08:49 am
جھوٹ  اور  دھوکے کا کاروبار 

جھوٹ  اور  دھوکے کا کاروبار 

08:49 am

عام آدمی سے پوچھا جائے کہ سیاست کیا ہے ؟ تو بڑی تعداد یہی جواب دیتی ہے کہ سیاست جھوٹ اور دھوکے کا کاروبار ہے! اہل سیاست کو اپنے اطوار بدلنے ہوں گے۔ مرض کا علاج تشخیص کئے بنا ممکن ہی نہیں۔ مریض اگر تشخیص کو ہی نہ مانے ! لیبارٹری سے ملنے والی ٹیسٹ رپورٹ کو مسترد کر دے تو علاج کا سلسلہ شروع ہی نہیں ہو پائے گا ۔ ایسا مریض بالآخر مرض کی بدولت تڑپ تڑپ کر جان دے گا ۔ کیا اہل سیاست سچ سننے اور ماننے کا ظرف رکھتے ہیں ؟ سوال اٹھایا گیا کہ ملک میں آٹے کا بحران ہے۔ گندم اِدھر اُدھر کر کے کچھ لوگوں نے مال بنا لیا ہے۔ اپوزیشن نے روایتی واویلا مچایا ! یہ حکومت نکمی اور کرپٹ ہے۔ آٹے جیسے بنیادی ضرورت کی جنس مارکیٹ سے غائب کردی۔ حکومتی ترجمانوں نے یہ الزام ہی مسترد کر دیا کہ ملک میں گندم کی کوئی کمی ہے۔ سرکاری بھونپووں کے مطابق آٹے اور گندم کی فراوانی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہی ہے تو اتوار کو شائع ہونے والے اکثر اخبارات میں لگی شہ سرخیاں یہ کیوں بتا رہی ہیں کہ گندم کا مصنوعی بحران پیدا کرنے کی سازش کے متعلق مفصل رپورٹ وزیر اعظم کو بھیج دی گئی ہے۔ 
ایک موقر اخبار نے صفحہ اول پر یہ شہ سرخی لگائی ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اکیاسی افراد نے گندم کا بحران پیدا کیا جس کے نتیجے میں نرخ بڑھے ، آٹے کی قلت ہوئی اور غیرقانونی طریقے سے گندم ملک سے باہر بھی بھیجی گئی۔ اس گڑبڑ گھٹالے میں گیارہ اعلیٰ افسر ، سینتالیس سرکاری اہلکار ، سات سیاسی شخصیات اور سولہ تاجر ملوث ہیں۔ اگر گندم کی قلت نہیں تھی ! اور آٹے کے دام نہیں بڑھے تھے تو پھر تحقیقاتی رپورٹ کیوں مرتب کی گئی ؟ حکومتی ترجمان متضاد موقف پر کبھی کچھ نہیں فرمائیں گے۔ مثال اسی مریض جیسی ہے جو تشخیص کو مسترد کر دے۔ سندھ پر حکومت کرنے والی پی پی پی وفاق میں بطور حزب اختلاف گندم کی قلت کا ماتم کر رہی ہے لیکن جب سوال سندھ انتظامیہ کی نااہلی کا کیا جائے تو جواب میں آئیں بائیں شائیں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ نون لیگ گندم کے بحران اور مہنگائی جیسے مسائل پر عوامی ترجمانی سے زیادہ پی ٹی آئی کی ناکامی کا جشن منا کر اپنی سابقہ نا اہلیوں کی پردہ پوشی کرنے میں مصروف ہے۔ حد سے زیادہ فعال میڈیا کی موجودگی میں متضاد موقف اپنا کر سیاسی جماعتیں اپنا تاثر برباد کر رہی ہیں ۔ گندم بحران پر جس طرح حکومت اور اپوزیشن عوام کی تکلیف دور کرنے کے بجائے اپنے سیاسی بغض و عناد کو ترجیح دے رہے ہیں وہ بے حد مایوس کُن ہے۔ ایسا ہی طرز عمل ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے بارے اختیار کیا گیا ہے۔ 
پاکستان عالمی درجہ بندی میں پھسل کر مزید نیچے جا گرا ہے۔ تیزی سے پھیلتی بد عنوانی پر شرم محسوس کرنے کے بجائے حزب اختلاف نے محض اس بنیاد پر سیاسی لُڈیاں ڈالنی شروع کر دی ہیں کہ حکومت کو زچ کرنے کے لیے جواز مہیا ہو گیا ہے۔ حزب اختلاف غور کرے کہ اگر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ درست ہے تو کیا درجہ بندی کی تنزلی گزشتہ پندرہ سولہ ماہ کی کارکردگی کا نتیجہ ہے یا اس میں سابقہ حکومتوں کی انتہا درجے کی ناقص کارکردگی کا حصہ زیادہ ہے؟ یقیناً بارہ برس سے مسلسل صوبہ سندھ میں پی پی پی نے جس بدعنوانی اور بدانتظامی کا مظاہرہ کیا ہے اُس نے بھی پاکستان کی تنزلی میں اہم کردار ادا کیا ہے؟ حزب اختلاف اس پہلو پر بھی توجہ دے کہ جب پی پی پی اور نون لیگ ملک پر حکمران رہیں تو اُس وقت بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کسی باعزت مقام پر فائز نہیں تھا ۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ رپورٹ کسی جماعت کے متعلق نہیں بلکہ پاکستان میں پھیلے کرپشن کے اُس ناسور کی نشاندہی کر رہی ہے جس کا رونا ہر پاکستانی رو رہا ہے۔ اسی کرپشن کو مرکزی مسئلہ قرار دے کر موجودہ حکمراں جماعت نے الیکشن جیتا ۔ حکومتی ترجمان غور کریں کہ جو کرپشن ڈیڑھ برس پہلے تک ملک کا سب سے سنگین مسئلہ تھی کیا وہ پی ٹی آئی کے حکومت میں آنے کے بعد ختم ہو گئی ہے؟ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نہ تو احتساب ہو پایا نہ ہی ڈھنگ کی تفتیش۔ عدلیہ کئی مرتبہ نشاندہی کر چکی ہے کہ ناقص تفتیش کی بدولت مجرم سزا سے بچ نکلتے ہیں ۔ ایسے حالات میں حیرت انگیز طور پر موجودہ حکومت نے حسب عادت ابتدائی مرحلے پر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو ہی مسترد کر دیا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ جس انداز میں مرتب کی گئی وہ تسلی بخش نہ ہو ۔ 
اپوزیشن کے سابقہ ٹریک ریکارڈ کو مد نظر رکھا جائے تو یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ حکومت کو بدنام کرنے کے لیے پس پردہ کوئی کھیل کھیلا گیا ہو۔ لیکن ایسے مبہم قیاسات کی بنیاد پر اس ٹھوس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں کرپشن کے ناسور کی جڑیں تیزی سے پھیل رہی ہیں ۔ تشخیصی رپورٹ میں مرض کی نشاندہی کا انکار کر کے علاج نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر حکومت کو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر شک ہے تو اپنے آزادنہ ذرائع سے اعداد و شمار جمع کروالے۔ اپوزیشن کو بھی اگر حقیقتاً ملک کا درد ہے تو اپنے سابقہ ادوار میں ہوئی کرپشن کے متعلق وائٹ پیپر مرتب کروا کر مجرمان کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنی صفوں کو بدعنوان کرداروں سے پاک کریں۔ اس عظیم خدمت پر قوم اپوزیشن کی مشکور ہوگی۔ ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے سے بہتر یہ ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن مشترکہ ٹاسک فورس بنا کر کرپشن کے متعلق حقائق مرتب کر کے سدباب کا بندوبست کریں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ سیاست دراصل جھوٹ اور دھوکے کا کاروبار ہے۔