02:17 pm
سیاسی  استحکام  اور قومی یکجہتی

سیاسی  استحکام  اور قومی یکجہتی

02:17 pm

 گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کئی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔ اول، حکومتِ پاکستان نے عشروں سے نظرانداز ہونے والے اس اہم علاقے کی پسماندگی دور کرنے کے لیے گلگت بلتستان کو پانچویں صوبے کا درجہ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاریخی اعتبار سے ریاست کشمیر کا حصہ ہونے کی وجہ سے مستقبل میں ہونے والے استصواب رائے میں گلگت بلتستان کے عوام بھی رائے کا اظہار کریں گے لہٰذا اس خطے کو صوبے کا عبوری درجہ دیا جائے گا تاکہ حق رائے دہی کے استعمال میں کوئی قانونی پیچیدگی نہ پیدا ہو۔ دوم، بھارت کی شدت پسند حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں کشمیر کا بطور ریاست خصوصی آئینی تشخص ختم کرنے کے بعد پاکستان کی جا نب سے گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کا درجہ دینے کا اقدام ریاستی رد عمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ دراصل یہ اقدام خطے کی پسماندگی دور کرنے کی جانب ایک بھرپور پیش رفت ہے۔ سوئم ، بھارت کی حکومت اور بکائو میڈیا گلگت بلتستان کے الیکشن پر سیخ پا ہورہے ہیں ۔ بھارتی سرکاری ذرائع نے اٹوٹ انگ کا پرانا راگ الاپ کر پاکستان کی جانب سے منعقد کروائے گئے انتخابات کی قانونی حیثیت پر اعتراض کرتے ہوئے یہ درفنطنی بھی چھوڑی کہ پاکستان ان علاقوں میں انتخابات کروانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ ملک سے باہر بیٹھے مٹھی بھر نام نہاد کشمیری اور بلتستانی دانشوروں کو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کے لیے بھارتی بدنام زمانہ ایجنسی نے نئی چابی بھر دی ہے۔ 
گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران بھارتی میڈیا پر ایسے جعلی دانشوروں کی بھرمار رہی ہے جو ہر قیمت پر پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان میں الیکشن سمیت دیگر سیاسی اقدامات کو سازش قرار دے کر کشمیریوں کے حقوق کا واویلا مچا رہے ہیں۔ ان عناصر کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالی جیسے جعلی الزامات کا ہدف بنا کر عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک حریت سے ہٹائی جائے۔ چہارم، پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی ، نون لیگ اور پی پی پی بھی بھرپور انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے انتخابی اکھاڑے میں کود پڑیں۔ انتخابی مہم میں سب سے زیادہ مشقت اور تحرک پی پی پی کے چیئر مین نے دکھایا۔ نون لیگ کی مرکزی قیادت کی عدم موجودگی کی بنا پر بڑے میاں صاحب کی صاحبزادی بساط بھر انتخابی مہم کی قیادت کرتی رہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے وزراء میدان میں سرگرم رہے۔ ان بڑی جماعتوں کی سیاسی کشمکش نے ایک جانب جلسوں میں عوامی شرکت میں خاطر خواہ اضافہ کیا تو دوسری جانب ماحول میں تلخی بھی بڑھا دی۔ بالآخر سیاسی کشیدگی کا زہر ان جماعتوں کے غیر ذمہ دارانہ روئیے کی بدولت گلگت بلتستان بھی پہنچ گیا۔ حسب روایت مرکز میں حکومت کرنے والی جماعت ہی گلگت بلتستان میں اکثریتی جماعت تو بن کر ابھری ہے لیکن سادہ اکثریت حاصل نہیں کرپائی۔ پی پی پی سر توڑ کاوش کے بعد تین نشستوں پر کامیاب ہو پائی جبکہ نون لیگ کے حصے میں دو نشستیں ہی آئیں۔ شکست خوردہ جماعتیں حسب عادت دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہیں ۔ عجب بات یہ ہے کہ دونوں جماعتوں نے انتخابات سے کئی ہفتے پہلے ہی سے دھاندلی کا راگ الاپنا شروع کردیا تھا۔ نون لیگی قیادت کا موقف مضحکہ خیز ہے! ایک جانب کہا جارہا ہے کہ سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی دراصل پی ٹی آئی پر عوامی عدم اعتماد کا اظہار ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی پر دھاندلی کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اپنے تئیں قومی قائدین کہلانے والے سیاستدان یہ بات ملحوظِ خاطر رکھنے کو تیار نہیں کہ دھاندلی کے خیالی الزامات کو بنیاد بنا کر ازلی دشمن بھارت انتخابی عمل کو متنازعہ قرار دینے کے لیے تمام دنیا میں پروپیگنڈہ شروع کر دے گا۔ 
 پی پی پی کے چیئر مین نے گو سب سے طویل انتخابی مہم چلائی لیکن اس کا یہ مطلب کیسے نکلتا ہے کہ کامیابی نے صرف ان کے ہی قدم چومنے تھے۔ کل چوبیس میں سے سات نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں ۔ دھاندلی کے الزامات ان کامیاب امیدواروں اور اُن پر اعتماد ظاہر کرنے والے ووٹرز کی بھی توہین ہے۔ ان انتخابات نے پی ڈی ایم جیسے سیاسی اتحاد کے کھوکھلے پن کو بھی نمایاں کیا ہے۔ جو جماعتیں پی ٹی آئی کو لگام ڈالنے کا ایجنڈا لے کر پورے ملک میں بھاگ دوڑ کر رہی ہیں وہ گلگت بلتستان کے الیکشن میں ایک پلیٹ فارم سے مقابلہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے مد مقابل آگئیں۔ نتیجہ شکست کی صورت نکلا تو دھاندلی کے الزامات میں پناہ ڈھونڈی جا رہی ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ مستقبل میں جب بھی انتخابات ہوئے تو پی پی پی اور نون لیگ ایک دوسرے کے انتخابی حلیف نہیں بلکہ حریف بن کر میدان میں اتریں گے۔ پی ٹی آئی کی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی بھی ایک بڑا انتخابی جھٹکا اور دن بدن کم ہوتی مقبولیت کا واضح اشارہ ہے۔ بدقسمتی سے تینوں بڑی جماعتوں کی قیادت خود احتسابی کے بجائے بے جا الزام تراشی کی روش اپنا کر انتخابات کی ساکھ اور شفافیت کو داغدار کر رہی ہیں جس کا فائدہ سفارتی محاذ پر بھارت اُٹھا سکتا ہے۔ نون لیگ سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان نے موجودہ انتخابی عمل میں مالی ترغیبات اور صوبہ سندھ میں ناقص کارکردگی کی بنیاد پر پی پی پی کو آئینہ دکھا کر پی ڈی ایم کے اتحاد کو اچھا خاصا جھٹکا لگانے کے ساتھ ساتھ سیاسی مبصرین کو بھی چونکایا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بے جا بیان بازی اور الزام تراشی سے گریز کرتے ہوئے سیاسی قیادت کھلے دل سے انتخابی نتائج کو تسلیم کر کے ووٹ کو عزت دے اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کا درجہ دینے کے عمل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ 

 

تازہ ترین خبریں

 بجلی کی قیمت میں اضافے کی تیاریاں شروع

بجلی کی قیمت میں اضافے کی تیاریاں شروع

برطانیہ نے الطاف حسین جیسے آدمی کو پاکستان کے حوالے نہیں کیا

برطانیہ نے الطاف حسین جیسے آدمی کو پاکستان کے حوالے نہیں کیا

وزیرصحت سندھ نے تعلیمی ادارے کھولنےکی مخالفت کردی

وزیرصحت سندھ نے تعلیمی ادارے کھولنےکی مخالفت کردی

پاکستان پہلےسےکہہ رہاتھاپلوامہ حملہ ڈرامہ ہےبھارت نےگزشتہ 20سال سےدہشتگردی کاڈھونگ رچایاتھا،۔ معید یوسف 

پاکستان پہلےسےکہہ رہاتھاپلوامہ حملہ ڈرامہ ہےبھارت نےگزشتہ 20سال سےدہشتگردی کاڈھونگ رچایاتھا،۔ معید یوسف 

 تحریک انصاف نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے نام کا فیصلہ کر لیا

تحریک انصاف نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے نام کا فیصلہ کر لیا

افغانستان میں موجود امریکی فوج 20سالوں کی کم ترین سطح پر آگئی

افغانستان میں موجود امریکی فوج 20سالوں کی کم ترین سطح پر آگئی

تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں معاملات طے پا گئے

تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں معاملات طے پا گئے

سندھ میں چار ہزار افسران اور ملازمین کے خلاف کارروئی شروع

سندھ میں چار ہزار افسران اور ملازمین کے خلاف کارروئی شروع

حکومت نے نعیم بخاری کو چئیرمین پی ٹی وی کےعہدے سے ہٹا دیا

حکومت نے نعیم بخاری کو چئیرمین پی ٹی وی کےعہدے سے ہٹا دیا

کوئٹہ میں دھماکہ، دو افراد نشانہ بن گئے

کوئٹہ میں دھماکہ، دو افراد نشانہ بن گئے

فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ اس لیے نہیں ہو پا رہا کیونکہ کٹہرے میں کھڑے شخص کا نام نواز شریف نہیں ہے بلکہ عمران خان ہے۔ نواز شریف 

فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ اس لیے نہیں ہو پا رہا کیونکہ کٹہرے میں کھڑے شخص کا نام نواز شریف نہیں ہے بلکہ عمران خان ہے۔ نواز شریف 

   انقلابی شاعر کا نالائق بیٹا شبلی فراز شاہی گداگر بن چکا ہے،  شازیہ مری  

   انقلابی شاعر کا نالائق بیٹا شبلی فراز شاہی گداگر بن چکا ہے،  شازیہ مری  

دیر سے آنے پر گاہک کا ڈلیوری بوائے سےکھانا لینے پر انکار

دیر سے آنے پر گاہک کا ڈلیوری بوائے سےکھانا لینے پر انکار

ملائیشیا میں پی آئی اے طیارےکی قبضےکامعاملہ ۔۔ لیز پر لیے گئے طیارے کی کمپنی کا مالک اور ڈائریکٹر بھارتی نکلے

ملائیشیا میں پی آئی اے طیارےکی قبضےکامعاملہ ۔۔ لیز پر لیے گئے طیارے کی کمپنی کا مالک اور ڈائریکٹر بھارتی نکلے