12:17 pm
ترکی کانیاامتحان

ترکی کانیاامتحان

12:17 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
اسرائیل اب اس خطے میں کھل کرسامنے آرہا ہے۔وہ اپنی سیاسی وعسکری طاقت میں اضافے کے ساتھ ساتھ نئی شناخت چاہتاہے اورنئی حکمتِ عملی کے تحت اس خطے میں زیادہ اثرورسوخ بھی چاہتاہے۔ اسرائیل خطے کے مسلم ممالک سے تعلقات کومعمول کی سطح پرلاکرثابت کرناچاہتاہے کہ فلسطین کوضم کرکے وہ کچھ غلط نہیں کررہا۔دوسری طرف اسرائیل سابق سلطنتِ عثمانیہ کے پرچم تلے رہنے والے علاقوں میں ترک اثرونفوذختم کرنااور خطے کے ممالک کوترکی کے مقابل کھڑاکرکے اسے الگ تھلگ کرنا چاہتا ہے۔ 
اسرائیلی قیادت،امریکہ،یونان،یونانی قبرص کی انتظامیہ اورکسی حدتک مصرکی مددسے جوکچھ بھی کرنے کے موڈمیں ہے،وہ یونانی وزیراعظم کے جرمن اخبارمیں شائع ہونے والے مضمون سے بھی بالکل واضح ہے۔خطے کے ممالک سے تعلقات معمول پرلاکر اسرائیل ذرائع نقل وحمل اور لاجسٹکس کے حوالے سے نئے روٹس تلاش کررہا ہے۔اسے ایک بڑی مارکیٹ میں اپنامال بیچنے کاموقع بھی ملے گااورسب سے بڑھ کریہ کہ علاقائی بالا دستی کااس کاخواب کسی حدتک شرمندہ تعبیرہورہے گا۔مشرقی بحیرہ روم کے خطے سے اسرائیل جو قدرتی گیس حاصل کرتاہے،اس کی فروخت کیلئے اسے خطے میں کئی ممالک سے معمول کے تعلقات درکار ہیں۔ترکی اورلیبیاکے درمیان معاہدہ طے پاجانے کے بعداسرائیل اب ایسٹ میڈپائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس کی ترسیل نہیں کرسکتا۔
اگرحکمت عملی کامیاب رہے تواب اسرائیل علاقائی طاقت بن کرابھرسکتا ہے اورشام ولبنان میں اپنے اثرات کادائرہ وسیع کرسکتا ہے۔یوں ان ممالک میں اپنے کٹردشمن ایران کی موجودگی کی صورت میں جوخطرات موجود ہیں ان سے زیادہ خوف کھانے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔اسرائیل ایک طرف ایران کومشرق وسطیٰ میں اپناسب سے بڑادشمن ٹھہرا کر اوردوسری طرف ترکی کو(سلطنتِ عثمانیہ کے احیاء کی دیوانگی کے الزام تلے)اکیسویں صدی میں مشرقی بحیرہ روم کی جیوپالیٹکس کاسب سے بڑا ہدف بنانا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے اسرائیل کے خفیہ ادارے موسادنے گمراہ کن رپورٹس کوپھیلاناشروع کردیاہے۔ ترکی کے بارے میں بے بنیادطورپرکہا جا رہاہے کہ وہ مصرکے علاوہ بلقان کی ریاستوں کے گرد گھیراتنگ کرناچاہتا ہے۔
فرانس نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ یورپی یونین کوامریکہ کے مضبوط ترین حریف کی حیثیت سے سامنے لائے۔فرانس نے ایک طرف توانگریزی سے دوررہنے کی روش اپنائی ہے اوردوسری طرف وہ علاقائی طاقت کی حیثیت بھی اختیارکیے ہوئے ہے۔افریقہ کے جوممالک فرانس کی نوآبادی رہ چکے ہیں،ان میں فرانس نے مالیاتی معاملات میں اپنی بات منوانے کی کوشش کی ہے اوراس میں بہت حدتک کامیاب بھی رہاہے۔معاہدہ شمالی بحراوقیانوس کی تنظیم نیٹوکے متبادل کے مدمقابل کے طورپر مشترکہ دفاعی نظام کے منصوبے ’’دی پرمیننٹ اسٹرکچرڈکوآپریشن(The Permanent Structure Cooperation) (پیسکو) کے ذریعے فرانس یورپی یونین کوایک واضح نئی شکل دیناچاہتاہے۔اب اگراس عمل میں جرمنی داؤپرلگتاہے تولگ جائے۔فرانس نے مشرقی بحیرہ روم کی نشاندہی کرکے ایک ایسی مشترکہ یااتحادی فوج تیارکرنے کی ضرورت پرزوردیاہے،جوکسی بھی خرابی کوتیزی سے دورکرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
ترکی چونکہ نیٹوکارکن ہے،اس لیے فرانس اچھی طرح جانتاہے کہ وہ ترکی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے سکتااوریہ بھی کہ ترکی کوبین الاقوامی معاہدوں کے تحت خاصااستحکام حاصل ہے اوریہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ ترک فوج خاصی مضبوط اورمستعد ہے۔ ترکی کوعشروں سے جاری لڑائی میں پی کے کے جیسی دہشت گردتنظیم کے خلاف فتح یقینی بنانی ہے ۔ اس دہشت گردتنظیم کومغربی طاقتوں کی واضح حمایت ومددحاصل ہے۔
فرانسیسی قیادت نے بھی ماضی کوذہن سے کھرچ کرپھینکانہیں ہے۔اگست میں جب لبنان کی بندرگاہ پردھماکے ہوئے تھے تب فرانس نے آگے بڑھ کرمیڈیامیں خودکونجات دہندہ کے طورپرپیش کیا۔تب فرانس کی استعماری سوچ بے نقاب ہوئے بغیرنہ رہ سکی۔فرانس لبنان میں داخل ہوکراسرائیل کے سخت حریف بشارالاسدکو زیراثر لیناچاہتاہے تاکہ حزب اللہ ملیشیاء کوکنٹرول کرکے لبنان سمیت پورے خطے میں ایران کااثرونفوذکم کیاجاسکے۔ساتھ ہی ساتھ وہ خطے میں یورپی یونین کی فوج تعینات کرکے ترکی پربھی دباؤ بڑھانا چاہتاہے۔
اس سلسلے میں پہلاقدم طیارہ بردار جہاز چارلس ڈیگال کومشرقی بحیرہ روم میں تعینات کرکے یونان اوریونانی قبرص کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کااہتمام اوریونانی قبرص کے نزدیک فریگیٹس کی مستقل تعیناتی ہے۔فرانسیسی صدرمیکراں نے حال ہی میں اپنی ایک تقریرمیں کھل کرکہاکہ وہ اردگان کوالگ تھلگ کرناچاہتے ہیں۔یہ بات انتہائی لغواورفرانس کی برتری پسندذہنیت کی عکاس ہے۔
سب سے بڑھ کریہ کہ فرانس قبرص کے علاقے میں بھی دکھائی دینے کی کوشش کررہاہے جبکہ وہ قبرص کے معاملے میں ضامن کادرجہ رکھتاہے نہ اس کی سمندری سرحدقبرص سے ملتی ہے ۔امریکہ  کی طرح فرانس کابھی اس خطے کے معاملات سے کچھ لینادینانہیں۔یونان اوریونانی قبرص چونکہ یورپی یونین کے ارکان ہیں اس لیے صرف یورپی یونین اس خطے کے  معاملات درست کرنے کیلئے کچھ کرسکتی ہے۔میکران اورجرمن چانسلر اینگل ا مرکل کے درمیان پالیسی کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں،اس لیے یورپی یونین کیلئے فی الحال مشرقی بحیرہ روم کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی متعین کرنا ممکن نہیں۔فرانس اس معاملے میں اپنے مفادات کے تحت کوئی علاقائی پالیسی یقینی بنانے کی پوزیشن میں نہیں ۔ ہاں،فرانس کی امنگیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ ضرورہیں توپھرحل کیاہے؟
یہ حقیقت تواب واضح ہے کہ امریکہ ، اسرائیل، فرانس، یونان اوریونانی قبرص مل کرترکی کواس کے تمام حقوق سے دست بردار کرکے الگ تھلگ کرناچاہتے ہیں اورساتھ ہی ساتھ مشرقی بحیرہ روم کے قدرتی وسائل میں اس کے حصے کی بھی نفی کرنا چاہتے ہیں۔ترکی کے سامنے تین راستے ہیں۔
پہلا راستہ: ترکی کومصرکے ساتھ سمندری حدودکامعاہدہ کرلیناچاہیے۔اردگان کاکہناہے کہ مصری خفیہ ادارے نے بتایاہے کہ مصرکی قیادت ایسے کسی بھی معاہدے کیلئے تیارہے۔یہ معاہدہ دونوں ممالک کیلئے سودمندثابت ہوگا۔
دوسراراستہ:روس اورایران کی مددسے شام کے بحران کاجامع اورقابل قبول حل تلاش کیاجائے اوردمشق سے تعلقات معمول پر لائے جائیں۔
تیسراراستہ:روس،ترکی اورایران کوباہمی تعاون شام تک ہی نہیں بلکہ مشرقی بحیرہ روم تک بھی پھیلاناپڑے گا،بالخصوص توانائی اورسلامتی کے حوالے سے۔
اگرترکی نے معاملات کوڈھنگ سے نمٹانے کی کوشش نہ کی توعالمی برادری میں الگ تھلگ پڑجانے کاخدشہ بھی ہے،جیسا کہ 1915ء میں آرمینائی الزامات کے تحت ہواتھا۔یہ الزامات بھی مغرب کے گھڑے ہوئے تھے۔اگرترکی کامیاب ہوکرابھراتو مشرقی بحیرہ روم میں گریک کامیڈی کاخاتمہ ہوگااور گریک  ٹریجڈی کوراہ ملے گی۔

تازہ ترین خبریں

لانگ مارچ: دفعہ 144 نافذ، اسلام آباد جانے والے راستے بند،میٹرو رک گئی،سکولوں میں چھٹی

لانگ مارچ: دفعہ 144 نافذ، اسلام آباد جانے والے راستے بند،میٹرو رک گئی،سکولوں میں چھٹی

بڑے اسلامی ملک کاشام میں نئے فوجی آپریشن کااعلان،عالم اسلام میں ہلچل مچ گئی

بڑے اسلامی ملک کاشام میں نئے فوجی آپریشن کااعلان،عالم اسلام میں ہلچل مچ گئی

جسٹس (ر) ناصرہ اقبال کے گھر پر چھاپہ، معافی مانگتا ہوں، اقتدار کیا چھن گیا،وزیردفاع خواجہ آصف نے معافی مانگتے ہوئے بڑی بات کہہ دی

جسٹس (ر) ناصرہ اقبال کے گھر پر چھاپہ، معافی مانگتا ہوں، اقتدار کیا چھن گیا،وزیردفاع خواجہ آصف نے معافی مانگتے ہوئے بڑی بات کہہ دی

شاہ محمود قریشی کو ایک بار پھر فون آ گیا

شاہ محمود قریشی کو ایک بار پھر فون آ گیا

میری جان کو خطرہ ہے پھر بھی جہاد سمجھ کر نکل رہا ہوں، تحریک جاری رہے گی عوام سے کہتا ہوں کہ۔۔کپتان نے بڑااعلان کردیا

میری جان کو خطرہ ہے پھر بھی جہاد سمجھ کر نکل رہا ہوں، تحریک جاری رہے گی عوام سے کہتا ہوں کہ۔۔کپتان نے بڑااعلان کردیا

اسلام آباد پولیس نے ڈی چوک پہنچنے والے تحریک انصاف کے کتنے کارکنوں کوگرفتارکرلیا،شہراقتدار سے بڑی خبرآگئی

اسلام آباد پولیس نے ڈی چوک پہنچنے والے تحریک انصاف کے کتنے کارکنوں کوگرفتارکرلیا،شہراقتدار سے بڑی خبرآگئی

وزیرِاعظم کوبلوچستان کے جنگلات میں آگ پرقابوپانے کیلئے جاری آپریشن پربلوچستان حکومت کی جانب سےتفصیلی رپورٹ پیش کردی گئی

وزیرِاعظم کوبلوچستان کے جنگلات میں آگ پرقابوپانے کیلئے جاری آپریشن پربلوچستان حکومت کی جانب سےتفصیلی رپورٹ پیش کردی گئی

سونے کے خریداروں کیلئے بڑی خبر ، قیمت کو گیئر لگ گئے

سونے کے خریداروں کیلئے بڑی خبر ، قیمت کو گیئر لگ گئے

شہید کی توہین کسی صورت مناسب نہیں، پنجاب پولیس کا پرویزالٰہی کے بیان پر ردعمل

شہید کی توہین کسی صورت مناسب نہیں، پنجاب پولیس کا پرویزالٰہی کے بیان پر ردعمل

جڑواں شہروں کے باسیوں کےلیے بری خبر،میٹروسروس بندکردی گئی،بندش کتنے دن رہے گی ،بڑی خبرآگئی

جڑواں شہروں کے باسیوں کےلیے بری خبر،میٹروسروس بندکردی گئی،بندش کتنے دن رہے گی ،بڑی خبرآگئی

روپیہ مزیدگراوٹ کا شکار، ڈالرکی اونچی اڑان کا سلسلہ جاری،امریکی کرنسی کی قدر میں کتنااضافہ ہوگیا،پریشان کردینے والی خبرآگئی

روپیہ مزیدگراوٹ کا شکار، ڈالرکی اونچی اڑان کا سلسلہ جاری،امریکی کرنسی کی قدر میں کتنااضافہ ہوگیا،پریشان کردینے والی خبرآگئی

عطا اللہ تارڑ کو حکومت پنجاب کا ترجمان مقرر کرنے کا فیصلہ

عطا اللہ تارڑ کو حکومت پنجاب کا ترجمان مقرر کرنے کا فیصلہ

تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ۔۔۔ڈیزل 289 سے 400 ،پیٹرول کی قیمت کو 338 سے بڑھا کر 420 روپے کردیاگیا

تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ۔۔۔ڈیزل 289 سے 400 ،پیٹرول کی قیمت کو 338 سے بڑھا کر 420 روپے کردیاگیا

عدلیہ اورنیوٹرلز کاامتحان ہے کہ آپ نے چوروں کے ساتھ کھڑاہوناہے یا۔۔۔کپتان نے بڑااعلان کردیا

عدلیہ اورنیوٹرلز کاامتحان ہے کہ آپ نے چوروں کے ساتھ کھڑاہوناہے یا۔۔۔کپتان نے بڑااعلان کردیا