12:06 pm
مولانا کی طرف سے ’’عزت افزائی‘‘

مولانا کی طرف سے ’’عزت افزائی‘‘

12:06 pm

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                  کراچی باغ جناح میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی کی تقریر سن کر میرے سمیت متعدد پاکستانیوں کے ذہن میں یہ  سوال اٹھا تھا کہ اگر موصوف کی تقریر نہ کروائی جاتی تو بہتر ہوتا، ریاست مخالف ایجنڈا رکھنے والوں کا پی ڈی ایم کے اسٹیج سے تقریریں کرنا کسی طور مناسب نہیں ہے … لیکن گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ہونے والے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کی اندرونی کہانی کی خبریں سن کر عوام حیران رہ گئے۔
جمعیت علماء اسلا م فاٹا کے رہنما خالد جان داوڑ کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمن نے سوال اٹھایا کہ میری جماعت اور میرے ایم این ایز کو شمالی وزیرستان میں جلسہ نہیں کرنے دیا جارہا اور پی ٹی ایم نے وہاں جلسہ بھی کیا اور انہیں انتظامیہ نے محفوظ راستہ بھی دیا ، جس پر محسن داوڑ نے کہا ہم نے بزور بازو اور زبردستی جلسہ کیا … جس پر مولانا فضل الرحمن نے لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ جناب مجھے تو آپ کے بازوئوں کا علم ہے، جب ملٹری آپریشنز اور فاٹا انضمام ہو رہا تھا او ر میں تن تنہا ان کے ساتھ لڑ رہا تھا تب آپ انہی اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کے بیانیئے کے ساتھ کھڑے تھے… پی ڈی ایم کے سربراہ نے  محسن داوڑ سے یہ بھی پوچھا کہ آج سربراہی اجلاس ہے … آپ کے پارٹی  سربرا ہ کو آنا چاہیے تھا  ، آپ کیوں آئے ہیں؟ جس پر محسن داوڑ نے کہا کہ میں ذاتی حیثیت سے  پی ڈی ایم میں شامل ہوں … یہ جواب سن کر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آپ آئندہ تکلیف نہ کریں، اور کسی بھی سطح کے اجلاس یا جلسے میں آنے کی زحمت نہ کریں۔
جمعیت علماء اسلام کے راہنما کا اگر یہ موقف درست ہے تو یقین کریں  ’’مولانا‘‘ نے محسن داوڑ کی عزت افزائی کرکے نقیب اللہ محسود شہید کی روح کو تسکین پہنچائی ہے … لیکن یہاں بہت سے سوالات بھی پیدا ہوگئے ہیں جس کا جواب بھی مولانا ہی کے ذمہ ہیں … کیونکہ پی ڈی ایم کی سربراہی انہی کے ہاتھوں میں ہے … پہلا سوال یہ کہ کیا پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں کوئی دوسرا بھی ذاتی حیثیت سے شامل ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟ دوسرا سوال یہ کہ محسن داوڑ گوجرانوالہ کے جلسے میں پہنچے، کراچی کے جلسے میں خطاب کیا اور کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسہ عام میں شریک ہونے کیلئے پہنچے تو انہیں ائیرپورٹ پر روک لیا گیا، کیا یہ سارا کچھ ذاتی حیثیت میں ہی ہوتا رہا، پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کی اندرونی کہانی سن کر یہ تاثر بنتا ہے کہ جیسے ’’مولانا‘‘ پشتون تحفظ موومنٹ کے محسن داوڑ کو اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ ثابت کررہے ہیں … معذرت کے ساتھ کم از کم میں تو یہی سمجھا ہوں جبکہ ان کے حوالے سے عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ موصوف این ڈی ایس وغیرہ وغیرہ کے لئے بھی مہیا رہتے ہیں … اللہ نہ کرے کہ یہ تاثر  درست ہو۔
لیکن مولانا فضل الرحمن چونکہ بہت پہنچے ہوئے بزرگ اور دور رس نگاہیں رکھتے ہیں … اس لئے ان کی باتوں کی روشنی میں ہمیں بھی اس حوالے سے پائے جانے والے تاثر پر مزید غور کرنا  پڑے گا، یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حکومت کے ستائے ہوئے عوام نے اب کہیں جاکر پی  ڈی  ایم کے سیاسی اتحاد پر تھوڑا تھوڑا اعتماد کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں … لیکن اگر پی ڈی ایم اتحاد اتنا کمزور نکلے کہ اس کے سربراہی اجلاس  میں ایک شخص بغیر کسی دعوت کے شامل ہو … نہ صرف  شامل ہو بلکہ  پی ڈی ایم کے سربراہ سے گرما گرمی بھی کرے … عوام تو پھر یہ بات سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ جو پی ڈی ایم اپنے سربراہی اجلاس کا تحفظ نہیں کرسکتی وہ عوا م کو مسائل کے گرداب سے کیسے نکال سکے گی؟ بہرحال اس معاملے کا پلس پوائنٹ یہ بھی ہے کہ ’’مولانا‘‘  نے بغیر کسی لگی لپٹی کے سخت لہجے میں پوچھ تاچھ کرکے پی ڈی ایم کی اصول پسندی کا تاثر قائم کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔
محسن داوڑ کو بھی اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کبھی انہیں باجوڑ وکلاء کے پروگرام میں خطاب سے بزور روکنے کی کوشش او ر کبھی اسلام آباد پی ڈی ایم کے اجلاس میں ان کی ہونے والی ’’عزت افزائی‘‘ آخر ان میں کچھ توایسا  ہے کہ جو دوسروں کو ان کی ’’عزت افزائی‘‘ پر مجبور کرتاہے۔