں بیٹھے دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ اجیت دوول اور اُس کے پالتو دہشت گرد بھیڑیوں کا باڑ لگنے سے مشتعل ہونا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن افغان حکومت اس عمل پر اعتراض کرے تو بات سمجھ سے بالا ہو جاتی ہے۔ راتوں رات پشتونوں کے راہنما بننے کے زعم میں مبتلا جعلی قوم پرست اپنے ملک کی سرحد محفوظ کرنے کے عمل پر تنقید کریں تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ 
 سوشل میڈیا پر ایک موصوف کا ویڈیو گردش کر رہا ہے۔ یہ وہی حضرت ہیں جو قومی اسمبلی کے رکن ہونے کے علاوہ قبائلی علاقے میں ایک چوکی پر یلغار کرنے والے ہجوم کو ہلہ شیری دینے کے الزام میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ حراست میں تھے۔ جناب کا فرمانا یہ ہے کہ سرحدی علاقوں پر لگی باڑ کو اکھاڑ دیا جائے گا اور اسی باڑ پر فوجی جوانوں کے لاشے لٹکائے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی  زبان ، لہجہ اور کھلم کھلا ارادہ قتل ملکی قانون کے تحت جرم ہے یا نہیں ؟ کیا یہ اشتعال انگیز الفاظ  نفرت انگیز تقریر کے زمرے میں نہیں آتے؟ آئین کے تحت افواجِ پاکستان کے خلاف نفرت انگیز تقریر قابلِ دست اندازی پولیس جرم ہے۔ بھارت کے پالتو دہشت گرد سرحدوں سے بلا روک ٹوک دراندازی کرنا چاہتے ہیں ! پی ٹی ایم کے شعلہ بیاں عہدیدار دہشت گردوں کی راہ روکنے والی باڑ بھی گرانا چاہتے ہیں اور اُس باڑ پر ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے مجاہدوں کی لاشیں ٹانگنا چاہتے ہیں ۔ واضح ہو گیا کہ دہشت گردوں اور نام نہاد قوم پرستوں کا ایجنڈا ایک ہی ہے۔ 
یہ  معاملہ  محض پشتون قوم پرستوں کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کی سات عشروں سے زائد عرصے پر محیط تاریخ میں جنم لینے والی ہر قوم پرست تحریک کا ہے۔ گھوم پھر کر ان قوم پرست تحریکوں کے ڈانڈے بھارت کی خفیہ ایجنسیوں سے جاملتے ہیں ۔ بنگلہ بندھو شیخ مجیب نے بنگلہ قوم پرستی کا ڈھونگ رچا کر بنگالی ووٹ تو لے لئے لیکن بنگلہ دیش کو ہمیشہ کے لیے بھارت کی چاکری پر لگا دیا۔ جس بنگلہ دیش میں سن اکہتر میں بھارت کی ایما پر مغربی پاکستانیوں کا خون بہایا گیا اسی ملک میں چار برس بعد بنگالی فوج نے بنگلہ بندھو شیخ مجیب  کو پورے خاندان سمیت بے دردی سے قتل کر ڈالا ۔ دھان منڈی کی رہائش گاہ کی سیڑھیوں پر شیخ مجیب کی لاش کی  تصویر  قوم پرستوں کے لیے درس عبرت ہے۔ مغربی پاکستان میں سندھو دیش کے نام پر معصوم سندھیوں کو ورغلایا جاتا رہا ۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں کو غنڈہ گردی کے اڈوں میں تبدیل کر دیا گیا ۔ درجن بھر سے زائد سندھی قوم پرست جماعتوں اور دھڑوں نے سندھی عوام کے ذہنوں میں نفرت اور تعصب بھرنے کے علاوہ کوئی تعمیری کام نہیں کیا ۔ پاکستان میں سب سے پہلے قوم پرستی کے جال میں پشتون اور بلوچ نوجوانوں کو پھانسا گیا ۔
 بھارت اور روس  کے سرمائے سے افغانستان میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپ قائم کئے گئے ۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں نفرت انگیز مواد کے ذریعے انقلاب کا فریب دے کر سادہ لوح نوجوانوں کے دلوں میں ملک کے خلاف منفی رجحانات پیدا کئے گئے۔ ان ملک دشمن تحریکوں کی صفوں میں بیٹھ کر ان کے مکر و فریب کا مشاہدہ و تجربہ کرنے والے جمعہ خان صوفی نے اپنی کتاب فریبِ نا تمام میں جعلی قوم پرستوں کے چہروں سے انقلاب کا نقاب نوچ ڈالا ہے۔ قوم پرستوں کی صفوں میں کھڑے ہونے سے پہلے ہر نوجوان کو جمعہ خان صوفی کی اس کتاب کو ایک مرتبہ ضرور پڑھنا چاہیے۔ اس کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ قیام پاکستان سے ستر کی دھائی تک بلوچ ، پشتون اور سندھی قوم پرستی کی تمام تحریکوں کی پشت پر بھارت اور روس کا دست شفقت کار فرما تھا ۔ افغانستان کی سرزمین پر پاکستان میں دہشت گردی کروانے کے لیے تربیتی کیمپ قائم تھے۔ یہ قوم پرست  اٹک کے پل تک کا علاقہ افغانستان کو دینے کی سازشیں گھڑتے تھے۔ ان کی بد دیانتی کا عالم یہ تھا کہ تربیتی کیمپوں میں خوار ہونے والے پشتون اور بلوچ نوجوانوں کی خوراک اور کپڑوں کے لیے بھارت اور روس سے ملنے والی رقم بھی ہڑپ کر جایا کرتے تھے۔ سرحدپار دہشت گردی کی انتہا یہ تھی کہ پی پی پی کے سینئر رہنما حیات محمد شیرپائو کو بم دھماکے میں قوم پرستوں نے قتل کروایا۔ اسی کی دہائی میں مہاجر قوم پرستی کی آڑ میں سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کی صورت میں الطاف حسین کی قیادت میں جو فتنہ بپا ہوا اُس کے بد اثرات کراچی اور حیدرآباد کی اردو بولنے والی آبادی بھگت رہی ہے۔ بھگوڑا سپرمین لندن میں بیٹھ کر مسلم دشمن مودی کے قصیدے پڑھ کر پاکستان کو گالیاں بکتا رہتا ہے۔ 
بلوچ قوم پرستی کی آڑ میں دہشت گردی کروانے والے کردار بھی ملک سے فرار ہو چکے ہیں ۔ امریکہ میں پناہ گزیں ایک بھگوڑا سفیر آئے دن اپنے جیسے چند دیہاڑی باز جعلی دانشوروں کو جمع کر کے پاکستان کی افواج کے خلاف تبرہ بازی کی محافل منعقد کرتا ہے ۔ شیخ مجیب سے لے کر الطاف حسین ، مری ، اچکزئی ، حقانی ، پشتین ، داوڑ ، وزیر اور بگٹی کی پٹاریوں میں  ریاستی اداروں کو دینے کے لیے ہزاروں گالیاں ہیں لیکن سادہ لوح عوام کے مسائل کے لیے کوئی حل دستیاب نہیں۔ بھارت کے ہاتھوں مرنے والے کشمیریوں اور دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنی نسلیں برباد کروانے والے پشتونوں اور افغانیوں کے لیے ان کے پاس ہمدردی کے دو بول بھی نہیں ۔ ریاستی ادارے پارلیمان کے رکن کی عوامی جلسوں میں ہرزہ سرائی کا فوری نوٹس لیں ۔ ماضی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ قوم پرستوں کو پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف چابی بھارت ہی بھرتا ہے۔