09:21 am
میں کون ہوں؟

میں کون ہوں؟

09:21 am

( آخری حصہ)
یہ بات اچھی طرح،جی بہت ہی اچھی طرح،سمجھناچاہئے کہ انسان ہونامیری اصل نہیں بلکہ’’اللہ کابندہ‘‘ہونے کی ممکنہ صورتوں میں سے بس ایک صورت ہے۔میرے وجودیعنی’’ ہونے‘‘ کی امکانی صورتیں یہ تھیں کہ میں درخت ہوتا، جانورہوتا، پہاڑہوتا،پتھر ہوتایاپھرفرشتہ وجن، مگرمیں کچھ بھی ہوتااپنے وجودکی ہرامکانی صورت میں اللہ کابندہ(مخلوق)ہی ہوتا۔اس کائنات میں میرے وجودکاایساکوئی امکان نہیں جہاں میں اصلااللہ کے بندے کے ماسواکچھ اوربھی ہوتا۔ انسان ہونامیری اصل نہیں بلکہ میرے لئے ایک حادثہ ہے،ان معنی میں کہ اللہ نے جس حال میں چاہامجھے پیداکیااوروہ مجھے انسان بنانے پرمجبورنہ تھا، یہ محض اس کا فضل ہے۔پس یہ سوال کہ’’اصلامسلمان ہویاانسان‘‘ تواس کابالکل واضح جواب یہ ہے کہ اصلاًاور حقیقتاًمیں اللہ کابندہ (مسلمان)ہوں، انسان حادثاتی طورپرہوں۔ میں لازم’’اللہ کے ساتھ ہونا‘‘ ہوں،نہ کہ اس سے ماورا کوئی ہستی۔ اپنے انسان ہونے کوڈیفائن کرنے کااس کے علاوہ میرے پاس کوئی دوسرا حوالہ نہیں،سوائے اس کے کہ میں خودمختاریت کادعویٰ کروں۔

’’میں کون ہوں‘‘اس سوال کاجواب میں جونہی اللہ کے حوالے کے بغیردینے کی کوشش کرتاہوں میں لازماًخودکواللہ سے ماورا و ماقبل وجودفرض کرلیتاہوں اوریہی الحادکی بنیادہے۔ اللہ کاوجود میرے شعورانسانیت سے ماقبل ہے، لاالہ الااللہ اسی بات کااقرارہے۔ ’’مسلمان بننے سے قبل انسان بنو‘‘اسی کلمے کاانکارہے۔(لاالہ الاالانسان) پھرجب یہ واضح ہوچکاکہ’’میری اصل انسان ہونانہیں بلکہ اللہ کابندہ (مسلمان) ہوناہے’’ تومناسب معلوم ہوتاہے کہ اب ایمان اورکفرکی حقیقت بھی واضح کردی جائے نیزیہ بھی کہ اللہ کابندہ ہوناکیوں کرمسلمان ہونے کے ہم معنی ہے۔
جان لیں کہ اصلاًوحقیقتًاہرانسان اللہ کابندہ ہی ہے،چاہے وہ اس کااقرارکرے یاانکار، کسی انسان کااس حقیقت سے انکارکرناکائنات میں  اس کے حقیقی مقام کوبدل نہیں سکتا۔اگر وہ زبان ودل سے اس حقیقت کااقرارکرلے تومومن ومسلم کہلاتاہے اوراگرانکارکرے تو کافر۔خوب جان رکھوکہ کافرکفر کرکے کسی نئی حقیقت کودریافت نہیں کرتابلکہ اپنی حقیقت کا انکارکرتاہے،اسی لئے تو’’کافر‘‘ (حقیقت کوچھپانے وجھٹلانے والا) کہلاتاہے۔ پھرجب یہ واضح ہواکہ اصلاًمیں بندہ ہوں تواب سوال پیدا ہوتاہے کہ بطورانسان میں بندہ کیسے بنوں؟ تواس کا جواب ہے’’ان الدِین عِنداللہِ الِسلام ‘‘یعنی اظہار بندگی کاواحداور معتبر طریقہ تمہارے رب کے نزدیک صرف اسلام ہے نیز ’’ومن یبتغِ غیرالِسلامِ دِینافلن یقبل مِنہ‘‘ یعنی جس کسی نے اپنی انسانیت کے اظہار کیلئے اسلام کے علاوہ کوئی طریقہ اختیار کیاتوایسے طریقے سے ظاہرکی گئی انسانیت رب کے یہاں مقبول نہ ہوگی،چنانچہ میری انسانیت معتبرتب ہوگی جب میں اسے بندگی کے اظہارکاذریعہ بناؤں اوربندگی کے اظہارکاطریقہ جاننے کامعتبرطریقہ صرف وہ پیغام ہے جسے اللہ نے اپنے آخری رسولﷺ پرنازل کیا۔اس ایک طریقے کے حوالے کے سوااظہاربندگی کے سب طریقے مردودہیں۔
جب یہ واضح ہواکہ میں اللہ کابندہ ہوں،تواللہ کایہ بندہ میں تنہائی(پرائیویٹ لائف)میں بھی ہوں اورلوگوں سے تعلقات قائم کرنے کے بعد (پبلک لائف میں)بھی۔یہ عقلی مخمصہ کسی طورقابل قبول نہیں ہوسکتاکہ تنہائی میں بطورانسان تومیں اورمیری بیوی اللہ کے بندے ہیں لیکن جونہی ہم تعلق قائم کرلیتے ہیں توہم اللہ کے بندے اوراس کے حکم کی اطاعت کے پابندنہیں رہتے۔ ایسی بات صرف ایساہی انسان قبول کرسکتاہے جوعقلی طورپرقلاش ہوچکاہو۔میں اگرواقعی اللہ کابندہ ہوں تواپنی زندگی کی ہرحیثیت میں ہوں۔اپنے سے باہر کسی غیرکومخاطب کرنے کی میرے پاس اس کے سواکوئی بنیادوحوالہ ہی نہیں نیزنہ ہی اللہ کے نازل کردہ پیغام سے باہرمیرے پاس حقوق کے تعین کاکوئی ایسادائرہ ہے کہ جس میں خودکورکھ کرمیں کسی سے ہم کلام ہوسکوں۔میں جب بھی کسی کوخطاب کرتاہوں تواس بنیادپرکرتاہوں کہ اس بابت اللہ کاحکم مجھ سے کیا تقاضا کرتا ہے،میں جب بھی کسی غیرمسلم کو خطاب کرتا ہوں تواسی حق کی طرف دعوت دیتاہوں نہ کہ اس سے ماوراحقوق کی کسی تفصیلات کے فریم ورک میں ان سے مکالمہ کرتا ہوں چنانچہ میں کسی غیرمسلم کاحق زندگی اس لئے نہیں مانتاکہ’’ہرانسان کوبطورمجردانسان‘‘کچھ ایسے فطری حقوق حاصل ہیں جن کی پابندی مجھ پرلازم ہے۔
 ایسی بات صرف ایساہی انسان قبول کرسکتا ہے جوعقلی طورپرقلاش ہوچکاہو۔میں اگرواقعی اللہ کابندہ ہوں تواپنی زندگی کی ہرحیثیت میں ہوں۔اپنے سے باہر کسی غیرکومخاطب کرنے کی میرے پاس اس کے سواکوئی بنیادوحوالہ ہی نہیں نیزنہ ہی اللہ کے نازل کردہ پیغام سے باہرمیرے پاس حقوق کے تعین کاکوئی ایسادائرہ ہے کہ جس میں خودکورکھ کرمیں کسی سے ہم کلام ہوسکوں۔میں جب بھی کسی کوخطاب کرتاہوں تواس بنیادپر کرتا ہوں کہ اس بابت اللہ کاحکم مجھ سے کیا تقاضا کرتا ہے،میں جب بھی کسی غیرمسلم کو خطاب کرتا ہوں تواسی حق کی طرف دعوت دیتاہوں نہ کہ اس سے ماوراحقوق کی کسی تفصیلات کے فریم ورک میں ان سے مکالمہ کرتا ہوں چنانچہ میں کسی غیرمسلم کاحق زندگی اس لئے نہیں مانتاکہ’’ہرانسان کو بطورمجردانسان‘‘کچھ ایسے فطری حقوق حاصل ہیں جن کی پابندی مجھ پرلازم ہے، ہرگزبھی نہیں بلکہ ایسااس لئے مانتاہوں کیونکہ یہ اللہ کاحکم ہے اور جس کی پاسداری مجھ پرلازم ہے۔حق کے تعین کاحق نہ تومیں اپنی ذاتی زندگی میں رکھتاہوں اورنہ اجتماعی میں۔’’محمدرسول اللہ‘‘کے اقرارکایہی مطلب ہے۔
اب یہ جو’’مسلمانیت‘‘کے بجائے’’انسانیت‘‘ کاحوالہ دیتے ہیں مناسب معلوم ہوتاہے کہ ایک مرتبہ ان کی اصل بات،جس کاخودان میں سے بہت سوں کوبھی ادراک نہیں،آپ کے سامنے رکھ دی جائے۔میں اپنے انسان ہونے کے بار ے میں مختلف بنیادی حوالے رکھ سکتا ہوں،مثلاًایک یہ کہ میں اصلاًوسب سے پہلے راجپوت ہوں،یایہ کہ میں اصلاًپنجابی ہوں،یایہ کہ میں اصلاًپاکستانی ہوں،یایہ کہ میں اصلاًمزدوریاسرمایہ دارطبقے کانمائندہ ہوں،یایہ کہ میں اصلاًمسلمان، ہندویا عیسائی ہوں۔اپنی ذات کے ادراک کیلئے میں جو بھی حوالہ اختیار کرتا ہوں، اسی کی بقاء وغلبے کیلئے جدوجہدکرنے کااخلاقی جوازرکھتاہوں۔
اب یہ آپ سے کہیں گے کہ تم اصلاًیہ سب نہیں ہوبلکہ یہ سب توتمہاری اصل کااظہارہیں۔اب آپ ان سے پوچھئے کہ بتایئے پھراصل میں ’’میں کیاہوں؟‘‘ تویہ آپ سے کہیں گے کہ اصل میں تم ایک آزاد وخودمختار (قائم بالذات)ہستی ہوجسے یہ حق ہے کہ وہ اپنے ارادے سے خیرکومتعین کرے۔پس مسلمان ہونایہ اصل نہیں بلکہ صرف اپنے ارادے کے تحت ایک خیرکوڈیفائن کرلیناہے ۔ یہ واحدخیرنہیں بلکہ خیرکے لاتعدادتصورات میں سے بس ایک ہے۔یعنی اللہ کاحوالہ چھوڑدو،زمین پراپنے ارادے سے بنائے ہوئے خیرکے حوالوں کو اپناؤ،اسی کیلئے جدوجہدکرو۔یہ ہے ان کے نزدیک انسان ہونے کااصلی معنی،جس کایہ شعوری یاغیرشعوری طورپراقرارکروانا چاہتے ہیں۔
ہیومن رائٹس’’ہیومن‘‘کے حقوق ہیں۔ ہیومن کاعقیدہ یہ ہے کہ انسان ایک خودمختارو قائم بالذات وجودہے۔انسان کے بار ے میں ایسا عقیدہ رکھنے والے کوملحدکہاجاتاہے۔اس ملحدکامفروضہ ہے کہ اصول عدل کے ادراک کیلئے لازم ہے کہ ہرشخص اپنے مذہب سے انکارکرکے پہلے خودکوقائم بالذات وجودفرض کرے،یعنی’’عدل کیاہے‘‘اس کاجواب معلوم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہرشخص پہلے ملحدہوجائے(لاک سے لے کررالزتک سب ہیومنز کایہی مانناہے)۔ظاہرہے اس الحادی پس منظر کیساتھ جواصول عدل اور حقوق کی تفصیلات طے کی جائیں گی وہ الحادی ہی ہوں گی۔اس ملحد (ہیومن)کااصرارہے کہ عدل وانصاف انہی حقوق کانام ہے جوہم ملحدین نے طے کئے ہیں نیزدنیا کا ہرمذہب وروایت اسی قدرحق ہے جس قدریہ ان اصولوں کی تصدیق کرتے ہوں لہٰذادنیاکے تمام مذاہب وروایتوں کے حامل انسانوں پرلازم ہے کہ وہ انہی اصولوں کے مطابق فیصلے کریں۔اگرکوئی مذہب یافکران الحادی اصولوں کے طے کردہ حقوق کومعطل کرنے کی بات کرے تویہ اسے جبروظلم قراردیتے ہیں لیکن خودیہ ملحدین دنیاکے سب مذاہب اورروایتوں کے طے کردہ حقوق معطل کرکے ان پربالجبراپنے اصول مسلط کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں چونکہ ہیومن رائٹس الحادی فریم ورک کے طے کردہ اصول ہیں لہٰذاہیومن رائٹس کے فروغ سے الحادہی کا غلبہ ہوتاہے۔
آخری بات عقیدے کے جن چند اسباق کایہاں ذکرکیاگیاانہیں خوب اچھی طرح سمجھ رکھنا چاہیے کیونکہ جدیدالحادنے عقیدوں میں جو اجاڑ پیداکیاہے اس کاسبب اسی نوع کے خوشنما دعوے واصطلاحات ہیں جنہیں دھرا دھرا کر لوگ خودبھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کاباعث بنتے ہیں۔ اوپر جو تفصیلات پیش کی گئیں یہ سیکولرحضرات کے اس مقدمے کوردکرنے اوراس کی غلطی واضح کرنے کیلئے پیش کی گئیں کہ معاشرے وریاست کی بنیاد اس قدرپررکھناچاہئے جوسب انسانوں میں مشترک ہو، چونکہ ہم اصلاً انسان ہیں نہ کہ مسلمان ہندووغیرہ،تومعلوم ہواکہ مذہب انسانوں کی بنیادی صفت اورقدر مشترک نہیں۔اسی کلیدی دلیل(پہلے واصلاًانسان ہویا مسلمان وہندو) کی بنیادپریہ لوگ مذہب کواجتماعی زندگی سے بیدخل کرنے کامقدمہ کھڑاکرتے ہیں۔ یہ جو کچھ کہاگیااسے سمجھ لیاجائے توسیکولرڈسکورس کی بنیادی غلطی واضح ہوجائے گی۔


 

تازہ ترین خبریں

تھرپاکر، زہریلے چاول کھانے سے 4 بچے جاں بحق ،22 افراد کی حالت تشویشناک

تھرپاکر، زہریلے چاول کھانے سے 4 بچے جاں بحق ،22 افراد کی حالت تشویشناک

یا اللہ رحم فرما ! محض 5دنوں میں پاکستان کے کتنے مسیحا کورونا سے جاں بحق ہو گئے ؟ پاکستانی سپر احتیاط کریں 

یا اللہ رحم فرما ! محض 5دنوں میں پاکستان کے کتنے مسیحا کورونا سے جاں بحق ہو گئے ؟ پاکستانی سپر احتیاط کریں 

طلبہ اوراساتذہ کے لیے انتہائی اچھی خبر۔۔۔حکومت نے بڑااقدام اٹھالیا

طلبہ اوراساتذہ کے لیے انتہائی اچھی خبر۔۔۔حکومت نے بڑااقدام اٹھالیا

سابق وزیراعلیٰ پنجاب انتقال کرگئے

سابق وزیراعلیٰ پنجاب انتقال کرگئے

پاکستان مہمان نواز لوگوں کی سرزمین ، سفر میں اپنی زندگی میں کبھی  فراموش نہیں کر سکوں گا،نومسلم یوٹیوبرپاکستان کی محبت میں گرفتار

پاکستان مہمان نواز لوگوں کی سرزمین ، سفر میں اپنی زندگی میں کبھی فراموش نہیں کر سکوں گا،نومسلم یوٹیوبرپاکستان کی محبت میں گرفتار

مسلم لیگ (ن)کی جانب سے لاہور جلسے میں لوگوں کو بلانے کےلئے پیسے بانٹنے کا انکشاف

مسلم لیگ (ن)کی جانب سے لاہور جلسے میں لوگوں کو بلانے کےلئے پیسے بانٹنے کا انکشاف

اپوزیشن اتحاد ، پی ڈی ایم سے حکومت کے مذاکرات ۔۔ ناقابل یقین اعلان کردیاگیا

اپوزیشن اتحاد ، پی ڈی ایم سے حکومت کے مذاکرات ۔۔ ناقابل یقین اعلان کردیاگیا

بوائے فرینڈ پر جھگڑا: لاہور کی یونیورسٹی کی تین طالبات آپس میں لڑپڑیں

بوائے فرینڈ پر جھگڑا: لاہور کی یونیورسٹی کی تین طالبات آپس میں لڑپڑیں

ایل این جی درآمد میں تاخیر،قومی خزانے کو 122ارب کا نقصان

ایل این جی درآمد میں تاخیر،قومی خزانے کو 122ارب کا نقصان

 اپوزیشن کورونا پھیلاؤ مہم چلارہی ہے اورعوام کی زندگیوں سےکھیل رہی ہے، مراد سعید

اپوزیشن کورونا پھیلاؤ مہم چلارہی ہے اورعوام کی زندگیوں سےکھیل رہی ہے، مراد سعید

پاکستانی ڈاکٹر زجلاد بن گئے ! دوران آپریشن کورونا رپورٹ مثبت آنے پر آپریشن بیچ میں چھوڑ دیا

پاکستانی ڈاکٹر زجلاد بن گئے ! دوران آپریشن کورونا رپورٹ مثبت آنے پر آپریشن بیچ میں چھوڑ دیا

وزیراعظم عمران خان آج شب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے

وزیراعظم عمران خان آج شب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے

گندا ہے پر دھندا ہے ۔۔۔ صرف 16ہزار روپے لگا کر سال کے کروڑوں روپے کمائیں  تہلکہ مچادینےوالی خبر

گندا ہے پر دھندا ہے ۔۔۔ صرف 16ہزار روپے لگا کر سال کے کروڑوں روپے کمائیں تہلکہ مچادینےوالی خبر

مولانا کو بلوچستان میں مخلوط حکومت اور دو وزارتوں کی پیشکش

مولانا کو بلوچستان میں مخلوط حکومت اور دو وزارتوں کی پیشکش