08:28 am
اُس موج  کے  ماتم  میں  روتی  ہے بھنور  کی  آنکھ

اُس موج  کے  ماتم  میں  روتی  ہے بھنور  کی  آنکھ

08:28 am

میڈیا کی مہربانی کہیے یا اہل سیاست کی کج فہمی کہ آج کشمیر ہمارے مباحث میں سرفہرست دکھائی نہیں دے رہا۔ پانچ ماہ سے زائد عرصہ ہونے کو آیا ہے ! مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمان امید بھری نظروں سے پاکستان کی جانب دیکھتے ہیں۔ وہی پاکستان کہ جس کے شعلہ بیاں راہنما مسئلہ کشمیر کو تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا قرار دیتے آئے ہیں! کبھی کشمیر کو اپنی شہ رگ کہتے ہیں تو کبھی ملک کی انا اور بقا سے منسلک کرتے ہیں۔ مسلم امہ کی بے حسی کی شکایت تو کیا کی جائے یہاں تو خود کشمیریوں کے اولین حمایتی غفلت کے سمندر میں غوطے کھا رہے ہیں ۔ ریاست کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کر کے تین حصوں میں تقسیم کرنے کے ناجائز بھارتی اقدام پر ابتدائی واویلا مچانے کے بعد سفارتی محاذ پر ہم نے کیا کچھ کیا ہے؟ صاف بات یہ ہے کہ ہم نے محض سفارتی خانہ پُری کی ہے۔ کیا حیرت نہیں ہوتی کہ کشمیر بارے  ہم سے  زیادہ بھرپور موقف ترکی ، ملائیشیا اور کسی حد تک ایران نے پیش کیا ۔ بھارت ڈاکٹر مہاتیر محمد کے جاندار موقف پر ایسا تلملایا کہ ملائیشیا سے پام آئل کی خریداری بند کردی ۔ سلام ہو پیرانہ سال مہاتیر کو کہ جس نے معاشی نقصان برداشت کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر حق گوئی کا پرچم بلند کرتے ہوئے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے آگے بے نقاب کرڈالا۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے حکمراں اور پارلیمان میں براجمان حزب اختلاف کے جغادری قائدین کیا کر رہے ہیں ؟ چوبیس گھنٹے متحرک رہنے والے  میڈیا نے اہل کشمیر پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کو سدباب کرنے کے لیے کیا کردار ادا کیا ؟ تلخ حقیقت یہی ہے کہ  زبانی دعووں اور  کھوکھلی خانہ پُری کے سوا ہم نے اہل کشمیر کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں دہواں دار خطاب کے بعد کیا ہوا ؟ بلاشبہ خطاب اچھا تھا اور راقم نے بھی اسے دل کھول کر سراہا تھا لیکن بعد میں جو کچھ ہوا وہ اطمینان بخش ہرگز نہیں ۔ حکمراں جماعت کے قصیدہ خوانوں نے صاحب بہادر کو عالمی راہنماوں کی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ۔ کھڑا ہونا  تو دور کی بات صاحب بہادر  لیٹنے کو بھی تیار نہیں ہو پارہے۔ کوالالمپور کانفرنس میں منہہ دکھائی کے لیے بھی حاضری کی جرات نہ ہوسکی۔ خانہ پُری کے  واسطے کوئی ڈھنگ کا وفد بھی نہ بھیج پائے۔ 
 
اُس موج کے ماتم میں روتی ہے بھنور کی آنکھ
دریا سے  اٹھی لیکن ساحل سے  نہ ٹکرائی
ملائیشیا کے پیرانہ سال مہاتیر محمد نے کشمیریوں کی ترجمانی کا حق ادا کیا ہے ۔ ہمارا تذبذب اور مہاتیر کی جرات گفتار دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ مدعی سست گواہ چست! ہم دعوے دار ہیں کہ مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے لیکن اس ایجنڈے کی تکمیل سے گریزاں ہیں ۔ کبھی خالی خزانے کا رونا ہے تو کبھی خود ساختہ سفارتی مجبوریوں کی زنجیر۔ اگر واشنگٹن ہم سے افغانستان میں سہولت کاری کا خواہشمند رہتا ہے اور ہم بھی ہمہ وقت اس خدمت پر دل و جان سے مائل رہتے ہیں تو آخر ہمیں کشمیر پر امریکہ بہادر سے معاونت طلب کرتے ہوئے کیوں ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔ کہیں  ہمارا رتبہ اتنا بلند ہوجاتا ہے کہ امریکہ ،  سعودی عرب اور ایران ہماری ثالثی پر متفق ہو جاتے ہیں  اور کبھی ہم ایسے بے بس اور بے سدھ ہوجاتے ہیں کہ اُس کانفرنس میں بھی  شریک نہیں ہو پاتے جس کے لیے ہم نے خود ہلہ شیری دی تھی۔ یہ قومی کمزوری نہیں فکری پسماندگی ہے۔ یہ قحط الرجال کا شکار رہے۔ عظیم الشان وسائل سے مالا مال ملک پرجب  نکمے، بدعنوان قابض ہوجائیں تو پھر رسوائی ہی مقدر ہوا کرتی ہے۔ ملک پر جانکنی کی کیفیت طاری ہے۔ مشرقی محاذ پر ازلی دشمن ہمارا وجود مٹانے کے درپے ہے۔ مقبوضہ کشمیر ہی نہیں بلکہ آزاد کشمیر سمیت شمالی علاقہ جات کو فوجی قوت سے ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ مغربی سرحدوں کے پار عالمی قوتوں کی رسہ کشی جاری ہے۔ بھارت کے پروردہ دہشت گرد افغانستان کے راستے پاکستان کے وجود پر زخم لگا رہے ہیں ۔ عالمی مالیاتی ادارے ہمارے معاشی شہ رگ پر چھری رکھے ہوئے ہیں ۔ پڑوسی ملک ایران داخلی اور خارجی محاذوں پر انتشارکا شکار ہے۔ چین اور روس  سے معاشی تعاون پر امریکہ بہادر تلملا رہا ہے ۔ پاکستان کی پارلیمان  ان پیچیدہ مسائل پر  آج اپنا کردار ادا کیوں نہیں کر پارہی؟ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر بند کمرے کے اجلاس میں بحث ہو رہی ہے ۔ بھارت کے اس بے بنیاد موقف کی دھجیاں اڑ گئی ہیں کہ کشمیر اُس کا داخلی مسئلہ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ بند کمرے کے اجلاس میں کشمیر پر کیا گفتگو ہوئی ہے؟ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر پر آج ہماری حکومت کا موقف کیا ہے اور حزب اختلاف کی تجاویز کیا ہیں؟ لیڈر وں  کی بیماری ، ہوٹل یاتر ا اور کرپشن کے مقدمات کا واویلا بہت ہو چکا ۔ ہتھ چھٹ وزیر اور زبان دراز اینکروں کی مکا بازی جیسے غیرسنجیدہ مسائل کی جان چھوڑنی ہوگی ۔ قوم کے پیسے سے چلنے والی پارلیمان کو قومی مسائل پر مباحثے کے لیے استعمال ہونا چاہیے ۔ حزب اختلاف پارلیمان میں حزب اقتدار کا احتساب کرے ! غلط اقدامات پر گرفت کرے! پارلیمان اس لیے نہیں بنی کہ کبھی ہتھ چھٹ وزیر اپنے ذاتی جھگڑوں کا رونا روئے تو کبھی منشیات کے مقدمے کا ملزم اور ایک وزیر کلام الٰہی کو سہارا لے کر ایک دوسرے کو نیچا دکھائیں۔ پاکستان کی پارلیمان اس چھچھورے پن کے لیے تو قائم نہیں کی گئی۔