01:11 pm
 ثقافتی تبدیلیوں کے اچھے برے اثرات

 ثقافتی تبدیلیوں کے اچھے برے اثرات

01:11 pm

تاریخ انسانی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں تہذیبی اقدار اور سماجی روایات عام رہیں۔ معاشرے ان کے اثرو رسوخ سے متاثر ہوتے رہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ زندگی کے ہر دور میں کسی نہ کسی تہذیب و ثقافت کاعروج رہا۔ یونانی، ایرانی ،رومی، اسلامی اور مغربی تہذیبوں نے اپنے اپنے دور عروج میں عالم انسانیت کے ایک خاصے حصے کو متاثر کیا۔ ہر تہذیب اپنے مذہب و ثقافت کی روشنی میں خوبیوں اور خامیوں کے حوالے سے مخصوص خد و خال رکھتی ہے۔ بعض اوقات ایک نکتہ نظر سے کوئی چیز خوبی شمارہوتی ہے لیکن دوسرے اسے خامی گردانتے ہیں۔ اسی بنیاد پر کبھی کبھار تہذیبوں کا ٹکرا ئوبھی عمل میں آجاتا ہے۔ جس دور میں اسلامی تہذیب و ثقافت کا عروج تھا تو اس نے عالم انسانیت پر دور رس نتائج مرتب کیے۔ جہاں جہاں تک وہ روشنی پہنچی لوگوں نے دل وجان سے نہ صرف اسے قبول کیا بلکہ اپنی آبائی تہذیبوں کو خیر آباد کہہ کے اسے اختیار کیا۔ مصر، الجزائر، مراکش، الجیریا ، لیبیا، ٹونیشیا، موریطانیہ اورصومالیہ افریقی ممالک ہیں لیکن وہاں کے باسیوں نے اپنی آبائی زبانوں، روایات اور لباس کو چھوڑ کر اسلام کی زبان عربی کو اختیار کیا اور تہذیب اسلامی کے فرزند بن گئے۔ کئی حوادثات زمانہ وقوع پذیر ہوئے لیکن آج بھی وہاں عربی زبان اور اسلامی لباس کو اہمیت حاصل ہے۔ چند سال پہلے مجھے ویسٹ افریقہ جانے کا موقع ملا تو وہاں بھی دیکھا کہ سینیگال، گھنبیا اور نائجا میں پچانوے فیصد لوگ مسلمان ہیں۔ ابھی تک اپنی مقامی زبانوں کے علاوہ عربی سمجھتے اور بولتے ہیں۔ جمعہ کی تقاریر عربی میں ہوتی ہیں۔ سپین میں ایک عرصہ تک اسلامی تہذیب کے عروج کے بعد وہاں سے مسلمانوں کا دیس نکالا ہوئے بھی عرصہ دراز گزر گیا لیکن ابھی تک وہاں کے لباس اور رہن سہن سے اسلامی تہذیب کے نقوش ملتے ہیں۔
آج کا دور مغربی تہذید و ثقافت کے عروج کا دور ہے۔ ایک طویل جد و جہد اور علمی کاوشوں کے بعد اس تہذیب نے یہ مقام پایا۔ جہاں سے بھی اچھی روایات ملیں انہوں نے انہیں اپنایا۔ معاشرے میں علم کو عام کیا۔ وقت حالات اور ماحول کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے ممالک میں جدید علوم کی یونیورسٹیز کے جال پھیلا دیئے۔ ہر طرح کی ایجادات اور انکشافات کے ذریعے زندگی کو آسان بنا دیا۔ یہاں تک کہ سخت ترین گرم ممالک میں رہنے والے لوگ بھی فرج، فریزر اور ائر کنڈیشنڈ بنانے کا فن برف میں ڈھکے ان سرد ترین ممالک سے سیکھنے پر مجبور ہیں۔ اگر منصفانہ تجزیہ کیا جائے تواس حقیقت کو ماننا پڑتا ہے کہ اس تہذیب میں بے شمار خوبیاں ہیں۔ اپنے رویوں میں دیانتداری اورسچائی کو رواج دیا۔ ملاوٹ اور دھوکہ دہی سے باز رہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی منڈیوں میں ان کی بنائی ہوئی مصنوعات کو اعتماد اور برتری حاصل ہے۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو ہمارے ممالک میں ابھی تک صرف گھی اور انڈہ  ہی رہ گئے جو دیسی ہو تو پسند کیے جاتے ہیں، باقی ہر چیز جو دل سے پسند کی جاتی ہے وہ ولائتی ہی ہے۔ اگر بغور جائزہ لیا جائے تو وہ تمام خوبیاں جو اس تہذیب میں پائی جاتی ہیں آج سے پندرہ سو سال پہلے ہمارے پیارے نبیﷺ نے ہمیں ان کی تعلیم دے دی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ  سچائی نجات دینے والی اور جھوٹ ہلاک کرنے والا ہے لیکن ہمارے ہاں ارباب اقتدار سے لے کر ایک عام آدمی تک ہر ایک نے شاید یہ ذہن بنا لیا ہے کہ جھوٹ کی بیساکھی کے بغیر ہمیں زندگی میں کامیابی نہیں مل سکتی۔ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں بتا دیا تھا کہ  جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں لیکن ہمارے ہاں کیا کوئی چیز ہے جو ملاوٹ کے بغیر ہو۔ دودھ میں پانی اور غذائی اجناس میں نقصان دہ اشیا کی ملاوٹ سے بھی ہم باز نہ آئیں اور دعوی کریں حب رسولﷺ  کا۔ یہ قول و فعل کی تفاوت اور علم و عمل کا تضاد نہیں تواور کیا ہے؟
مغرب کے کلچر میں ٹریفک کا عمدہ نظام بھی ایک بڑی خوبی ہے جو یقینا ہمارے ممالک کیلئے قابل تقلید ہے۔ ڈرائیونگ ٹیسٹ اور ٹریفک کے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد اس لئے بھی بہت اہم ہے کہ اس میں انسانی جانوں کے تلف ہونے کا خطرہ ہو تا ہے۔پچھلے چند ہفتے مجھے پاکستان میں رہنے کا موقع ملا۔ ہمارے خیال کے مطابق وہاں کا ٹریفک کا نظام ایک بہت بڑی دہشت گردی ہے۔ جو ہر روز کئی جانیں نگل جاتی ہے۔ اس کے بھیانک نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ ہر روز کے حادثات میں بلا شبہ سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ لیکن ارباب اقتدار اور عوام الناس کی طرف سے اس پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جارہی۔ تہذیب مغرب کی ہر روایت ہمارے ارباب حل و عقد اور اصحاب ثروت یہاں سے اٹھا کے وہاں لے گئے۔ نیو ائیرنائٹ، ویلنٹائن ڈے، نیو برانڈ کی شراب اور رقص و سرود کی محافل مغرب سے بڑھ کر ہمارے ہاں ہیں۔ کیا ممکن نہ تھا کہ کوئی اچھی روایات بھی یہاں سے لے جاتے۔ ان میں سے ایک ٹریفک کا نظام ہے۔ لیکن لگتا یوں ہے کہ شاید  خاندانی منصوبہ بندی کے محکمہ کے تحت اسے بھی آبادی میں کمی کیلئے بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ الامان والحفیظ
جہاں تک تہذیبِ مغرب کی خامیوں کا تعلق ہے اس میں فحاشی و عریانی اور جنسی بے راہ روی صف اول میں آتی ہیں۔ خاندانی نظام کا تقدس مجروح ہو چکا ہے۔ رشتوں کا احترام آخری سانسیں لے رہا ہے۔ ہمارے مشاہدے اور دانست کے مطابق ان کی اس فکری بے اعتدالی کا سبب یہ ہے کہ اس حوالے سے ان کے پاس کوئی رول ماڈل نہیں۔ مذہباً عیسائی ہونے کی وجہ سے اہل مغرب کے ہاں دو شخصیات اہمیت کی حامل ہیں  حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام۔ ان دونوں ہستیوں کی زندگی کے احوال قرآن پاک میں بھی موجود ہیں۔ ان دونوں ہستیوں کا احترام ہمارے دین کا حصہ ہے۔ لیکن اس تاریخی حقیقت کو ماننا پڑتا ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کے بطن پاک سے معجزانہ طور پر بغیر باپ حضرت عیسی علیہ السلام پیدا ہوئے لیکن حضرت مریم علیہا السلام  نے زندگی بھر شادی نہیں کی۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی 33 سال کی عمر میں زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا گیا اور ان کی شادی بھی ثابت نہیں۔ اس طرح جب نکاح اور شادی کے حوالے سے انہیں کوئی رول ماڈل نظر نہیں آتا تو عقل و خرد کا سہارا لے کر جو جی میں آتا ہے کرتے ہیں۔ لیکن بحیثیت مسلمان ہم خوش قسمت ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی میں عفت و عصمت اورخوشگوار ازدواجی زندگی کی مکمل راہنمائی موجود ہے۔ اس کے باوجود اگر ہم بے راہ روی کو اپنائیں تو شومی قسمت کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے۔ بقول کسے
میں نے دیکھا ہے کہ فیشن  میں الجھ کر اکثر 
ہم  نے اسلاف کی عظمت  کے کفن  بیچ  دیے
نئی  تہذیب  کی  بے روح  بہاروں  کے عوض
 اپنی  تہذیب  کے   شاداب  چمن   بیچ  دیے

 

تازہ ترین خبریں

لانگ مارچ: دفعہ 144 نافذ، اسلام آباد جانے والے راستے بند،میٹرو رک گئی،سکولوں میں چھٹی

لانگ مارچ: دفعہ 144 نافذ، اسلام آباد جانے والے راستے بند،میٹرو رک گئی،سکولوں میں چھٹی

بڑے اسلامی ملک کاشام میں نئے فوجی آپریشن کااعلان،عالم اسلام میں ہلچل مچ گئی

بڑے اسلامی ملک کاشام میں نئے فوجی آپریشن کااعلان،عالم اسلام میں ہلچل مچ گئی

جسٹس (ر) ناصرہ اقبال کے گھر پر چھاپہ، معافی مانگتا ہوں، اقتدار کیا چھن گیا،وزیردفاع خواجہ آصف نے معافی مانگتے ہوئے بڑی بات کہہ دی

جسٹس (ر) ناصرہ اقبال کے گھر پر چھاپہ، معافی مانگتا ہوں، اقتدار کیا چھن گیا،وزیردفاع خواجہ آصف نے معافی مانگتے ہوئے بڑی بات کہہ دی

شاہ محمود قریشی کو ایک بار پھر فون آ گیا

شاہ محمود قریشی کو ایک بار پھر فون آ گیا

میری جان کو خطرہ ہے پھر بھی جہاد سمجھ کر نکل رہا ہوں، تحریک جاری رہے گی عوام سے کہتا ہوں کہ۔۔کپتان نے بڑااعلان کردیا

میری جان کو خطرہ ہے پھر بھی جہاد سمجھ کر نکل رہا ہوں، تحریک جاری رہے گی عوام سے کہتا ہوں کہ۔۔کپتان نے بڑااعلان کردیا

اسلام آباد پولیس نے ڈی چوک پہنچنے والے تحریک انصاف کے کتنے کارکنوں کوگرفتارکرلیا،شہراقتدار سے بڑی خبرآگئی

اسلام آباد پولیس نے ڈی چوک پہنچنے والے تحریک انصاف کے کتنے کارکنوں کوگرفتارکرلیا،شہراقتدار سے بڑی خبرآگئی

وزیرِاعظم کوبلوچستان کے جنگلات میں آگ پرقابوپانے کیلئے جاری آپریشن پربلوچستان حکومت کی جانب سےتفصیلی رپورٹ پیش کردی گئی

وزیرِاعظم کوبلوچستان کے جنگلات میں آگ پرقابوپانے کیلئے جاری آپریشن پربلوچستان حکومت کی جانب سےتفصیلی رپورٹ پیش کردی گئی

سونے کے خریداروں کیلئے بڑی خبر ، قیمت کو گیئر لگ گئے

سونے کے خریداروں کیلئے بڑی خبر ، قیمت کو گیئر لگ گئے

شہید کی توہین کسی صورت مناسب نہیں، پنجاب پولیس کا پرویزالٰہی کے بیان پر ردعمل

شہید کی توہین کسی صورت مناسب نہیں، پنجاب پولیس کا پرویزالٰہی کے بیان پر ردعمل

جڑواں شہروں کے باسیوں کےلیے بری خبر،میٹروسروس بندکردی گئی،بندش کتنے دن رہے گی ،بڑی خبرآگئی

جڑواں شہروں کے باسیوں کےلیے بری خبر،میٹروسروس بندکردی گئی،بندش کتنے دن رہے گی ،بڑی خبرآگئی

روپیہ مزیدگراوٹ کا شکار، ڈالرکی اونچی اڑان کا سلسلہ جاری،امریکی کرنسی کی قدر میں کتنااضافہ ہوگیا،پریشان کردینے والی خبرآگئی

روپیہ مزیدگراوٹ کا شکار، ڈالرکی اونچی اڑان کا سلسلہ جاری،امریکی کرنسی کی قدر میں کتنااضافہ ہوگیا،پریشان کردینے والی خبرآگئی

عطا اللہ تارڑ کو حکومت پنجاب کا ترجمان مقرر کرنے کا فیصلہ

عطا اللہ تارڑ کو حکومت پنجاب کا ترجمان مقرر کرنے کا فیصلہ

تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ۔۔۔ڈیزل 289 سے 400 ،پیٹرول کی قیمت کو 338 سے بڑھا کر 420 روپے کردیاگیا

تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ۔۔۔ڈیزل 289 سے 400 ،پیٹرول کی قیمت کو 338 سے بڑھا کر 420 روپے کردیاگیا

عدلیہ اورنیوٹرلز کاامتحان ہے کہ آپ نے چوروں کے ساتھ کھڑاہوناہے یا۔۔۔کپتان نے بڑااعلان کردیا

عدلیہ اورنیوٹرلز کاامتحان ہے کہ آپ نے چوروں کے ساتھ کھڑاہوناہے یا۔۔۔کپتان نے بڑااعلان کردیا