12:04 pm
گلگت بلتستان کے الیکشن

گلگت بلتستان کے الیکشن

12:04 pm

میں سب سے پہلے گلگت   بلتستان  1972ء  میں گیا۔ اس وقت مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن چکا تھا یعنی پاکستان ٹوٹ چکا تھا لیکن اس سے 6سال پہلے صدر جنرل ایوب خان کے دورِحکومت  1966ء میں شاہراہ ریشم کا آغاز ہو چکا تھا لیکن 1972ء تک صرف اس سڑک کے گرد پہاڑوں کی کٹائی کا کام ہوا تھا۔ 1969ء تک کچی سڑک پر آنا جانا شروع ہو گیاتھا ۔مانسہرہ سے تھوڑا آگے تک سڑک تعمیر ہوئی تھی۔ اس سے آگے چھوٹی گاڑیاںاور بیڈفورڈٹرک آ جا سکتے تھے۔ وہ بھی صرف دن کے وقت گاڑیاں چل سکتی تھیں۔ بیڈفورڈکا پچھلا ایک ویل سڑک تنگ ہونے کی وجہ سے کئی کئی جگہوں پر ہوا سے گزرتا تھا۔ یہ شاہراہ پاکستانی فوج کے انجینئرز اور چین کی مدد سے بنائی جا رہی تھی۔ اس کو تعمیر کرتے وقت پاکستان کے 810لوگوں نے جام شہادت نوش کیا اور چین کے 82لوگوں نے جان دے دی۔ اس وقت مشینی دور نہیں تھا۔ بارود سے پہاڑوں کو توڑا جاتا تھا اس لئے زیادہ لوگ شہید ہوئے۔ ان باتوں کا الیکشن 2020ء سے کوئی تعلق نہیں لیکن پاکستان سمیت دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس شاہراہ کی تعمیر پر کس قدر پاکستان نے قربانیاں دیں۔ اس شاہراہ کو قراقرم اور شاہراہ ریشم بھی کہا جاتا ہے۔ اس راستے سے پاکستانی علاقے سمیت مختلف ممالک کی چین تک ریشم کی تجارت ہوا کرتی تھی۔ دنیا کے عظیم پہاڑی سلسلوں قراقرم اور ہمالیہ کو عبور کر کے گزرتی ہے یہ شاہراہ درہ خنجراب کے مقام پرسطح سمندر سے اس کی بلندی 4693میٹر ہے۔ یہ دنیا کی بلند ترین بین الاقوامی شاہراہ چین کے صوبہ سنکیانگ کوپاکستان کے شمالی علاقوں سے ملاتی ہے۔ اس شاہراہ کو گوادر تک سی پیک کے ذریعے ملایا جا رہا ہے اور پاکستانی شاہراہوں کے ساتھ ملا کر اس کو  N-35 کانام دیا گیا ہے۔ 1966ء میں شروع ہونے ہونے والی یہ شاہراہ 1979ء میں مکمل ہوئی لیکن سات سال تاخیر کے بعد 1986ء میں اس کا افتتاح ہوا۔ ایک فوجی جرنیل صدر ایوب خان کے دور میں اس کا آغاز ہوا اور پھر 20سال بعد دوسرے فوجی جرنیل صدر محمد ضیاء الحق کے دور میں افتتاح ہوا۔ درہ خنجراب سے شروع ہونے والی شاہراہ حسن ابدال ضلع اٹک پنجاب آ کر موٹروے سے ملتی ہے۔ پاکستان میں اس کے راستے میںمعروف شہروں کے نام حسن ابدال، ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، بشام، پتن، کوہستان، داسو، چلاس، گلگت، علی آباد، ہنزہ، گلمیت اور آخری شہر اور چیک پوسٹ سُست ہے اس سے آگے چین میں تاشقورخان، اپل اور آخری شہر کاشغر ہیں۔ 
قیام پاکستان کے بعد جب عوامی جمہوریہ چین اور پاکستان میں دوستی کے اٹوٹ رشتے استوار ہوئے۔ تو اس شاہراہ کی ازسرنو تعمیر کا سوال پیدا ہوا۔ 3مئی 1962ء کو دونوں دوست ممالک نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کی رو سے 1966ء میں شاہراہ ریشم کا وہ حصہ بحال ہو گیا جو پاکستان کی شمالی سرحد تک آتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس قدیم شاہراہ کی دوبارہ تعمیر کا آغاز ہوا  اور پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے 62میل کے فاصلے پر حویلیاں کا مقام اس شاہراہ کا نقطہ اختتام ٹھہرا۔ تقریباً500میل طویل یہ عظیم شاہراہ جسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہا جاتا ہے، 1979ء میں مکمل ہوئی۔ جب 1972ء میں راقم پہلی مرتبہ گلگت گیا تو اس وقت گلگت شہر میں صرف ایک فردوس نامی ہوٹل تھا جس کا ایک رات کا کرایہ 5روپے تھا۔ اسلام آباد سے گلگت پی آئی اے فوکر طیارے کا یکطرفہ کرایہ صرف 66روپے فی سواری تھا۔ لفظ فوکر صرف اس لئے لکھا ہے کیونکہ اس وقت صرف فوکرچھوٹا طیارہ ہی جاتا تھا یا پھر پاک آرمی C -130بڑا جہاز جا سکتا تھا جو ہر بدھ کو صرف تازہ سبزیاں ، گوشت اور فوجی سامان  وغیرہ لے کر جاتا تھا اور پورے ہفتے کی ڈاک بھی اس کے ذریعے جاتی تھی۔ 
پنجاب کے ساتھ رابطے کا واحد ذریعہ خطوط ہی تھے۔ پی آئی اے کا جہاز موسم کی خرابی کی وجہ سے ایک ایک ہفتہ نہیں جا سکتا تھا۔ اس پورے علاقے میں پکی سڑک صرف فردوس ہوٹل سے ائرپورٹ تک تھی جو غالباً دو میل سے زیادہ فاصلہ نہیں تھا اور وہاں کار نام کی پی آئی اے والوں کی ویگنیئر ٹائپ گاڑی تھی جو مسافروں کو لانے لے جانے کے کام کرتی تھی۔ اس کے علاوہ پرانی جیپیں کرائے پر مل جاتی تھیں جو فی سواری کے حساب سے مسافر لے کر جاتی تھیں۔ وہاں کا ایک واقعہ میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ میں صبح اسلام آباد آنے کے لئے ائرپورٹ پہنچا تو یاد آیا کہ ایک بیگ ہوٹل میں ہی رہ گیا ہے، پرائیویٹ جیپ سے بیگ لے کر واپس ائرپورٹ پہنچا تو جہاز ائرپورٹ پر پرواز کے لئے رینگ رہا تھا۔ میرا سامان بورڈنگ کے بعد جہاز میں لوڈ ہو چکا تھا۔ میں سخت بے قرار ہوا اور میرے ساتھ لیٹ ہونے والے میجر پرویز مشرف بھی تھے جو بعد میں جنرل اور صدربن کر ریٹائر ہوئے۔ ہم پریشانی کے عالم میں واپس آ گئے لیکن وہ جہاز راستے میں کریش ہو گیا اور ہم دونوں کو اللہ نے بچا لیا۔دوسرے دن ایک NLCکے ٹرک سے لفٹ لے کر میں اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا تو اسی جہاز کا ملبہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر گرا ہوا نظر آیااور آرمی کے جوان ہیلی کاپٹر سے نیچے اتر کر واپس ہیلی کاپٹر میں سامان پکڑا رہے تھے ۔ہیلی کاپٹر اُوپر ہوا میں کھڑا تھا ۔اس کی نیچے اترنے کی جگہ نہیں تھی کیونکہ پہاڑی کے اوپر اونچے اور گھنے درخت تھے۔جہاز کے گرنے کی جگہ ہوا میں اڑنے والی چیلوں سے معلوم ہوئی تھی کہ وہاں  زیادہ مقدار میں کھانے کی چیز پڑی ہوئی ہے اور وہ انسانی گوشت کھانے کے لئے بڑی تعداد میںہوا میں اُڑ بھی رہی تھیں اور نیچے لپک بھی رہی تھیں ۔یہ خوفناک منظر آج بھی آنکھوں کے سامنے آئے تو بے اختیار ایک جملہ زبان سے نکلتا ہے ’’جسے رب رکھے اسے کون چکھے‘‘۔اصل موضوع گلگت             بلتستان کے الیکشن تھا اور اب بھی ہے بلکہ الیکشن سے پہلے بین الاقوامی طاقتوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ علاقہ کس حالت میں تھا اور کتنی قربانیوں، محنت اور اخراجات کے بعد پاکستان نے اس کو ترقی دی، الیکشن ختم ہو چکے ہیں۔پی ٹی آئی نے میدان مار لیا اب اپوزیشن بلکہ صرف دو جماعتوں پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے واویلا مچا رکھاہے کہ دھاندلی ہو گئی ہے ۔سو گھروں کے ایک گائوں سے لے کر دنیا کی سب سے بڑی سپرطاقت امریکہ تک کوئی بھی ہارنے والا شخص یا پارٹی شکست تسلیم کرنے کے بجائے دھاندلی کا واویلا کرتی ہے۔ میںجہاں تک گلگت      بلتستان کے لوگوں کی 48سال پہلے کی نفسیات جانتا ہوںتو اس تجربے کے لحاظ سے  بڑے دعوے سے لکھ رہا ہوں کہ وہاں کے لوگ بہت زیادہ غریب ہیں لیکن بے غیرت نہیں ۔وہ جان تو دے سکتے ہیں لیکن اپنی عزت کا کسی بھی انداز میں سودا نہیں کر سکتے ان سے سخت سے سخت مزدوری کرا لیں ، زیادہ سے زیادہ کام لے لیں لیکن وہ اپنی عزت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ ان کو ناجائز ذرائع سے پیسہ دے کر خریدا نہیں جا سکتا اگر آپ ہارنے والے امیدواروں کے ووٹروں کو سڑکوںپر لانے کی کوشش کریں تو جیتنے والے امیدواروں کے ووٹرزاپنی غیرت سے مجبور ہو کر ان سے پہلے میدان میں آ جائیں گے اور تمہارا جینا محال کر دیں گے۔ میرا بلاول بھٹو زرداری کو مخلصانہ مشورہ ہو گا کہ گلگت بلتستان کو سندھ نہ سمجھنا وہ لوگ کبھی نوابوں، سرداروںاور وڈیروں کے زیرتسلط نہیں رہے اور نہ اب زیرتسلط آنے کو تیار ہوں گے اس لئے بسم اللہ پڑھ کر نتائج تسلیم کر لیں۔