01:12 pm
غرور اور تکبر کے مارے ہوئے لوگ

غرور اور تکبر کے مارے ہوئے لوگ

01:12 pm

یاد رکھیئے کہ کسی بھی انسان کو تباہ کرنے کیلئے اس کے اندر پایا جانے والا غرور اور تکبر ہی کافی ہوتا ہے … جس شخص میں غرور اور تکبر کی بیماری موجود ہو، سمجھ لیجئے کہ اس سے بڑا مریض دنیا میں کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا، اپنے اندر تکبر پالنے والا شخص جتنے بڑے مرضی عہدے پر فائز  ہو جائے وہ ذہنی مریض ہی رہتا ہے … سورہ فرقان میں ارشاد خداوندی ہے کہ ’’رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی سے چلتے ہیں  ، ان میں تکبر نہیں ہوتا‘‘ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ زمین پر اکڑ کر نہیں چلنا… کیوں کہ عبادالرحمن کے اوصاف میں یہ صفت بھی شامل ہے کہ وہ زمین پر نرمی سے چلتے ہیں، تواضع اور انکساری اپناتے ہیں … اللہ کے بندے ہوں اور ان کے باوجود غرور اور تکبر سے بھرے ہوں یہ کیسے ممکن ہے؟ رحمان کے بندوں کے لئے تکبرنری موت ہے … قیامت قائم ہونے کے بعد متکبر کو جب اس کی قبر سے اٹھایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا چھوٹا بنا دے گا جتنا کہ بھورے رنگ کی چیونٹی ہوتی ہے … لیکن ان کی شکلیں انسانوں جیسی ہی ہوں گی۔
میںیہ  کر دوں گا، میں وہ کر دوں گا، کیا ہوتی ہے یہ ’’میں‘‘ ’’میں‘‘  جو انسان ’’میں‘‘ ’’میں‘‘ کے چکر میں آیا وہ پھر کہیں کا نہ رہا، پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں چھوٹا طاقتور ہو یا بڑا  طاقتور، ہر کوئی ’’میں‘‘ ’’میں‘‘ کے چکر میں ہے … سرمایہ دار ہو ، جاگیردار ہو یا کوئی چٹی دلال ’’میں‘‘ ’’میں‘ ‘ کو اس نے اپنے اوپر طاری کررکھا ہے، حتیٰ کہ ’’میں‘‘ ’’میں‘‘ کی یہ بیماری اب تو مولویوں اور مذہبی تنظیموں کے لیڈروں میں بھی پیدا ہوتی جارہی ہے … اپنے آپ کو درست ، دوسرے کو غلط، اپنے لیڈر کو حق پر اور مخالف لیڈر کو باطل پرست قرار دینا …یہ مذہبی اور سیاسی کارکنوں کا مزا ج بن چکا ہے … بلکہ اب معاملات یہاں تک آن پہنچے ہیں  کہ اگر ناموس رسالتؐ سے اظہار یکجہتی کرنا ہو یا یوم تحفظ ختم نبوتؐ منانا ہو تو کہنے والے کہتے ہیں کہ ہم فلاں لیڈر، فلاں قائد کے حکم پر یہ دن منارہے ہیں … باوجود اس کے تحفظ ختم نبوتؐ ہر مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے … ناموس رسالتؐ کا دفاع کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ، انسان کے برا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ کسی مسلمان کو حقیر سمجھنا شروع کر دے … آج پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی ، ن لیگ، اے این پی کے کارکنوں کو کوئی کیا کہے وہ توہیں ہی لبرل اور سیکولر … یہاں تو اپنے آپ کو مذہب اور مذہبی جماعتوں کی طرف منسوب کرنے والے ، سوشل میڈیا پر محض سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قائدین کی پگڑیاں اچھالتے ہیں … ایک دوسرے کی مائوں، بہنوں پر رکیک حملے کرتے ہوئے نہیں شرماتے … ان میں سے بعض وہ ہیں کہ جو نمازیں بھی پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہوں گے … نیکی کے دیگر کاموں میں بھی پیش پیش ہوں گے لیکن اپنے اپنے لیڈروں کی محبتوں میں وہ اس حد تک فنا ہوچکے ہیں کہ انہیں اپنے اپنے قائدین کے موقف کے مخالفین کا نہ اسلام قبول ہے … نہ دینی  خدمات قبول ہیں اور نہ ان کی مائوں، بہنوں کی عزت قبول ہے … اس سب کے باوجود نہ ہمارے اندر غرور ہے اور نہ تکبر، اس سب کے باوجود ہم اور وہ سارے صراط مستقیم پر بھی ہیں ، ’’آہ‘‘
خدایا تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ  درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اپنے ساتھیوں سے فرمایا کرتے تھے … اللہ کی قسم! کبھی بھی میں کسی چیز کے لئے اتنا شرمندہ نہیں ہوتا جتنا میں اس دن سے ہوتا ہوں ، جس دن سورج غروب ہوگیا ہو اور اس دن میرے اعمال گزشتہ کل سے کم ہوں … ہم بحیثیت قوم تنزلی کے جس راستے پر گامزن ہیں … وہ  ہمیں برباد کرکے رکھ دے گا، جس عوام کی صورت حال یہ ہو… اس کا حکمران پھر عمران خان جیسا ہی ہونا چاہیے کہ جو ’’نہیں چھوڑوں گا‘‘ جیلوں میں ڈال دوں گا، چور، چور، ڈاکو ، ڈاکو کی تسبیح پڑھتا رہے … یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہو ا ہے … غرور اور تکبر نے ایوانوں سے لے کر انسانوں تک کو اپنے حصار میں جکڑ رکھا ہے … ہمارے معاشرے میں عاجزی اور انکساری سے پیش آنے والوں کو کمزور اور مسکین سمجھا جاتا ہے … یہاں تاویلیں گھڑنے والوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور دلیلیں دینے والے کو بے عزت کیا جاتا ہے، یہاں انسان کی عزت، اس کا علم، حلم، بردباری اور تقویٰ دیکھ کر نہیں کی جاتی ، بلکہ شریر کے شر ، بدمعاش کی بدمعاشی، غنڈے کی غنڈہ گردی سے بچنے کے لئے اس کی عزت کی جاتی ہے ، یہاں نان ایشوز کو ایشو بناکر پیش کیا جاتا ہے، یہاں ہر کسی کا اپنا اپنا ’’حق  ‘‘ اور اپنا اپنا ’’سچ‘‘ ہے … جہاں جہاں ، جس جس کا ، جتنا جتنا مفاد ہوتا ہے وہ اتنا اتنا حق اور سچ بیان کرکے جنت کا حق دار بننے کی کوشش کرتا ہے۔
ہمارے د انشور یہ تو کہتے ہیں کہ یہاں دودھ  میں پانی یا کیمیکل ملایا جاتاہے، ہلدی ہو ، مرچیں ہوں، نمک ہو،  دلیا  ہو ، بیسن ہو، چینی ہو، دالیں ہوں، چاول ہوں … پتی ہو، گرم مصالحہ ہو ، غرضیکہ ہر چیز میں ملاوٹ کی جاتی ہے … یہ سب بتا کر وہ قوم کو گالیاں بکتے ہیں … حالانکہ قوم سے بڑھ کر وہ دانشور ، میڈیا، حکمران اور لیڈران مجرم ہیں کہ جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ قوم کی تربیت آئین میں موجود طریقے کے مطابق کرتے ، ’’آئین‘‘ نہ صرف دین اسلام کو تحفظ فراہم کرتاہے بلکہ اسلامی احکامات کے مطابق قوم کی تربیت پر بھی زور دیتا ہے … یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے پاکستان کو مضبوط بنانے اور یہاں کے عوام کو اک صاف ستھری قوم بنانے کیلئے ضروری ہے کہ  ملک کو نفاذ اسلام کی دولت سے مالا مال کر دیا جائے۔ (وما توفیقی الا باللہ)

 

تازہ ترین خبریں