08:49 am
 امریکہ بہادر کو چینی جواب! 

 امریکہ بہادر کو چینی جواب! 

08:49 am

چین حکمت و تدبر کو  دھونس اور تشدد پر فوقیت دیتا ہے۔ چینی سفارتکار اور ترجمان بے مقصد لفاظی سے بھی گریز کرتے ہیں۔ نپا تلا رد عمل اور سوچا سمجھا موقف چینی سفارتی ابلاغ کا خاصہ ہے۔
 
تاہم دو روز قبل اسلام آباد  میں واقع چینی سفارتخانے کے ترجمان کا بیان معمول سے زیادہ تلخ اور تیز دھار نشتر جیسا تھا۔ سینئر امریکی سفارتکار ایلس ویلز نے سی پیک میں کیڑے نکالتے ہوئے ایک  غزل پیش کی تھی ! چینی ترجمان کا وضاحتی بیان   جواب آں غزل تھا ! گذشتہ برس بھی محترمہ ایلس ویلز نے سی پیک کو مشق ستم بنایا تھا۔ اب کی بار بھی یہی ہوا ہے۔ محترمہ کی تنقید کا لب لباب یہ ہے کہ پاکستان رفتہ رفتہ چین کے پھیلائے جال میں پھنستا چلا جا رہا ہے۔ سی پیک منصوبہ پاکستان کو چینی قرضوں کے ناقابل برداشت بوجھ تلے کچل ڈالے گا۔ سادہ لفظوں میں چین اپنے مفاد کے لیے پاکستان کا معاشی استحصال کر رہا ہے۔ امریکہ بہادر نے اپنی ذہین سفارتکار کے ذریعے پاکستان کو کھلے لفظوں یہ مشورہ دیا ہے کہ چین کے ہاتھوں دھوکہ نہ کھائیں ! سی پیک سے  فوری جان چھڑوائیں اور واشنگٹن سے رجوع فرمائیں۔  مزید تبصرے سے پہلے ابن انشاء مرحوم یاد آگئے جنہوں نے ایک دکان کے اشتہاری بورڈ کی تحریر نقل کی تھی کہ کہیں اور جاکر دھوکہ نہ کھائیں ، ہمارے یہاں تشریف لائیں ! دیکھا جائے تو ایلس ویلز نے بھی یہی مشورہ دیا ہے کہ پیارے پاکستانیو!  چین کے ہاتھوں  دھوکہ نہ کھائو بلکہ پرانے کاریگر امریکہ سے ہی دھوکا کھا کر اپنا شوق پورا فرمائو۔ اُمید ہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ امریکہ کی زہریلی تنقید پر وضاحتی بیان جاری کر کے گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے کی رسم پوری کرے گا ۔ تاہم چینی ترجمان کا جوابی بیان یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ بیجنگ میں بیٹھے فیصلہ ساز امریکی بیان کے زہر کا اندازہ بھی لگا چکے ہیں اور خطے کے متعلق واشنگٹن کے خطرناک عزائم کو بھی بھانپ چکے ہیں ۔  غور کیا جائے تو ایلس ویلز جیسے اہم اہلکاروں کی زبانی سی پیک منصوبے پر بار بار امریکی تنقید کئی  پہلوئوں  سے پاکستان اور چین کی کھلی تضحیک ہے! امریکہ کے مطابق چین سے سی پیک کے معاملات طے کرنے والے حکمراں اور سرکاری اہلکار یا تو عقل سے پیدل تھے یا پھر اتنے بد دیانت تھے کہ ذاتی مفاد کی خاطر ملکی مفاد کو نظرانداز کر کے پاکستان کو معاشی بد حالی کی کھائی میں دھکیل دیا ۔حزب اختلاف اور حزب اقتدار کچھ دیر کے لیے سیاسی اختلافات کو نظرانداز کر کے پاکستانی بن کر اس تنقید پر غور فرمائیں  تو انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ امریکہ نے کس طرح سب کو گالی دی ہے۔ سی پیک کا باضابطہ آغاز نون لیگ کے دور میں ہوا اور میاں نواز شریف  اس کا کریڈٹ لیتے رہے ہیں ۔ پی پی پی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اپنے عہدِ صدارت میں انہوں نے سی پیک کے لیے چین سے اہم پیش رفت کی تھی۔ پی ٹی آئی آج ملک پر حکمران ہے اور ہر اعتبار سے اس اہم  منصوبے میں ملکی مفادات کے تحفظ کی ذمہ دار بھی۔ عسکری ادارے بھی ہمہ وقت سی پیک منصوبے کے خلاف برسرپیکار ملک دشمن عناصر کے خلاف چو مکھی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ امریکہ نے سی پیک پر تنقید کر کے تمام ریاستی اداروں پر کیچڑ اچھالا ہے۔ امریکہ نے چین کو بھی کمزور ممالک کا استحصال کرنے کی گالی دی ہے۔ معلوم  نہیں ہمارے حکمراں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کو امریکی گالی سمجھ میں آتی بھی ہے یا نہیں لیکن چینی ترجمان کے بروقت جواب سے یہ واضح ہو گیا کہ بیجنگ کو واشنگٹن کی تنقید کے مضمرات کا مکمل ادراک ہے۔ چینی ترجمان نے جوابی بیان میں آئینہ دکھاتے ہوئے بجا طور پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ امریکہ نے آج تک پاکستان کے لیے کیا کیا ہے؟ اگر واشنگٹن کو پاکستانی معیشت کی اتنی فکر کھائے جا رہی ہے تو امدادی فنڈز جاری کرے ؟ چینی بیان کا یہ حصہ نہایت قابل غور ہے کہ امریکہ کا حساب کتاب بھی غلط ہے اور نیت بھی خراب ہے! دنیا بھر میں معاشی پابندیوں کا ڈنڈا چلا کر صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سازشیں گھڑنے کے سوا امریکہ نے دنیا کو کچھ نہیں دیا ۔ چینی ترجمان نے ٹھوس اعداد و شمار کی مدد سے ایلس ویلز کی بے جا تنقید کو بروقت رد کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان رسمی بیان یا خانہ پری سے آگے بڑھ کر کوئی موثر ردعمل   پیش  کر پائے گا ؟ ڈیوس کانفرنس میں جب ٹرمپ  پاکستانی وزیر اعظم کو اپنا دوست کہہ رہے تھے تو اُس وقت اُن کی سفارتکار پاکستانی حکومت ، ریاستی مشینری اور سابق حکمرانوں  کو گالی دے رہی تھی۔ مانا کہ ہمیں بعض معاملات میں امریکہ سے تعاون درکار ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہمارے گھر میں بیٹھ کر کوئی بھی  امریکی سفارتکار جو منہ میں آئے کہہ ڈالے۔ سی پیک دو ذمہ دار ممالک کے درمیان طے شدہ منصوبہ ہے۔ میزبان ملک میں  بیٹھ کر ایلس ویلز کی  سفارتکار کی تنقید سفارتی آداب کے  خلاف ہے ! اس سفارتی بد اخلاقی پر پاکستان کو امریکہ سے احتجاج بھی کرنا چاہیے اور یہ مطالبہ بھی کرنا چاہیے کہ آئندہ ایسی غیرذمہ دارانہ گفتگو سے گریز کیا جائے! پاکستان کی فکر میں گھلنے سے بہتر ہوگا کہ افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ اپنے پھیلائے بکھیڑوں پر توجہ دے۔ اگر پاکستان کی زیادہ فکر ہو رہی ہے  تو مسئلہ کشمیر ، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ اور بھارتی دہشت گردی جیسے اہم مسائل پر یا تو  اسلام آباد کے موقف کی عملی حمایت کر کے امریکہ اپنے خلوص کا ثبوت پیش کرے  یا  چینی جواب کے آئینے میں اپنا  بھیانک عکس دیکھ کر اپنے ہی گریبان  میں جھانک لے!