12:16 pm
شریف بیانیہ !اک اینگل یہ بھی ہے

شریف بیانیہ !اک اینگل یہ بھی ہے

12:16 pm

6نومبر کے جمعتہ المبارک میں مختلف مسالک کے متعدد علماء و کرام نے کہا کہ فوج‘ عدلیہ اور اسلام کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی... مذہبی جماعتوں کے جن قائدین نے جمعتہ المبارک کے اجتماعات میں یہ باتیں کیں... ان کے خلاف سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا‘ جو اب تک جاری ہے... دلچسپ بات یہ کہ تنقید کرنے والوں میں ن لیگی‘ تو شامل ہیں ہی... مگر مذہبی سیاسی جماعتوں کے کارکن یا سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی پیش پیش ہیں...
 ایک دوست عالم دین نے اس خاکسار کو بتایا کہ ... دینی مدارس‘ مذہب پسندوں اور علماء کے حوالے سے یہ تاثر بنتا جارہا ہے کہ جیسے خدانخواستہ وہ فوج اور دیگر اداروں کے خلاف ہیں... نواز شریف کی کرپشن اور فوج سے لڑائی کا  بوجھ مذہبی جماعتیں کیوں اٹھائیں؟ نواز شریف کو تین مرتبہ اس ملک کا وزیراعظم بنایا گیا... انہوں نے تینوں مرتبہ سب سے زیادہ زیادتیاں دینی مدارس اور مذہبی کارکنوں کے ساتھ کیں... ’’نواز شریف‘‘ کا دور تو اس قدر برا تھا کہ جس دور میں مساجد کے لوڈ اسپیکروں پر تو پابندی لگا دی گئی... مگر الیکٹرانک چینلز اور دیگر فریقوں سے فحاشی‘ عریانی‘ بے حیائی اور ناچ گانے کو پروان چڑھایا جاتا رہا... مگر ان کے خلاف شریفوں کا قانون حرکت میں نہ  آیا... قربانی کی عید کے موقع پر اپنے مدرسے کے طالب علموں کے لئے کھالیں جمع کرانے والے علماء کرام کو اس ’’جرم‘‘ میں گرفتار کرکے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر ان بے گناہ علماء کو تھانوں‘ عدالتوں اور جیلوں میں رسوا کیا جاتا رہا... پنجاب میں مذہبی کارکنوں کو جعلی مقابلوں میں مروانا دونوں ’’شریف‘‘ بھائیوں کا محبوب مشعلہ رہا‘ شریفوں کے دور میں بھتہ خور‘ رسہ گیر‘ بدمعاش‘ قبضہ مافیاء کے سرغنے تو دندناتے پھرتے تھے... مگر جید علماء کرام اور مذہبی کارکنوں کو بدنام زمانہ فورتھ شیڈول میں تھوک کے حساب سے ڈالا گیا۔ 
علماء کرام کے شناختی کارڈ بلاک اور اکائونٹس منجمد کرکے انہیں عدالتوں میں ذلیل کیا جاتا رہا... نواز شریف کے آخری دور میں تو ختم نبوتؐ کے کارکنوں تک کو نہ بخشا گیا... ختم نبوتؐ کے عقیدہ سے محبت پیدا کرنے والی کتابوں کورکھنا بھی دہشت گردی سے تعبیر کیا جانے لگا‘ آج اگر نواز شریف لندن میں بیٹھ کر فوج مخالف بیانیہ دے رہے ہیں... تو ہم آنکھیں بند کرکے اس بیانیے کی حمایت کیوں کریں؟
اگر مقابلہ نواز شریف اور عمران خان کے درمیان ہوتا... تو ہماری بلا سے ‘ لیکن جب الطاف حسین‘ حربیار بگٹی‘ حسین حقانی کی طرح نواز شریف بھی پاک فوج کے خلاف عوام کو اکسانے کی کوشش کریں گے تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نواز شریف کی بجائے فوج کی حمایت کریں‘ اس پر کسی کو سیخ پا ہونے یا غصہ کرنے کی بجائے اپنی ادائوں پر غور کرنا چاہیے‘ میں نے نواز شریف بیانئے کے مخالف ’’مولانا‘‘ سے آخری سوال کیا کہ حضرت! وہ لاپتہ افراد‘ وہ مذہبی کارکنوں کا گھروں سے غائب ہو جانا‘ وہ غائب شدہ افراد کئی سالوں بعد گولیوں سے چھلنی لاشیں ملنا‘ پھر یہ سب کیا ہے؟
وہ پہلے براہ راست میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرگفتگو فرما رہے تھے... یہ سوال سننے کے بعد اچانک انہوں نے خلائوں میں گھورتے ہوئے فرمایا... ہاشمی صاحب! آپ بھی نہ‘ بس زخموں کو کریدنا شروع کر دیتے ہیں... جو لاپتہ ہوئے... وہ ہم ہی تھے یا ہمارے پیارے ہی ہیں‘ جن گمشدگان کی لاشیں ملتی رہیں... وہ ہمارے ہی جگر گوشے تھے‘ جنہیں جیلوں میں ڈالا جاتا رہا... جن کے کارکنوں کو پھانسیاں دی گئیں... وہ بھی ’’ہم‘‘ ہی تھے... لیکن نواز شریف‘ محمود خان اچکزئی‘ بلاول زرداری سمیت ہمارے سروں پر تو تب کسی نے بھی ہاتھ نہ رکھا... ہمارے شہیدوں کے جنازوں میں  تو ان میں سے ایک بھی شامل نہ ہوا... آج اگر یہ لاپتہ افراد کی حمایت میں باتیں کرتے ہیں تو  یہ  ان کے سیاسی حربے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
 پاک فوج کی حمایت میں جمعتہ المبارک کے دن تقریریں کرنے والے علماء کو ’’بوٹ پالشی‘‘ ’’مالیشیاء‘‘ اور بکائو مال کہنے والی ایک  شخصیت سے پوچھا کہ یہ آپ کا بیانیہ کب سے فوج مخالف ہوگیا؟
انہوں نے حیرانگی سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا کہ آپ کو کس نے کہا کہ ہمارا بیانیہ فوج مخالف ہے؟ اگر چند علماء نے اداروں کے حق میں تقریریں کی  ہیں... تو اس کا مطلب یہ نہیں  ہے باقی علماء‘ یا دینی مدارس اور مذہبی تنظیمیں خدانخواستہ کوئی  فوج مخالف ہیں؟ ہمارے قائد مولانا فضل الرحمن نے تو پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے ملکی سلامتی کے ضامن اداروں کا بھرپور ساتھ دیا... جس کی پاداش میں ان پر کئی مرتبہ خودکش حملے بھی ہوئے۔ ہمارے درجنوں علماء کو امن‘ اسلام اور اعتدال پسند ہونے کے جرم میں شہید کیا گیا‘ ہم نے تو مولانا فضل الرحمن کے حکم پر پاک فوج سے اظہار یکجہتی کا دن بھی منا رکھا ہے... ملک کی گیارہ سیاسی جماعتوں  پر مشتمل پی ڈی ایم کے اتحاد کو اگر سیاسی حوالوں سے چند افراد کے کردار پر اشکالات اور تحفظات ہیں تو اس کا اظہار ہی سیاسی پلیٹ فارم پر سیاسی انداز میں کیا جارہا ہے... ’’مولانا‘‘ کا مقصود اصلاح احوال ہے... انہوں نے کہا کہ چند افراد کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات کو پورے ’’ادارے‘‘ کے خلاف سمجھ لینا... نہ صرف  خلاف واقعہ‘ بلکہ زیادتی کے مترادف ہے... انہوں نے کہا کہ اگر کچھ لوگ نواز شریف کے بیانیے کے بہانے سے  مولانا فضل الرحمن کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے... تو لازمی بات ہے ایسے مولویوں کے خلاف جذباتی ردعمل  بھی آئے گا۔ 

تازہ ترین خبریں

پاکستان کا سری لنکا کو کروڑوں ڈالر دینے کااعلان

پاکستان کا سری لنکا کو کروڑوں ڈالر دینے کااعلان

بھارت کی جانب سے 2003سے2021تک 13ہزار627بارایل اوسی کی خلاف ورزی ہوئی جس میں310 شہری شہیدہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

بھارت کی جانب سے 2003سے2021تک 13ہزار627بارایل اوسی کی خلاف ورزی ہوئی جس میں310 شہری شہیدہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

سینیٹ الیکشن: پنجاب کے 11امیدواروںکی کامیابی میں پرویزالٰہی کا ہاتھ نکل آیا

سینیٹ الیکشن: پنجاب کے 11امیدواروںکی کامیابی میں پرویزالٰہی کا ہاتھ نکل آیا

ایف اےٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو جون تک گرےلسٹ میں برقراررکھنےکافیصلہ

ایف اےٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو جون تک گرےلسٹ میں برقراررکھنےکافیصلہ

سیالکوٹ: پولیس بھرتی ٹیسٹ میں دوڑکےدوران نوجوان انتقال کرگیا،ریسکیوذرائع

سیالکوٹ: پولیس بھرتی ٹیسٹ میں دوڑکےدوران نوجوان انتقال کرگیا،ریسکیوذرائع

کورونا کیسز میں کمی ۔۔ ایس او پیز تبدیل۔۔ 15 مارچ سے شادی ہالز میں انڈور فنکشنز کرنے کی اجازت، نوٹیفیکشن جاری

کورونا کیسز میں کمی ۔۔ ایس او پیز تبدیل۔۔ 15 مارچ سے شادی ہالز میں انڈور فنکشنز کرنے کی اجازت، نوٹیفیکشن جاری

سینیٹ انتخابات کا معاملہ۔۔۔ ارکان کی پریشانیوں میں اضافہ ۔۔۔  پولنگ ڈے پر ارکان کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد

سینیٹ انتخابات کا معاملہ۔۔۔ ارکان کی پریشانیوں میں اضافہ ۔۔۔ پولنگ ڈے پر ارکان کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد

 چائےکی پیشکش عمومی طور پر کی تھی آفر اب بھی برقرار ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار

چائےکی پیشکش عمومی طور پر کی تھی آفر اب بھی برقرار ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار

 دارالحکومت اسلام آباد سمیت پورے ملک میں کھانے کے معیار کی نگرانی کا کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے: رحمان ملک

دارالحکومت اسلام آباد سمیت پورے ملک میں کھانے کے معیار کی نگرانی کا کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے: رحمان ملک

 میر امشن ہے کہ میں پاکستان ریلوے کو منافع بخش ادارہ بناؤں۔اعظم خان سواتی

میر امشن ہے کہ میں پاکستان ریلوے کو منافع بخش ادارہ بناؤں۔اعظم خان سواتی

شریف خاندان کا جاتی امرا کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کا

شریف خاندان کا جاتی امرا کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کا

بٹگرام میں نامعلوم افراد کی فائرنگ ، ظاہر شاہ نامی شخص جاں بحق

بٹگرام میں نامعلوم افراد کی فائرنگ ، ظاہر شاہ نامی شخص جاں بحق

پاکستان میں کتنی رشوت دی جاتی ہے ؟؟ گیلپ پاکستان کی نئی رپورٹ سامنے آگئی

پاکستان میں کتنی رشوت دی جاتی ہے ؟؟ گیلپ پاکستان کی نئی رپورٹ سامنے آگئی

ملکی تاریخ میں پہلی بار اسٹیٹ بینک کی بڑی رقم چوری،پولیس نے ریلوے ملازم سمیت ملزمان کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کرلیا

ملکی تاریخ میں پہلی بار اسٹیٹ بینک کی بڑی رقم چوری،پولیس نے ریلوے ملازم سمیت ملزمان کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کرلیا