01:25 pm
مشرقی بحیرہ روم۔۔۔۔۔۔نیامیدان جنگ 

مشرقی بحیرہ روم۔۔۔۔۔۔نیامیدان جنگ 

01:25 pm

 بحیرہ روم کامحلِ وقوع بھی خوب ہے۔یہ ایشیا، یورپ اورافریقہ کاسنگم ہے۔ان میں سے ہر براعظم بحیرہ روم سے اس طورجڑاہواہے کہ اس سے ہٹ کراہمیت گھٹ سی جاتی ہے۔ قدیم زمانوں ہی سے یہ سمندردنیاکی بڑی طاقتوں کے درمیان زورآزمائی کامرکزرہا ہے۔طاقت میں اضافے کیلئے بڑی ریاستیں اس خطے کواپنے حق میں بروئے کارلاتی رہی ہیں ۔ غیرمعمولی اہمیت کے حامل محلِ وقوع نے بحیرہ روم کوایشیاء اوریورپ کے متعدد ممالک کیلئے سیاسی اور جغرافیائی اعتبارسے انتہائی اہم بنادیاہے اوراس حوالے سے خانہ جنگی اوراغیار کی بپاکی ہوئی تباہی کے باوجودلیبیااب بھی ایک اہم ریاست ہے۔سردجنگ کے شروع ہوتے ہی امریکہ نے ٹرومین ڈاکٹرائن کے تحت یونان اورترکی کوغیرمعمولی تناسب سے امداددینا شروع کی۔ اس کابنیادی مقصد بحیرہ روم کے خطے میں امریکی مفادات کوزیادہ سے زیادہ تقویت بہم پہنچانا تھا،ساتھ ہی ساتھ امریکہ یہ بھی چاہتاتھا کہ سردجنگ میں کمیونسٹ بلاک کے مقابل یونان اورترکی ہر اعتبار سے امریکی اتحادی کی حیثیت سے ابھریں۔

سردجنگ کے دورمیں بحیرہ روم سیاسی اور سفارتی سطح پرغیرمعمولی اہمیت کاحامل ہونے کے ساتھ ساتھ امریکہ وسابق سوویت یونین کے پہلوبہ پہلویونان اورترکی کیلئے بھی غیرمعمولی اسٹریٹجک اہمیت کاحامل تھا۔یونان اورترکی معاہدہ نیٹوکے اہم ارکان کی حیثیت بھی ایسے نہ تھے کہ نظراندازکردئیے جاتے۔دوسری طرف اسی دورمیں شام اورمصرکا سابق سوویت یونین کے اتحادیوں کی حیثیت سے ابھرنااورشام کی بندرگاہ طرطوس کے علاوہ مصرکے علاقے سیدی برانی میں فوجی اڈوں کاقیام بھی اسی تناظر میں دیکھاجانا چاہیے۔سابق سوویت یونین نے1972ء تک سیدی برانی کے فوجی اڈے کونیٹوکی سرگرمیوں پرکڑی نظررکھنے کیلئے استعمال کیا۔ سرد جنگ کے خاتمے اورسوویت یونین کے تحلیل ہوجانے کے بعدیہ خطہ امر یکہ اور یورپ کیلئے زیادہ اہم نہ رہا۔وہ ان اتحادیوں پر مزیدکچھ خرچ کرنے کیلئے تیارنہ تھے۔
سردجنگ کے دورمیں مخصوص سیاسی حالات نے امریکہ کومشرقِ وسطی اورافغانستان پرتوجہ مرکوزکرنے پرمجبورکیا۔امریکہ کیلئے ایک بڑامسئلہ چین بھی تھاجو تیزی سے ابھررہاتھا۔بحیرہ روم کونظرا ندازکرنے کی پالیسی نے معاملات کی نوعیت بدل دی۔ خاص طورپرچین کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ پھریوں ہواکہ تیل اورگیس کے نئے ذخائر دریافت ہوئے اورخطے نے دوبارہ اہمیت حاصل کرلی۔اب قدرتی وسائل پرزیادہ سے زیادہ کنٹرول کیلئے امریکہ،یورپ،روس اور علاقائی طاقتیں میدان میں ہیں۔
یہ بات تو اب بالکل واضح ہے کہ گیس کے ذخائر کی دریافت نے خطے کے ممالک کو زیادہ سرمایہ کاری کی تحریک دی ہے تاکہ سیاسی طورپربھی پوزیشن غیرمعمولی حد تک مستحکم رکھنا ناممکن نہ ہو۔یہ سرمایہ کاری اس لیے بھی ناگزیرتھی کہ ایساکرنے ہی سے ایک طرف توخطے کے ممالک کواپنی اندرونی ضرورت پوری کرنے میں مددملتی تھی اوردوسری طرف وہ عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہ ہوسکیں۔کسی بھی ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی ضرورت ہی اس امرکاتعین کرتی ہے کہ سب سے زیادہ گیس کون فراہم کرے گا۔آج بہت سے ممالک توانائی کیلئے صرف گیس پرانحصارکرتے ہیں۔ایسے میں طاقت بڑھانے والے عوامل میں تیل سے کہیں بڑھ کرگیس ہے۔اس کے نتیجے میں اب سیاسی حقائق بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔توانائی کے معاملے میں کسی ایک ذریعے پرانحصارمتعلقہ ممالک کیلئے اسٹریٹجک حقائق بھی تبدیل کردیتے ہیں۔لیبیااس کی ایک واضح مثال ہے جہاں معاملات اب نظم و نسق قائم کرنے والے نظام کے ہاتھ سے باہرنکل چکے ہیں۔
تکنیکی ماہرین بتاچکے ہیں کہ بحیرہ کے خطے میں گیس کے غیرمعمولی ذخائرموجودہیں۔گیس کے ذخائرپرزیادہ سے زیادہ کنٹرول پانے کی خواہش نے ایک بارپھربحیرہ روم کو اکھاڑے کی سی شکل دے دی ہے۔تمام بڑی طاقتیں بحیرہ روم پرزیادہ سے زیادہ متوجہ رہنے کی پالیسی پرکاربند ہیں۔مسابقت بڑھتی ہی جارہی ہے۔دی یوایس جیولوجیکل کے ایک سروے کے مطابق لبنان سے قبرص اورمصرتک کے چند ایک علاقوں میں گیس کے340کھرب مکعب فٹ کے ذخائرکی موجودگی نے اختلافات اور تنازعات کوہوادی ہے۔کئی ممالک گیس کے ذخائر سے مالامال علاقوں پراپناحق جتانے کھڑے ہوگئے ہیں۔تنازعات شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ایسے معاملات کوبڑے پیمانے کے مسلح تصادم تک پہنچنے سے روکناتمام معاملات میں ممکن نہیں ہوتا۔
یونان نے بڑے پیمانے پرتیل اورگیس محض تلاش ہی نہیں کیابلکہ نکالنے کاعمل بھی شروع کردیاہے۔ترکی اورقبرص کے ترک نظم ونسق والے علاقے کی سمندری حدودبھی بحیرہ روم کے خاصے وسیع علاقے تک ہیں مگرجب وہ تیل اورگیس نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تویونان اوراس کے زیرانتظام قبرص کاعلاقہ معترض ہوتاہے۔اس کے نتیجے میں تنازع شدت اختیارکرتاجارہا ہے۔قبرص مشترکہ طورپرترکی اوریونان کے زیرانتظام ہے اوردونوں کی مشترکہ ملکیت کادرجہ رکھتاہے۔بحیرہ روم میں قبرص کی سمندری حدودمیں جتنے بھی قدرتی وسائل ہیں ان پرترکی اوریونان کابرابری کادعویٰ ہے۔
ترکی چاہتاہے کہ قبرص کے زیرانتظام حصے میں تیل اورگیس تلاش کرے اورنکالے مگریونان معترض ہے کہ وہ ایک چھوٹے جزیرے کی ملکیت کے تنازع کے باعث اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ایک بارپھر غیرمعمولی سطح پرشدت اختیارکرگئے ہیں۔ مشرقی بحیرہ روم میں ماحول گرم ترہوتاجارہا ہے۔ترکی اوریونان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی علاقے کے دیگرممالک کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔یہ تنازع اگرشدت اختیار کر گیا تواس کے شدیدمنفی اثرات پورے خطے پرمرتب ہوں گے۔
ٹرکش نیشنل آئل کمپنی کاکہناہے کہ جدیدترکی کے قیام کی سوویں سالگرہ (2023)تک وہ تیل اورگیس کی طلب ملکی وسائل ہی سے پوری کرنے کی منزل تک پہنچنے کی تیاری کررہی ہے ۔ترک وزارتِ توانائی نے بھی کہہ دیاہے کہ تیل اورگیس کی طلب اندرونی ذرائع سے پوری کرنے کے معاملے میں پورے خطے میں اولین مقام تک پہنچناچاہتی ہے۔اب بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوگااوراس کے نتیجے میں خطے میں سلامتی کی صورتِ حال کیارخ اختیارکرے گی۔               (جاری ہے)

 

تازہ ترین خبریں

ہمارا یہ کام کردو، پھر تم جانو اور عمران خان،اسٹیبلشمنٹ  نے اپوزیشن کو بڑی پیشکش کردی، تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا

ہمارا یہ کام کردو، پھر تم جانو اور عمران خان،اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن کو بڑی پیشکش کردی، تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا

چیئرمین چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا سے عراقی وزیر دفاع کی ملاقات

چیئرمین چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا سے عراقی وزیر دفاع کی ملاقات

سرکاری ونجی سکولوں پرنئی پابندی لگ گئی

سرکاری ونجی سکولوں پرنئی پابندی لگ گئی

سینیٹ امیدواروں کا بلامقابلہ انتخاب  کیسے ممکن ہوا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

سینیٹ امیدواروں کا بلامقابلہ انتخاب کیسے ممکن ہوا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی ،حکومت نے عوام کو ناقابل یقین خوشخبری سنا دی

دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی ،حکومت نے عوام کو ناقابل یقین خوشخبری سنا دی

پی ٹی آئی رہنما نے ساتھیوں سمیت پارٹی چھوڑنے کا اشارہ دے دیا

پی ٹی آئی رہنما نے ساتھیوں سمیت پارٹی چھوڑنے کا اشارہ دے دیا

اب کوئی غریب بے گھر نہیں ہوگا۔۔غریب عوام کوچھوٹے گھر کتنے لاکھ میں دیں گے

اب کوئی غریب بے گھر نہیں ہوگا۔۔غریب عوام کوچھوٹے گھر کتنے لاکھ میں دیں گے

میں تمہاری تنظیم سازی کروں گی، فردوس  عاشق اعوان اور طلال چوہدری میں تلخ کلامی

میں تمہاری تنظیم سازی کروں گی، فردوس عاشق اعوان اور طلال چوہدری میں تلخ کلامی

آگیا تو پھر جوان ہو کر ۔۔۔ اسکول کھلنے کے اعلان کے بعد بچے شفقت محمود سے ناراض

آگیا تو پھر جوان ہو کر ۔۔۔ اسکول کھلنے کے اعلان کے بعد بچے شفقت محمود سے ناراض

قطر سے ایل این جی کا نیا معاہدہ کیا ہے جس سے ہر سال 30 کروڑ ڈالر کی بچت ہوگی، عمران خان

قطر سے ایل این جی کا نیا معاہدہ کیا ہے جس سے ہر سال 30 کروڑ ڈالر کی بچت ہوگی، عمران خان

نظریاتی کارکن پی ٹی آئی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں،اسد عمر

نظریاتی کارکن پی ٹی آئی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں،اسد عمر

مشکلات ختم ہونے کا وقت قریب ،پاکستان کے زرمبادلہ ذخائرمیں ریکارڈ اضافہ

مشکلات ختم ہونے کا وقت قریب ،پاکستان کے زرمبادلہ ذخائرمیں ریکارڈ اضافہ

جنوبی وزیرستان:سکیورٹی فورسز کیساتھ جھڑپ میں کالعدم ٹی ٹی پی کا کمانڈر ہلاک

جنوبی وزیرستان:سکیورٹی فورسز کیساتھ جھڑپ میں کالعدم ٹی ٹی پی کا کمانڈر ہلاک

‘اپوزیشن کووہی  فیصلے قبول ہیں جو۔۔۔وزیراطلاعات نےحیران کن بات کہہ دی

‘اپوزیشن کووہی فیصلے قبول ہیں جو۔۔۔وزیراطلاعات نےحیران کن بات کہہ دی