01:24 pm
 ایرانی وزیرخارجہ کادورہ پاکستان

 ایرانی وزیرخارجہ کادورہ پاکستان

01:24 pm

گزشتہ دنوں ایران کے وزیرخارجہ ظریف جواد 2روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے۔ یہ ان کا پاکستان کیلئے چوتھا دورہ تھا‘ اس دورے میں انہوں نے ایک بار پھر ایرانی حکومت کا کشمیر کے مسئلے پر موقف دوہرایا کہ   ایران مقبوصہ کشمیر میں کشمیریوں کی حق خود ارادیت کوتسلیم کرتاہے۔ واضح رہے کہ ایرانی حکومت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامہ نائی نے بہت عرصے قبل اپنی تقریر میں کشمیریوں کی کھل کر جدوجہد آزادی کی حمایت کی تھی۔ ایرانی وزیرخارجہ نے اپنے دو روزہ قیام کے دوران وزیراعظم عمران خان کے علاوہ آرمی چیف اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقاتیں کرکے علاقائی صورتحال کے علاوہ دونوں ملکوں کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پرزور دیا ہے۔ نیز دوطرفہ تجارت کو بھی فروغ دینے پر خاصا زور دیا گیاہے اور یہ بھی طے پایاہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان ایک وزراتی کمیشن کاقیام وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اس موقف سے اتفاق ہے۔ دوسری طرف پاکستان روز اول سے ایران کے ساتھ سرحدی تجارت بڑھانے کے سلسلے میں اقدامات کرتا رہتا ہے۔ پاکستان نے تفتان کے راستے تجارت کے سلسلے میں ایران کو مزید سہولتیں فراہم کی ہیں جس کی وجہ سے ان دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم میںخاصا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی طے پایاہے کہ مزید سرحدی راستوں کو تجارت کیلئے کھولا جائے تاکہ سرحدی تجارت اور باہمی میل جول میں اضافہ ہوسکے ان میں رمضان گوبد اور پشین مند کے سرحدی علاقے بھی شامل ہیں۔
 تجارت کے فروغ کے علاوہ ایران کے وزیرخارجہ نے ایک بار پھر ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی ہے یہ ایک مناسب اور قابل عمل تجویز ہے۔ ایران نے اپنی طرف کی پائپ لائن  پہلے ہی تعمیر کرلی ہے ‘ جبکہ پاکستان کو اس سلسلے میں ابھی آغاز کرناہے‘ پاکستا ن نے ماضی میں اس پائپ لائن پر امریکی دبائو کی وجہ سے توجہ نہیں دی تھی‘ لیکن اب امریکی انتخابات کے بعد خصوصیت کے ساتھ جوبائیڈن کے الیکشن میں نمایاں کامیابی کے بعد یہ ممکن ہے کہ پاکستان اس طرفہ توجہ دے کر اپنی طرف کی پائپ لائن تعمیر کرنے کا آغازکرسکتاہے ۔ اگر ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا منصوبہ جلد مکمل ہوجاتاہے تو پاکستان کو انرجی کے شعبے میں اس کی وجہ سے خاصی سہولت میسر آسکے گی۔
ایک اور مسئلہ جوپاکستان اور ایران کے درمیان ‘ اکثر تنازعہ کا باعث بنتاہے ‘ وہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان نو سو کلومیٹر کی طویل سرحد ہے۔ جو پہاڑوں سے گزرتی ہے۔ اس راستے اسمگلر اور دہشت گرد ان دونوں ملکوں کے خلاف تخریبی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ ایرانی وزیرخارجہ کے ساتھ اس مسئلہ   پربھی تبادلہ خیال کیا گیا اور یہ تجویز زیر غور آئی کہ ان دہشت گردوں اور اسمگلروں کو روکنے کیلئے دونوں ملکوں کی جوائنٹ سرحدی فورس کی تشکیل وقت کی ضرورت ہے تاکہ تخریبی عناصر کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔ مزید برآں پاکستان اور ایران کے درمیان دفاعی تعلقات کے فروغ پر بھی زوردیا گیا‘ ایران اپنی دفاعی ضروریات کے لئے پاکستان کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتاہے‘ تاہم اب ایران بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو پس پشت ڈالتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سیاسی ودفاعی تعلقات کو مستحکم کرناچاہتاہے۔ ماضی میں پاکستان کوایران سے شکایت تھی بلکہ صحیح شکایت تھی کہ بھارت کا جاسوس کل بھوشن (مبارک حسین) نے وہاں سے بیٹھ کر بلوچستان اور کراچی میں خوفناک دہشت گردی کاارتکاب کیا تھا‘ جس میں سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔ ہرچند کہ یہ جاسوس پکڑاگیا ہے‘ جوکہ اس وقت پاکستان کی تحویل میں ہے‘ اس کو موت کی سزا کابھی اعلان ہوچکاہے‘ ایران کواس بھارتی جاسوس کی پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی وجہ سے خاصی ندامت اور شرمندگی اٹھانی پڑی تھی‘ جس کا ازالہ ایران نے اس سلسلے میں مذمتی بیان دے کر کیاتھا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے علاوہ آرمی چیف نے بھی ایران کا دورہ کرکے ان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کومزید مستحکم کیا ہے۔ 
پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات سعودی عرب کو پسند نہیں ہیں۔ حالانکہ پاکستان نے ایک سے زائد مرتبہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کے سلسلے میں ثالثی کاکردار اداکرنے کی خواہش ظاہر کی تھی جس کا سعودی عرب کی جانب سے کوئی موثر جواب نہیں ملا۔ اس کے برعکس ایران سعودی عرب سے تعلقات بہتر کرنے چاہتاہے۔ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کا انحصار زیادہ تر امریکہ پر ہے‘ جس کے ساتھ اس کے دفاعی اور سیکورٹی معاہدے موجود ہیں۔ مزید برآں سعودی عرب کو ایران کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے اثرات پر بھی تشویش ہے۔ خصوصیت کے ساتھ یمن میں جاری لڑائی میں ایران کے رول کو سعودی حکومت پسندیدگی سے نہیں دیکھتی ہے‘ سعودی عرب کا ایران پر الزام ہے کہ حوثیوں کو جو اسلحہ مل رہاہے وہ ایران کے توسط سے مل رہاہے۔ حالانکہ یمن کے اطراف میں امریکہ اور گلف کی فوجوں کی موجودگی اور ناکہ بندی کے باعث حوثیوں کواسلحہ پہچانا تقریباً ناممکن ہے۔ بہرحال ایران پاکستان کا پڑوسی ملک ہے۔ ایران وہ واحد ملک ہے جس نے 1947ء میں پاکستان کے قیام کو سب سے پہلے تسلیم کیاتھا۔ ماضی میں بھارت کے ساتھ جنگوں میں ایران نے ہرلحاظ سے پاکستان کی مدد کی تھی‘ نیز پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو تشکیل دینے کے سلسلے میں بالکل آزاد ہے‘ اس کو سب سے پہلے اپنے قومی مفادات کاخیال رکھنا اشد ضروری ہے۔ جس طرح سعودی عرب اپنے مفادات کی روشنی میں اپنی خارجہ پالیسی کے خدوخال تشکیل دیتاہے‘ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ بھی انتہائی خوشگوار تعلقات ہیں‘ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سعودی عرب پاکستان پر دبائو ڈالے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات پر نظرثانی کرے لیکن پاکستان کیلئے یہ ممکن نہیں ہے۔ دنیا کے  بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر پاکستان اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرناچاہتاہے جس میں افغانستان بھی شامل ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری فی الوقت لاناناممکن ہے۔ کیونکہ بھارت ایک غاصب ملک ہے‘ جس نے اپنی فوجی طاقت کے ذریعے مقبوضہ کشمیر پر دوبارہ ناجائز قبضہ کرلیاہے۔ پاکستان کو یہ منظور نہیں ہے۔ بلکہ دنیا کے تمام امن پسند ملکوں کو بھارت کا یہ غاصبانہ اقدام منظور نہیں ہے۔ ذرا سوچیئے۔




 

تازہ ترین خبریں

ن لیگ عبوری سیٹ اپ کا حصہ بنے گی یا نہیں؟ سینئر لیگی رہنما نے واضح اعلان کر دیا

ن لیگ عبوری سیٹ اپ کا حصہ بنے گی یا نہیں؟ سینئر لیگی رہنما نے واضح اعلان کر دیا

زلفی بخاری مزید2اہم عہدو ں سے مستعفی ہو گئے

زلفی بخاری مزید2اہم عہدو ں سے مستعفی ہو گئے

سردی کی شدت میں اضافہ ، محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں اور برفباری کی پیشنگوئی کر دی

سردی کی شدت میں اضافہ ، محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں اور برفباری کی پیشنگوئی کر دی

ہفتے میں کتنے روز کلاسز ہوں گی؟ این سی او سی اجلاس میں تجویز پیش کر دی گئی

ہفتے میں کتنے روز کلاسز ہوں گی؟ این سی او سی اجلاس میں تجویز پیش کر دی گئی

عوام کیلئے بڑا ریلیف ۔۔بجلی کے بلوں میں بڑی کمی کا امکان، خوشخبری سنا دی گئی

عوام کیلئے بڑا ریلیف ۔۔بجلی کے بلوں میں بڑی کمی کا امکان، خوشخبری سنا دی گئی

مجھے یا میرے خاندان کو کچھ بھی ہوا تو ذمہ دار وزیراعظم عمران خان ہوں گے، وقار ذکا نے سنگین الزامات کی بوچھاڑ کر دی

مجھے یا میرے خاندان کو کچھ بھی ہوا تو ذمہ دار وزیراعظم عمران خان ہوں گے، وقار ذکا نے سنگین الزامات کی بوچھاڑ کر دی

طاقتور حلقوں نے فیصلہ کر لیا۔۔ حکومت کتنے ہفتوں کی مہمان ہے؟ حکومتی صفوں میںکھلبلی مچ گئی

طاقتور حلقوں نے فیصلہ کر لیا۔۔ حکومت کتنے ہفتوں کی مہمان ہے؟ حکومتی صفوں میںکھلبلی مچ گئی

پریتی زنٹا اور عامر خان کی خفیہ شادی ، خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی ، اداکارہ نے پہلی بار خاموشی توڑ دی

پریتی زنٹا اور عامر خان کی خفیہ شادی ، خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی ، اداکارہ نے پہلی بار خاموشی توڑ دی

فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کیلئے بڑا جھٹکا، الیکشن کمیشن نےاہم فیصلہ سنا دیا ، صورتحال پریشان کن ہو گئی

فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کیلئے بڑا جھٹکا، الیکشن کمیشن نےاہم فیصلہ سنا دیا ، صورتحال پریشان کن ہو گئی

خام تیل کی قیمتیں سات سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، پیٹرول بھی مزید مہنگا ہونے کا امکان

خام تیل کی قیمتیں سات سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، پیٹرول بھی مزید مہنگا ہونے کا امکان

ریلوے ٹریک پر دھماکہ، مسافر ٹرین خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی،انجن اور بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، زخمیوں اور ہلاکتوں سے متعلق تفصیلات آگئیں

ریلوے ٹریک پر دھماکہ، مسافر ٹرین خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی،انجن اور بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، زخمیوں اور ہلاکتوں سے متعلق تفصیلات آگئیں

چوہدری نثار کی ن لیگ میں واپسی سے متعلق دھماکے دار خبر۔۔ سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی

چوہدری نثار کی ن لیگ میں واپسی سے متعلق دھماکے دار خبر۔۔ سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی

آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع۔۔؟ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کھل کر مخالفت کر دی

آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع۔۔؟ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کھل کر مخالفت کر دی

کورونا وائرس کم عمر بچوں کیلئے مہلک ہو گیا،آئندہ دو سے تین ہفتے خطرناک قرار۔۔والدین کیلئے پریشان کن خبر آگئی

کورونا وائرس کم عمر بچوں کیلئے مہلک ہو گیا،آئندہ دو سے تین ہفتے خطرناک قرار۔۔والدین کیلئے پریشان کن خبر آگئی