08:09 am
خطرات کے مقابل پر عزم پاکستان

خطرات کے مقابل پر عزم پاکستان

08:09 am

برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کو پاکستان کے حوالے سے سفری ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے  اس خوشگوار حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں آج ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال بہت بہتر ہوچکی ہے۔ بلاشبہ پاکستان کی بہادر عوام اور جان نثار محافظین کی انتھک محنت اور قربانیوں کی بدولت دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانا ممکن ہوسکا۔
 
حکومتی شخصیات نے برطانوی  مثبت ردعمل کو سراہتے ہوئے موجودہ حالات کو  اپنی حکومت کی کامیابی قرار دیا ہے۔ یہ حکومتی دعویٰ جزوی طور پہ درست ہونے کے باوجود کافی حد تک مبالغے پر مبنی لگتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوئی دو چار ہفتوں یا چند ماہ کی بات نہیں  بلکہ کئی برسوں پر محیط ہے ! سابقہ نون لیگی حکومت کے دوران بھی یہ جنگ پورے عزم سے جاری رہی۔ گو کہ بھارتی دہشت گردی کے خلاف اصحابِ نون کی زبانوں پر تالے ہی پڑے رہے اور پولیس سمیت اہم سول اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے بھی کوئی قابلِ قدر کوشش نہ کی جاسکی تاہم یہ ایک امر واقعہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تسلسل برقرار رہا ۔ بلاشبہ افواجِ پاکستان نے انتہائی نامساعد حالات میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے قوم کو وسیع تر تباہی سے محفوظ رکھا ۔ پولیس ، ایف سی ، رینجرز سمیت متعدد  پاکستانی شہریوں نے قیمتی جانوں کی قربانیاں دیں ۔ میڈیا رپورٹس میں دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد لگ بھگ ستر ہزار بیان کی جاتی ہے۔ یہ غیرمعمولی تعداد قوم کے بے مثال عزم کا  ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ برطانوی ہدایت نامہ اس تاثر کی طاقتور تائید ہے کہ پاکستان امن اور استحکام کے حصول کے لیے  کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔ گزشتہ دنوں سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورے سے پاکستانی  میدانوں میں بین الاقوامی کرکٹ  کی واپسی کا آغاز ہو چکا ہے۔ اب بنگلہ دیشی ٹیم کے دورے نے بھی دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین امن اور پیار کا گہوارہ ہے۔ اس مرتبہ پاکستان سپر لیگ کے تمام میچز بھی پاکستانی میدانوں میں ہی کھیلے جائیں گے۔ کون نہیں جانتا کہ سری لنکن ٹیم پر حملے کے ذریعے  ازلی دشمن نے بین الاقوامی کرکٹ کو ہمارے  میدانوں سے نکالنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ساکھ کو پامال کرنا چاہا تھا ۔ صد شکر کہ آج کئی برسوں بعد پاکستان ایک باہمت قوم کی صورت دنیا کو یہ پیغام دینے کے قابل ہوا ہے کہ عزم صمیم کر لیا جائے تو دہشت گردی سمیت ہر بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہمارے ارباب اقتدار کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ بے مثال کامیابیوں کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ۔ ہمارے دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں ۔ پاکستان کا امن  اور استحکام اُن کی آنکھوں میں کانٹا کی طرح کھٹکتا ہے۔ جونہی موقع ملتا ہے یہ سانپ پلٹ کر ڈسنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے تسلسل سے بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کے ذریعے پاکستان کو زخم لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔  بنگلہ دیشی ٹیم کے حالیہ دورے اور مستقبل قریب میں پاکستان سپر لیگ کے موقعے پر بے انتہا احتیاط درکار ہے۔ دشمن کی پوری کوشش ہوگی کہ دہشت گردی کا کوئی واقعہ کروا کر پاکستان کی ساکھ کو دنیا بھر میں پامال کیا جائے۔ بیجنگ میں منعقد ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس سے موصول ہونے والی خبریں بھی حوصلہ افزا ہیں ۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق پاکستانی وفد نے سابقہ نکات پر کامیاب عملدرآمد سے آگاہ کر کے اجلاس کے شرکاء کو مطمئن کیا ہے۔ امکان ہے کہ آئندہ ماہ پیرس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں بارہ سے تیرہ اراکین کی حمایت دستیاب ہونے پر  پاکستان گرے لسٹ سے باہر آجائے گا اور اگر ایسا نہ بھی ہوا تو شائد چند ماہ مزید گرے لسٹ میں ہی رہنا پڑے گا۔ غالب تاثر یہی ہے کہ بلیک لسٹ کا خطرہ ٹل چکا ہے۔ نامساعد حالات میں یہ  پاکستان کی  ایک بڑی کامیابی ہے ۔ بھارت نے سر توڑ کوشش کی کہ کسی طرح پاکستان کو بلیک لسٹ کروا کر معاشی بربادی کی کھائی میں دھکیلا جائے ۔ بھارتی وزرا ء حتیٰ کہ منہہ پھٹ  چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت بھی پاکستان کو بلیک لسٹ کروانے کی خواہش کا کھلے بندوں اظہار کرتے رہے۔  بھارت کی مکارانہ سفارتکاری اور اپنی سابقہ کوتاہیوں کی بدولت پاکستان گرے لسٹ کے گڑھے میں گرنے کے بعد آج تک بلیک لسٹ کی تلوار کی زد میں ہے۔ اگر پہلے ہی فرض شناسی اور چابکدستی کا مظاہرہ کر لیا جاتا تو یہ معاملہ کبھی اتنا طول نہ پکڑتا۔ سلامتی کونسل کے مسئلہ کشمیر پر ہونے والے اجلاس نے بھارت کی تلملاہٹ میں مزید اضافہ کیا ہے۔ کشمیر کو اندرونی مسئلہ قرار دینے اور آزاد کشمیر پر اپنا حق جتانے والے بھارت کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس ، چین کی مذمت اور بین الاقوامی میڈیا پر ہونے والی لعن طعن  ایک مستقل درد سر بن گئی ہے۔ ان حالات میں عادت سے مجبور بھارت  دہشت گردی کے  جھوٹے الزامات کی آڑ لے کر پاکستان سے جنگ چھیڑ  کر اپنی خجالت مٹانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ بھارت سے اٹھتے سنگین خطرات سے نبٹنے کے لیے پاکستان کو اندرونی استحکام اور سیاسی اتفاق رائے پر توجہ دینا لازم ہے۔